Wed, September 16, 2026

پاکستان کے بحرانوں سے نجات کیلئے جماعت اسلامی کا لائحہ عمل

 پاکستان کے بحرانوں سے نجات کیلئے جماعت اسلامی کا لائحہ عمل

ملک میں سیاسی ، معاشی ، سماجی ، تہذیبی ونظریاتی ، قومی سلامتی اور ملت اسلامیہ کو درپیش اور مسلسل بڑھتے بحرانوںکے حل کے لیے سرجوڑ کر بیٹھنے اورتبادلہ خیال کی ضرورت ہے اس کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہ تھی۔گویا بحرانوں میں گھرے پاکستان کو ان بحرانوں سے نجات دلانے کے لیے سیاسی وقومی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا منصورہ میں اجلاس 13،14،15جون2025ء امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ملکی صورت حال پر سیر حاصل بحث ہوئی اور ملک کے بحرانوں اور نجات کے لائحہ عمل پر اتفاق کیا گیا۔
پاک بھارت حالیہ جنگ جِسے ’’بنیان مرصوص‘‘ کا نام دیا گیا ، منقسم قوم کا اتحاد واتفاق خدائی معجزہ اورخالق کائنات کاخصوصی کرم واحسان ہے،اس کے ساتھ افواج پاکستان بالخصوص پاک فضائیہ کی بہترین حکمت عملی، صبر وتحمل اور جرأت مندی بھارتی جارحیت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ کامیابی اور عزت نے ہمارے قدم چومے اور پوری قوم بارگاہ الٰہی میں سجدہ شکر بجا لائی۔ بھارت کے بالمقابل کامیابی پوری قوم کے جذبوں کی بدولت اورقومی سلامتی کے تحفظ کے لیے متحد ہوجانا افواج پاکستان کی کامیابی کی ضمانت بنا۔ بھارتی غرور ،گھمنڈ اور خاک میں مل گیا۔مغرب بالخصوص امریکہ و یورپ کی انڈیا پر انحصار کی تمام تر بنیادیں ڈھیر ہوگئیں، چین ،ترکی ،سعودی عرب ،امارات ،بنگلہ دیش ، ایران،آذر بائیجان کی طرف سے پاکستان کو سیاسی و سفارتی تعاون اور مدد قابل فخر رہی،اس ضمن میںپاک چین دوستی حقیقت میں مزید گہری اورمضبوط ہوئی ہے۔ ابھی بھارت کے شا طرانہ رویّے اور انتقامی ذہن کے پیش نظر خطرات کاخاتمہ نہیںہوا، مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضہ اوراہلِ کشمیر پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ سندھ طاس معاہدہ کا یکطرفہ تعطل اور پاکستان کے لیے پانی کا ایشو بہت اہم اور وجود پاکستان کا مسئلہ ہے۔اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ قومی پالیسی تدبر ،حکمت ، دوٹوک اور دلیرانہ ہوجسے پوری قوم کی تائیدوحمایت حاصل ہو، پاک بھارت حالیہ جنگ میں قائم ہونے والی قومی وحدت و جذبہ یکجہتی کو برقرار رکھنا موجودہ حکومت اور پالیسی سازوں کی اہم ذمہ داری ہے۔ مشرق وسطی کی تازہ ترین صورت حال کے تناظر میں انڈیا کی طرف سے پھر کسی جھْوٹ اورنیو فالس فلیگ کی بنیاد پر حملہ کے ممکنہ خطرات بڑھ گئے ہیں، ایران پر حملہ کے بعد ا سرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی انڈین وزیراعظم نریندرمودی کو ٹیلی فون کال بہت معنی خیز اور الارمنگ ہے۔ثابت ہوا کہ تمام کفر ملت واحدہ ہے، ملک کی نظریاتی تہذیبی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے پوری قوم کا جسد واحد بنے رہنا ناگزیر اور وقت کا تقاضا ہے یہ امر باعث تشویش ہے کہ حالیہ پاک بھارت تنازعہ میں ہمیں او آئی سی کی حمایت حاصل نہ ہوسکی۔ 
 ایئر انڈیا کا حادثہ المناک اور افسوسناک ہے۔بھارتی عوام اور متاثرہ خاندان ہماری ہمدردی کے مستحق ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنے فرائض سے لاتعلق ہو جائیں یا کشمیر کو بھول جائیں۔ غزہ کی صورت حال نہایت بھیانک اور خطرناک ہے۔ اسرائیلی صہیونی مظالم ، قتل عام اور نسل کشی جیسے اقدامات رکنے کا نام نہیں لے رہے۔اسرائیل خوراک،پانی اور علاج کو فلسطینیوں کے خلاف جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہاہے  مصر کو اس صورت حال پر اپنے بارڈر کوکھول دینا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ امریکہ کا یہ اعلان بہت اہم ہے کہ اسرائیل کی ایران پر حملہ کی تیاری مکمل ہے اسرائیل نے آؤ دیکھا نہ تاؤ تمام بین الاقوامی قوانین اور ضابطے پامال کرتے ہوئے ایران پرحملہ کردیا ہے۔ مشرق وسطی صورت حال عالمی امن کے لیے آتش فشاں سے کم نہیں ہے ، ایران پر اسرائیل کا حملہ پوری دنیائے اسلام پر حملہ ہے اور اس کی  روک تھام کے لئے عالم اسلام کو اقدام کرنے چاہئیں۔ پاکستان کی نظریاتی اور فوجی حیثیت کاتقاضا بھی یہی ہے کہ مذمتی بیانات اور پیغامات سے آگے بڑھ کرمسلم اور غیر مسلم ممالک کو اس اقدام کے خلاف سفارتی محاذ پر کردار ادا کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ ضرورت ہے کہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اہم کردار ادا ہو۔ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں جنگ بندی کی قرار داد کو امریکہ نے ایک بار پھر ویٹو کر کے انسانیت کش اور امن دشمن اقدام کیا ہے، جو بڑا المیہ ہے۔ امریکہ کی منافقانہ پالیسی کے باوجود میاں محمد شہباز شریف کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کاپیامبر قرار دینا افسوسناک اور غیر عادلانہ ہے۔مسلم حکمرانوں نے پوری مسلم اْمت کو سلادینے کا کام کیاہے۔ حکمرانوں کی خاموشی ، بے حسی اور بزدلی ملت اسلامیہ کے لیے بڑا روگ ہے۔ عالمی اداروں بالخصوصUNO  اور مسلم قیادت کاعملی اور جرأت مندانہ اقدام حالات کا اہم ترین تقاضا ہے۔ امریکہ اور یورپ کے عوام ا ور دنیابھر کے حریت پسند، انسان دوست اورخوددار عوام کے بامعنی احتجاج، لازوال عوامی جذبوں سے بھرپور مظاہروں ،بالخصوص یونیورسٹیز کے طلبہ وطالبات کا مزاحمانہ رویہ قابل تحسین ہے ، اس میں شک نہیںکہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے ،مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل ممکن نہیں، فلسطین کی آزادی اور ارض انبیاء پر ناجائز یہودی آبادی کوان ممالک کی طرف واپس لوٹانا ہی مسئلہ کا مضبوط اورپائیدارحل ہے، جہاں سے وہ لائے گئے ہیں۔امریکہ اور یور پ غلطیوں کو تسلیم اور بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے صہیونیت کے خطرے کاانسداد کریں۔وطن عزیز پاکستان کے لیے جہاں اپنی آزادی اور بقاء کا تحفظ ضروری ہے،وہیںپر فلسطین ایشو پر قائداعظم کی فلسطین پالیسی پر مضبوطی سے قائم رہنا بھی لازمی ہے۔ناجائز ریاست اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ارادے ترک کیے جائیں۔ پوری پاکستانی قوم نے جن لازوال جذبوں کے ساتھ یکجہتی فلسطین  کے لئے دامے درمے قدمے سخنے جدوجہد کی،ان بے مثال جذبوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں ، اہل فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی پاک بھارت حالیہ جنگ میں قومی وحدت اتحاد اور مضبوطی کا ذریعہ بنا ہے۔ فلسطین اور کشمیر کی آزادی کے لیے پوری قوم کودشمن کے مقابل سیسہ پلائی دیوار بنانا ہماری جدوجہد کا بنیادی پتھر ہے۔ 
 ملک کی معاشی صورت حال خطرناک حد تک ملک اور عوام کے لیے پریشانی کا سبب ہے۔ قومی بجٹ 2025-26ء قومی امنگوں کے علی الرغم ہے اور زمینی حقائق سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا اور اس بجٹ نے واضح کردیاہے کہ حکومت معاشی محاذ پر بھی سخت ناکامی سے دوچار ہے، 25کروڑ عوام آئی ایم ایف کی غلامی پرمجبور کردیئے گئے ہیں۔45فیصد عوام خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ، زراعت ، صنعت اور تنخواہ دار طبقہ پڑ مردہ اور زبوں حالی کا شکار ہے۔ یہ معاملہ زیادہ تکلیف دہ ہے کہ حکمرانوں سمیت ریاستی ادارے اور اشرافیہ کرپشن،لو ٹ مار ،مفت خوری اور اپنی عیاشیاں ترک کرنے کو تیار نہیںہیں۔ قرضوں کی لعنت ،کرپشن اور سودی قرضوں کا بوجھ قومی سلامتی کے لیے زہر قاتل ہے۔ بلاشبہ دفاع کے لیے اخراجات ناگزیراور اہم ہیں ، لیکن قرضوں کی ادائیگی ، اشرافیہ کی عیاشیاں ،جاگیر داروں اور بڑ ے لینڈ لارڈ ز کو ٹیکس نیٹ سے باہر رکھنا۔ آئی پی پیز معاہدوں میں تبدیلی اور بنکوں کے شرح سود میں کمی کا ریلیف عوام کو نہ دینا بددیانتی اور خیانت ہے۔(جاری ہے)


 زیادتی در زیادتی یہ کہ صارفین کے لئے سستی بجلی کے لیے سولر انرجی پر بھی ناروا ٹیکس عائد کر دیئے گئے ہیں کرپشن کا بڑھتا ہوا ناسور حالات کو انتہائی غیر متوازن اور تکلیف دہ بنا رہاہے۔ بجٹ2025-26ء نے تمام تر حکومتی دعوؤں اور مہارتوں کوآشکارکردیا ہے معاشی بحران کے خاتمہ کے لیے حکمرانوں میں جان ہے اور نہ ان کی معاشی ٹیم میں صلاحیت ، دم خم اور اہلیت موجود ہے۔ سیاسی بحران کے خاتمے کی طرح معاشی بحران کے خاتمہ کے لیے بھی قومی سطح پر مذاکرات اور میثاق معیشت ناگزیر ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو سنجیدگی سے سیاسی و اقتصادی بحرانوں کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے حالات کی خرابی اور بدامنی کے باعث عوام کو جان،مال اورعزت کا تحفظ حاصل نہیں۔سندھ میں عوام، بزنس کمیونٹی ، ہندو برادری، ٹرانسپورٹرز اور چھوٹے زمیندار مکمل طور پر ڈاکوؤں کے رحم وکرم پر ہیں، اغوا برائے تاوان انڈسٹری بن چکا ہے،متاثرین کی دادرسی ہوتی ہے اور نہ کہیں شنوائی۔ 17سالوں سے سندھ میں حکمران پیپلزپارٹی عوام کو ریلیف دینے میں بری طرح ناکام ہے۔پیپلز پارٹی کا دور اقتدار با اثر مقتدر طبقات، وڈیروں اور کچے پکے کے ڈاکوؤں کا سرپرست ہے۔ دوسری جانب کاروکاری جیسی قبیح رسوم، قبائل کا تصادم اور بھتہ پرچیوںنے سندھ میں کاروبار ، تعلیم، امن اور شہری زندگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ پنجاب میں اسٹریٹ کرائمز کا دور دورہ ہے، بلوچستان میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور شاہراؤں کا غیر محفوظ ہونااور زندہ افراد کا لاپتہ کر دیا جانا، بدامنی کے فروغ کا ذریعہ ہے خیبرپختونخوا کے اکثر وبیشتر اضلاع میں ٹی ٹی پی کے خلاف فوجی کاروائیوں کے باعث امن وامان ناگفتہ بہ ہے اور ٹارگٹ کلنگ ، اغواء برائے تاوان روزمرّہ کا معمول اور حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے، معدنی وسائل پر عسکری اداروں کے قبضے سے عوام میں شدید تشویش ہے۔ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے مسودات وفاق اور فوجی ادارے کی طرف سے منظوری کے لیے صوبوں کو بھیجنا آئین اورصوبائی خود مختاری کاگلا گھوٹنے کے مترادف ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان بڑھتا الجھاؤ قومی وحدت بالخصوص وفاق پاکستان کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات معمول پرآنے سے ہی امن وامان کی صورتحال میں بہتری ممکن ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امن وامان کو یقینی بنائیں۔
بلدیاتی نظام شہری حقوق کے حصول کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ یہ تشویش ناک ہے کہ پنجاب، اسلام آباد اور کوئٹہ کے عوام بلدیاتی اداروں کی مدت مکمل ہوجانے کے بعد سال سے زائد مدت گزرنے کے باوجود مسلسل بلدیاتی انتخابات سے محروم ہیں جبکہ سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں انتخابات ہو جانے کے باوجود نمائندے ہنوز اختیارات سے محروم ہیں۔ بلدیاتی نظام کو آئینی تحفظ کے ساتھ مکمل بااختیار بنانا وقت کا تقاضا ہے نیزپنجاب، اسلام آباد اور کوئٹہ میں بلاتاخیر بلدیاتی انتخابات منعقد کرنا آئینی تقاضا ہے۔
مشترکہ مفادات کونسل(CCI)، مرکز اور صوبوں میں تعلقات کار اور نزاعات کے حل کی آئینی سکیم کاحصہ ہے اورہر تین ماہ بعد جس کا باقاعدگی سے اجلاس آئینی تقاضا ہے کئی مہینوں سے اس کا اجلاس نہ ہونے کے سبب وفاقی اکائیوں کی شکایات کا ازالہ نہیں ہوپارہا،ضرورت ہے کہ آئین کی روح کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل کو فعال بنایا جائے۔
این ایف سی ایوارڈ کے اجراء میں غیر معمولی تاخیری حربوں سے چھوٹے صوبوں میں احساس محر ومی میں اضافہ ہواہے۔ وفاقی حکومت کوبلاتاخیر این ایف سی ایوارڈ کا اجراء کرنا چاہیے۔آئین کے مطابق صوبے بھی صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ (پی ایف سی)جاری کریں۔ نیز مالاکنڈ خیبرپختونخوا میں ضم شدہ اضلاع پر ٹیکسوں کا استثناء ختم نہ کیاجائے ،اس کا فیصلہ بھی مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں ہی کیاجائے۔
ملک میں جاری سیاسی بحران اور کشمکش عوام میں سخت تشویش کاباعث ہے۔ 2024ء کے انتخابات میں جیسے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالاگیا اور فارم 45 کو پس پشت ڈالتے ہوئے فارم47 کے ذریعے حکومت مسلط کی گئی،26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نہ صرف آئین کا حلیہ بگاڑا گیا بلکہ عدالت کو بے بس کر دیا گیا۔ سویلینز کے آرمی کورٹس میں ٹرائل جیسے غیر آئینی اقدام، عدلیہ کی پامالی ،آزادیٔ اظہار رائے پر قدغن کے لیے کالے قوانین اور ملک کو ’’ہائبرڈ نظام‘‘ میں جکڑ دینا سراسر قیام پاکستان کے مقاصد اور دو قومی نظریہ سے انحراف ہے، آئین پاکستان اور آزاد عدلیہ کی بے توقیری، جائز وناجائز ذرائع سے اقتدارکے حصول کے لئے سیاسی قیادت اورجماعتوں کی اسٹیبلشمنٹ کی سہولت کاری اور سیاست کو کھیل بنانے کی روش نے عظیم نظریاتی ملک پاکستان کی شناخت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ پاک بھارت حالیہ معرکہ میں پوری قوم، قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے متحد اور یکجان ہوگئی اور سیاسی بحران وقتی طور پر زیر زمین چلے گئے لیکن اب سیاسی بحران از سر نو کروٹ لے رہے ہیں۔ فتح و کامیابی کی سرشاری میں حکومتی لاپرواہی، اقتدارکاناجائزا ستعمال، سیاسی بحران کو بڑھاوادے رہاہے۔ قومی و سیاسی محاذ پر سیاسی ڈائیلاگ سے ہی سیاسی بحران حل ہوتے ہیں ، سیاسی ڈائیلاگ بند دروازوں کو کھولنے اور مشکل گتھیوں کو سلجھانے کا ذریعہ بنتے ہیں، سیاسی حالات کا بندگلی میں چلے جاناآئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کے لیے تباہی کا سبب بنتا ہے ، 2024ء کے انتخابات کے بعد سے سیاسی بحران مسلسل سنگین ہوتا جارہا ہے اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو جان لینا چاہیے کہ فارم 47کی بنیاد پر ترتیب پانے والے انتخابی نتائج جمہوریت ، پارلیمانی نظام اور عدلیہ کی آزادی کے لیے ہلاکت خیز ہیں۔ فارم 45کے حقیقی نتائج کی بنیاد پر عوامی مینڈیٹ تسلیم کرنا ہی آئین اور جمہوریت کی حفاظت اور مضبوطی کا ذریعہ ہے ، کمزور بنیادوں پر مسلط کردہ غیر آئینی نظام، دو قومی نظریے اور پاکستان کے جمہوری کردار کے گہنانے اور خاتمہ کا باعث ہے ، پاکستان کے 24کروڑ عوام خصوصاً نوجوان نسل اس صورت حال کو قبول کرنے یا کمپرومائز کرنے کے لیے تیار نہیں۔ سیاسی بحرانوں کے خاتمے، قومی ترجیحات کے تعین اور اتفاق رائے کے لیے قومی سیاسی ڈائیلاگ ناگزیر ہے۔ قومی،جمہوری وسیاسی جماعتوں سے رابطے اور اچھے تعلقات کار سیاسی ماحول اورفضا کو بہتر بنانے میں مددگار ہوتے ہیں، سیاسی قوتوں کا آپس میں میل جول رابطہ اور تعلقات کار وقت کا تقاضا ہے۔ ہر جماعت کااپنی اپنی سیاسی حکمت عملی کے ساتھ سیاسی قیادت اور جماعتوں کے ساتھ قومی سطح پر رابطہ نہایت کارآمد اور مفید ہے۔ 
قومی سیاسی بحرانوں سے نجات، مستحکم، خوشحال اور اسلامی پاکستان کے لیے درج ذیل 12نکاتی ایجنڈا بنیاد بن سکتا ہے۔ سیاسی جمہوری قیادت ،حکومت ، ریاستی ادارے اور ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز ان نکات پر اتفاق رائے کرلیں تو ملک بحرانوں سے نجات پا سکتا ہے۔
 دو قومی نظریہ کی حفاظت، قرآن و سنت کی بالادستی ،پاکستان کے مضبوط اسلامی کردار کو ہر سطح پر قبول کرتے ہوئے عمل کریں۔ 
 آئین پاکستان کی حدود کو تمام اسٹیک ہولڈرز تسلیم کریں اور آئین سے انحراف کی روش کو یکسر ترک کرنے کا عہد کریں۔
 ملک میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخاب کے لیے تمام سیاسی جمہوری قیادت اور جماعتیں یکساں مؤقف اختیار کریں ،اقتدار کے حصول کے لیے غیر جمہوری طریقوں اور اسٹیبلشمنٹ کی سہولت کاری سے گریز کا راستہ اختیار کرکے ماضی کی غلطیوں کاازالہ کریں۔ نیز اہم ایشو جس سے چھٹکارا موجودہ وقت کاتقاضا ہے، وہ سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی پولیٹیکل انجینئرنگ کے غیر آئینی کردار کا خاتمہ ہے۔ 
اقتصادی بحرانوں کے خاتمہ کے لیے قومی میثاق معیشت پر اتفاق کیاجائے۔ قرضوں اور کشکول کی معیشت سے نجات کے لیے خود انحصاری ، خودداری کے ساتھ اپنی قوم اورقومی وسائل پر اعتماد کیاجائے ، زراعت و صنعت کو قومی معیشت کی طاقت بنانے اور تاجربرادری کو نارواسختیوں اورسرکاری محکموں کی دست برداور ناجائز حربوں سے نجات کے لئے قومی اتفاق رائے پیداکیا جائے۔
بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ، لاپتہ افراد کی بازیابی اورسیاسی قیدیوں کی رہائی جیسے مسائل آئین و قانون اور انسانی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔نیز وفاق اور صوبے ایک دوسرے کاحق غصب نہ کریں۔ 
پانی کامسئلہ، پاکستان کے وجود بقاء اور مستقبل کامسئلہ ہے ، ملک میں پانی کی تقسیم کے تنازعات کا مستقل خاتمہ کر کے بھارتی آبی دہشت گردی کے مقابل یک آواز ہوجائیں۔ 
نظام عدل کو ہر دباؤ سے آزاد کر کے عدلیہ کی آزادی پر کوئی کمپرو مائز نہ کیاجائے ، عدلیہ کی قاتل 26ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ کے ساتھ عدلیہ کے فاضل جج حضرات بھی آزاد عدلیہ کی حفاظت کے لیے اندرونی تقسیم کا تاثر ختم کریں۔
جدیدتعلیم اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کے ہنر سے نوجوان نسل کو آراستہ کر کے اعتماد بحال کرنا ،قومی ترجیح بنایاجائے۔
طلبہ کے جمہوری حقوق کی بحالی یونینز انتخاب اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے با اختیار بلدیاتی نظام پر اتفاق رائے پیداکیاجائے نیز آئین کے مطابق اقلیتوں کے تمام حقوق کا تحفظ کیاجائے۔
فلسطین اور مقبوضہ جموںوکشمیر کے تنازعات پر قومی اتفاق رائے سے مضبوط مؤقف اختیار کیاجائے ، جو بانیٔ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح ؒ کی طے کردہ پالیسی کے مطابق اور عوامی امنگوں کا ترجمان ہو۔
خطّے میں مضبوط اور پائیدار امن کے قیام کے لیے پاک چین دوستی کو مضبوط بناتے ہوئے ہر دباؤ سے آزاد رکھاجائے ، پاکستان ، ایران ، افغانستان اور ترکی کے درمیان تعلقات کو ترجیح اوّل بنایا جائے۔ نیز سعودی عرب ،امارات ، قطر ، بنگلہ دیش کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو سفارتی محاذ کا اہم ستون بنایاجائے۔
دہشت گردی پاکستان کی سلامتی اور وجود کی دشمن ہے ، عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ آل پارٹیز قومی کانفرنس منعقد کرکے قومی ایکشن پلان پر از سر نو اتفاق رائے پیدا کیاجائے بالخصوص بلوچستان کے عوام کی حقیقی شکایات کاازالہ ضروری ہے۔
 عوامیان اور پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے عوامی جمہوری مزاحمت کی لہر جتنی تیز ہو گی ،مسائل کے حل کی طرف قدم اتنی تیزی سے  بڑھیں گے۔ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے سیاسی رابطوں کی ضرورت جتنی آج ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی ، قومی وعالمی ایشوز پر قومی اتفاق رائے کے لیے مثبت قومی کردار عوام کے اتحاد اور تحرک کے لیے کشمکش محنت اور جدوجہد کے ذریعے ہی پاکستان میں آئین کی فرمانروائی اور بابرکت اسلامی انقلاب کا سورج طلوع ہو گا جو عوام کی امنگوں اور حقوق کا ترجمان ہو گا۔ 
٭…٭…٭

ٹیگز: