آستانہ : قازقستان میں خواتین کے نقاب پہننے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ صدر قاسم جومارت توقایف نے ایک نئے قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت ایسے کسی بھی لباس پر پابندی ہوگی جو چہرہ مکمل طور پر ڈھانپ کر کسی کی شناخت میں رکاوٹ ڈالے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ قانون صرف مذہبی لباس کے خلاف نہیں، بلکہ ہر اس لباس پر لاگو ہوگا جو عوامی مقامات پر شناخت چھپانے کا باعث بنے۔ تاہم طبی ضرورت، موسم کی شدت، کھیلوں یا ثقافتی تقریبات میں چہرہ ڈھانپنے کی اجازت ہو گی۔
قازقستان سے پہلے وسطی ایشیا کے کئی ممالک جیسے کرغزستان، ازبکستان اور تاجکستان بھی ایسے قوانین لا چکے ہیں، جن کا مقصد عوامی مقامات پر اسلامی لباس پر پابندی عائد کرنا ہے۔