Wed, September 16, 2026

شادی کا لَڈو!

شادی کا لَڈو!

پچاس سے نوے برس کی عمر کے وہ سبھی نیم یا فُل بابے جو پچھلے ایک عرصے سے اپنے دل میں دوبارہ شادی کا لَڈو کھانے کا خواب سجائے بیٹھے ہیں مگر شو مئی قسمت اپنی بیوی، اولاد اور حالات و واقعات کی ستم ظریفی کے سبب اب وہ بیچارے اپنے اس رنگین خواب کو بے بسی سے حسرت و یاس میں تبدیل ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ اُن سب مایوس ہوتے بابوںکے لیے ایک انتہائی حوصلہ افزا خبر ہے جسے پڑھ یا سُن کر یقینا وہ خوشی سے ایک بار پھر جی اُٹھیں گے اور وینٹی لیٹر، بیری کے پتوں، کافور اور جنازے جیسے جان لیوا خیالات کی جگہ اُن کے تصور میں سہرے کی لڑیوں اور بارات کے ساتھ شہنائیوں اور ڈھول ڈھمکے کی خوش کن آوازیں آنے لگیں گی۔ ممکن ہے آپ بھی اُن چھپے رستم بابوں میں سے ایک ایسا بابا ہوں جن کے لیے یہ ایک خوش آئند خبر ہو۔ اگر آپ واقعتا ایسے ہی ’’کھوچل‘‘ ہیں تو میرا آپ کودوستانہ مشورہ ہے کہ یہ خبر پڑھنے سے پہلے ایک بار احتیاطاً اپنے دائیں بائیں ضرور دیکھ لیں۔ مبادا مجوزہ خبر پڑھ کر خوشی کے مارے آپ خود پر قابو نہ رکھ سکیں اور اچانک ردعمل سے کوئی ایسی ویسی حرکت کر بیٹھیں جس کے نتیجے میں بیگم کے سامنے آپ کی برسوں پرانی نام نہاد شرافت کا بھید کھل جائے۔ آپ کی اس بے احتیاطی سے خدانخواستہ اگر آپ کے ’’نیک ارادوں‘‘ کی ذرا سی بھنک بھی آپ کی بیگم کو پڑ گئی تو شادی کی یہ خبر آپ کے لیے شادی مرگ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے پہلے آپ یہ سمجھیں کہ میں اس قسم کی گفتگو کر کے آپ کے ارادوں کو کمزور کر نے کی کوشش کر رہا ہوں آپ یہ خوش کُن خبر سُن لیں۔ خبر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے بشام شنگ میں چار بیٹوں نے اپنے 90 سالہ والد کی دیرینہ خواہش پوری کرتے ہوئے ان کی شادی کرا دی۔ تفصیل کے مطابق مولانا سیف اللہ کی شادی کا بندوبست ان کے بیٹوں نے خود کیا اور دلہن کی تلاش کے بعد ان کا نکاح ایک تولہ سونے کے حق مہر پر پڑھایا گیا۔ شادی کی تقریب میں نواسوں، پوتوں، پوتیوں اور اہل علاقہ کی بھرپور شرکت کی اطلاع بھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بابا جی نے یہ شادی اپنے خاندان کی رضا مندی سے کی ہے۔ البتہ اس خبر میں بابا جی کی ’’دیرینہ خواہش‘‘ کا ذکر بھی کیا گیا ہے جس سے لگتا ہے دلہن سے بابا جی کی کوئی پرانی شناسائی یا محبت تھی جسے حاصل کرنے کے لیے دونوں ’’لو برڈز‘‘ نے سازگار حالات کے انتظار میں ایک طویل مدت تک اس راز کو دنیا سے چھپائے رکھا۔ ممکن ہے بابا جی کے گھر والوں پر اب یہ راز کھل چکا ہو مگر ان کے بیٹوں کی معصومیت ملاحظہ کریں جو آخر تک یہی سمجھتے رہے کہ اپنے ابا جی کے لیے نئی امی کا انتخاب وہ خود کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہوتی اس خبر میںاگر خوشی سے چمکتے چہرے کے ساتھ گلے میں چمکیلا ہار پہنے نوے سالہ بنے میاں کی تصویر نہ ہوتی تو ممکن ہے کچھ حاسدین بالخصوص خواتین اس خبر کو دیوانے کا خواب قرار دے کر سرے سے رد کر دیتیں۔ مگر بابا جی کی شادی کی زندگی سے بھرپور تصویر خوشی سے چیخ چیخ کر اس بات کی تصدیق کر رہی ہے کہ یہ خبر سو فیصد سچی ہے۔ البتہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ خبر کتنی پرانی ہے اور بابا جی کی دلہن خیر سے ابھی تک اُن کی بیوی ہی ہیں یا خدانخواستہ بیوہ ہو گئی ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس شادی کے بعد بابا جی اور بابی جی کا موجودہ ’’سٹیٹس‘‘ کیا ہے۔ بابا جی کو اُن کی ہمت پر اکیس توپوں کی سلامی دینا تو بنتی ہے کہ انہوں نے اس عمر میں شادی کر کے ناصرف ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے بلکہ اُن لوگوںکے منہ بھی بند کر دئیے ہیں جو مرد کی عمر کو ماہ و سال کے پیمانے میں تولتے اور بڑی عمر کے مردوں کو ’’انڈر ایسٹیمیٹ‘‘ کرتے ہیں۔ اس عمر میں دوسری شادی کے محاذ پر بابا جی کی تاریخی کامیابی کے بعد یقینا اب ایسے لوگوں کو بھی کھلے دل سے شہر کی دیواروں پر لکھے اس حکیمانہ قول کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔ ممکن ہے یہ غیر معمولی خبر سُن کر کچھ مایوس اور منفی قسم کی سوچ کے حامل ڈھیلے ڈھالے بابے اپنی ناکامیوں کا دفاع ’’ہر بابے کی قسمت میں کہاں نازِ عروساں / کچھ بابے تو جیتے ہی جنازوں کے لیے ہیں‘‘ جیسے شعرکی صورت قسمت کو موردِ الزام ٹھہرا کر کرنے کی کوشش کریں۔ ایسے بزدل اور بے عمل بابوں کی تمام تر وضاحتوں کا ایک ہی جواب ہے کہ قسمت ہمیشہ دلیروں کا ساتھ دیتی ہے اور یہ کہ قسمت خود بخود نہیں بنتی بلکہ اسے ہمت، حوصلے اور لگن سے بنانا پڑتا ہے۔ بقول شاد عظیم آبادی ’’یہ بزمِ مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی/ جو بڑھ کر خود اُٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے‘‘۔ یہ واقعہ چونکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پیش آیا ہے جہاں دیگر کچھ حوالوں کے علاوہ شادیوں کے سلسلے میں بھی عوام میں مقبول تحریک انصاف کے بانی عمران خان صاحب کی حکومت ہے۔ اس لیے دیگر صوبوں کے بابے اپنے دفاع میں یہ موقف بھی اختیار کر سکتے کہ مجوزہ کیس میں دولہا میاں کو ضرور وہاں کی صوبائی حکومت کی سرپرستی میسر تھی بصورت ِ دگر ایسی عمر کے بابے اپنے بل بوتے پر اسبغول کے چھلکے یا فرشتے کا ذکر تو کر سکتے ہیں نئی شادی یا رشتے کا نہیں۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کا سارا زور چونکہ عمران خان کی رہائی پر ہے اس لیے ایک عرصے سے وہاں عوامی مفادکا کوئی ایسا کام نہیں ہوا جسے دیگر صوبوں کے مقابلے میں فخریہ پیش کیا جا سکے۔ اس لیے ہو سکتا ہے نمبر بنانے کے چکر میں خیبر پختونخوا کی حکومت سرکاری طور پر اس شادی کا کریڈٹ بھی لے لے۔ اس صورت میں دوسرے صوبوں کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیںکیونکہ اس کے بعد پھر ان صوبوں کے بابے بھی یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی طرح انہیں بھی سرکاری سرپرستی میں دوسری شادی کی سہولت دی جائے۔ میری اپنی عمر اس وقت پچاس برس سے زائد ہے مگر میں واضح کر دوں کہ خیبر پختونخوا والے بابا جی کی طرح نہ تو میرا کسی جگہ کوئی نیا یا پرانا چکر چل رہا اور نہ ہی مجھے کوئی مستقبل قریب یا بعید میں ایسی امید دکھائی دیتی ہے۔ البتہ اس کے باوجود میری دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے سمیت ہر اس مرد کو جس کی عمر پچاس برس سے زائد ہے شادی والے بابے جیسی نیک اور فرماں بردار اولاد دے۔آمین ثم آمین

ٹیگز: