Wed, September 16, 2026

یوم تکبیر، جنگ ختم، نیا شیخ مجیب

یوم تکبیر، جنگ ختم، نیا شیخ مجیب

28 مئی 1998 جب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم و مغفور کا ایٹمی پروگرام میاں نواز شریف کے دور اقتدار میں پایہ تکمیل تک پہنچا۔ میاں نواز شریف نے ہر قسم کے مالی لالچ اور دھمکیوں کے باوجود بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 6 دھماکے کر کے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ 28 مئی 2025ء 27 سال بعد یہ دن تزک و احتشام اور جوش و خروش سے منایا گیا۔ عام تعطیل کا اعلان، ملک بھر میں ریلیاں، تقریبات، ٹی وی چینلوں پر پروگرام، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی روح کو کتنا سکون و خوشی اور آسودگی ملی ہو گی۔ پاک فوج نے گزشتہ برسوں کے دوران میزائل اور اسلحہ سازی میں حیران کن مہارت کا ثبوت دیا اور حالیہ چار روزہ جنگ میں نریندر مودی کو سرنڈر مودی بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ میاں نواز شریف کو عمر دراز عطا فرمائے، وہ تین بار جب بھی وزیر اعظم بنے انہوں نے اس مملکت خداداد کی ترقی و خوشحالی کیلئے اقدامات کیے۔ یوم تکبیر ہمارے دفاع اور ناقابل تسخیر عسکری قوت کی علامت، قومیں اپنے ہیروز کو فراموش نہیں کیا کرتیں، ایک اچھی خبر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد نے رائٹر کو دئیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز کی ملاقات میں سیز فائر کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی فوجیں 22 اپریل سے پہلے کی پوزیشن پر واپس چلی جائیں، جنگ کے بادل بظاہر چھٹ گئے لیکن انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بھارت کی جانب سے کشیدگی اور الزام تراشی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو جنگ چھڑنے کی صورت میں سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور لڑائی کشمیر تک محدود نہیں رہے گی۔ جنرل ساحر شمشاد بہت کم بولتے ہیں لیکن اپنے حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بھارتی نیتائوں کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ ان میں سرنڈر مودی سرفہرست ہے جس کے سر سے چپیڑیں (تھپڑ) کھانے کے باوجود جنگ کا بھوت نہیں اترا، چار روزہ جنگ نے اسے بدحواس کر رکھا ہے۔ بھارتی علاقہ پر قبضہ کی چینی دھمکیوں اور پاکستان کو جے 35 اے طیاروں کی فراہمی کی خبروں نے پاگل کر دیا۔ مودی سیندور یاترا میں مصروف، آرمی چیف سوامی رابندر چاریہ کے آشرم میں جا پہنچے، گرو کے قدموں میں گر گئے مہاراج دیا کیجئے ہمیں آزاد کشمیر چاہیے، کارگل جنگ میں حصہ لینے والے سابق جنرل بخشی اتنے مایوس ہوئے کہ انہوں نے سر میں گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی۔ سدا سے نشانے کے کچے گولی بھی سر میں نہ مار سکے ہسپتال میں پڑے ہیں۔ ایک طرف جنگ نہ کرنے کے سگنل دوسری طرف احمد آباد کے دورے میں پاکستانی یوتھ (لوگ انہیں یوتھیوں کے نام سے جانتے ہیں) سے بھوج پوری زبان میں خطاب کے دوران باطنی خباثت کا مظاہرہ کیا۔ ’’میں یوتھ سے مخاطب ہوں اپنا کردار ادا کرو، زندگی جیو، روٹی کھائو ورنہ میری گولی تو ہے‘‘ بڑا ڈھیٹ وزیر اعظم ہے۔ ابھی تک دماغ ٹھکانے نہیں آیا۔ گودی میڈیا پر بیٹھے ایک چیلے سے خبر چلوا دی کہ بھارت عید سے ایک روز قبل یعنی 6 جون کو پاکستان پر پھر حملہ کرے گا۔ نقطے ملاتے جائیے یوتھئے کردار ادا کرنے کے لیے تیار، خان نے ملک بھر میں تحریک چلانے کی ہدایت کر دی، دو طرفہ بلکہ چاروں طرف سے حملے ابتدا 31 مئی سے ہو گئی۔ اسلام آباد سے ایک پولیس انسپکٹر کو جاسوسی کے الزام میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور اس کے قبضے سے دو موبائل فون بند لفافے سے 50 ہزار روپے اور خفیہ دستاویز برآمد کی گئیں، دیگر علاقوں سے مزید دو بھارتی جاسوس پکڑے جانے کی اطلاعات ہیں۔ بلوچستان کے شہر سوراب پر بی ایل اے کے 50 موٹر سائیکل سواروں نے حملہ کر دیا۔ بنکوں اور دیگر سرکاری اداروں میں لوٹ مار اور آتشزدگی کی وارداتوں میں مصروف رہے۔ اے ڈی سی ہدایت بلیدی اور امن و امان قائم رکھنے والے اہلکاروں نے ان کا مقابلہ کیا۔ اس لڑائی میں 8 دہشت گرد واصل جہنم ہوئے جبکہ اے ڈی سی ہدایت بلیدی سمیت چار افراد شہید ہو گئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے فوری طور پر بلوچستان پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور بھارتی پراکسی بی ایل اے کے مکمل خاتمے کے لیے بڑے آپریشن کا حکم دے دیا۔ دراصل سرنڈر مودی کو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے نیا شیخ مجیب چاہیے جو پاکستان میں رہتے ہوئے کام کر سکے۔ بچہ 
بغل میں ڈھنڈورا شہر میں ایک معروف ویلاگر نے نیا شیخ مجیب تلاش کر لیا اور انکشاف کیا کہ پیارے خان بار بار شیخ مجیب اور جنرل یحییٰ خان کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ پچھلے دنوں تو انہوں نے جنرل یحییٰ سمیت تمام ڈکٹیٹروں کی تعریف کی کہ ان کے دور میں سیاستدانوں کی بیویوں کو جیل میں نہیں ڈالا گیا۔ اللہ نہ کرے پیارے خان سرنڈر مودی کے قابو آئیں اور ملک کے خلاف مفرور مسخروں کی آواز میں آواز ملانے لگیں۔ چار روزہ جنگ میں پاک فوج کی کامیابی کے بعد سے مودی کی طرح خان کو بھی ایک پل چین نہیں آ رہا۔ فیلڈ مارشل بنائے جانے کی تقریب پر اعتراض، آرمی چیف فیلڈ مارشل کی بجائے بادشاہ بن جاتے۔ فضول اعتراض ان کے بادشاہ  بننے سے آپ کو کیا فائدہ ہوتا، سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کہ 9 مئی اور دیگر مقدمات کے فیصلے 4 ماہ میں سنا دئیے جائیں خان کو مایوسی، پریشانی اداسی اور خوف کا شکار ہو گئے۔ جنرل (ر) فیض حمید کو سزا کی خبروں اور فوجی عدالتوں میں اپنی پیشی کی اطلاعات کے بعد اتنے خوفزدہ ہوئے کہ اپنی بہنوں اور وکلاء قیادت کے ذریعے ڈیل اور ڈھیل کی پیش کش تک جا پہنچے، ’’زبان میری ہے بات ان کی‘‘ کے مصداق علیمہ باجی نے بھائی سے ملاقات کے دوران ہدایات لیں اور باہر آ کر میڈیا کے توسط سے اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دیا کہ میرے بھائی نے آپ کا کیا بگاڑا ہے سامنے آ کر ہم سے بات کریں ہمیں بتائیں کہ بھائی کیا کریں کہ رہا ہو جائیں۔ علیمہ باجی قابل احترام لیکن کیا نہیں جانتیں کہ بھائی نے اس ملک کا کیا کیا بگاڑا ہے۔ علی ظفر سمجھدار وکیل ہیں کہنے لگے کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر مذاکرات کر لیے جائیں۔ خان کیا دیں گے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مقبولیت میں اضافہ، حکومت مستحکم خان دبائو ڈالنے میں ناکام، انہیں اپنی مرضی کی ڈیل نہیں ملے گی۔ گھر کے بھیدی فیصل چوہدری نے یہ کہہ کر لنکا ڈھا دی کہ خان کمزور پچ پر ہیں کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ امریکا سے خان کی زیارت کرنے جو ڈاکٹر آئے تھے ملاقات نہ کر سکے۔ کسی نے بات کرنے کی خواہش تک ظاہر نہ کی۔ علیمہ باجی مایوس ہوئیں خان نے پھر فرعونیت اور یزیدیت کی رٹ لگانا شروع کر دی اور ملک بھر میں احتجاج کا حکم دے دیا۔ گنڈا پور اسلحہ لے کر مارگلہ خیمہ بستی سے اسلام آباد پر پھر حملہ کریں گے۔ کچھ نہیں ہوا کچھ نہیں ہو گا، خان طویل عرصہ تک جیل میں رہیں گے۔ 14 اگست تک حالات مزید خراب ہوں گے جن سے مذاکرات کی امید لگائے بیٹھے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’’جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکہ کھائیں کیا‘‘

ٹیگز: