آفتاب کے طلوع و غروب کے درمیان خطے کی صورتحال کئی مرتبہ بدلتی ہے بعض اطلاعات امریکی ذرائع سے لیک کرائی جا رہی ہیں اور تاثر دیا جا رہا ہے یہ نہایت اہم معلومات تھیں۔ اگر واقعی ایسا ہی تھا تو دن میں چار مرتبہ یہ لیک کیوں ہو رہی ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی ذرائع اتنے تو ناپختہ نہیں کہ اپنا کوئی راز خفیہ نہ رکھ سکیں اور ہر بات طشت از بام ہوتی رہے۔ ایسی ہی خبروں میں بتایا گیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس چیف جنرل شلومی امریکہ میں گزشتہ تین روز سے امریکی اعلیٰ حکام اور سینٹ کام کے قابل ذکر حکام سے ملاقاتوں میں ایران پر حملے کے حوالے سے اہم ٹارگٹ کا فیصلہ کیا ہے کہ کب اور کس ٹارگٹ کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اگر واقعی معاملات اس سطح پر ہیں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ امریکی حملے کا ’’ڈی ڈلے‘‘ ابھی کچھ فاصلے پر ہے یا ابھی حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا جبکہ بحری بیڑوں کی نقل و حرکت دکھاوے کے لیے ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اسرائیلی جنرل شلومی اگر واشنگٹن میں ہیں تو پھر اسرائیلی وزیراعظم کے ان دعووں کی کیا حیثیت ہے جب انہوں نے روس کے صدر کو فون پر مطلع کیا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا جو کچھ کیا جا رہا ہے یا کیا جائے گا اس کا ذمہ دار امریکہ ہو گا۔
امریکہ نے خطے میں اپنی طاقت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ شاید موجودہ حالات میں اسے ناکافی سمجھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے امریکی صدر کو اس وقت اس اعلان کی ضرورت پیش آئی۔ لگتا ہے وہ روس، چین اور کوریا سے خائف ہے۔ دوسری طرف خطے کو کسی انتشار سے بچانے کے لیے مسلمان ممالک کی قیادت کی طرف سے کوششیں جاری ہیں۔ سعودی ولی عہد کے بھائی شہزادہ خالد بن سلمان سوموار کو امریکہ پہنچ رہے ہیں جہاں امریکہ کی اہم ترین شخصیات کے ساتھ ان کی ملاقاتیں طے ہیں۔ وہ اپنے اس دورے میں سعودی پرنس محمد بن سلمان کی ہدایات کی روشنی میں ایران کے حوالے سے موقف بھی سامنے رکھیں گے۔ اسلامی ممالک کے ایک اہم فیصلے کے بعد امریکی قیادت قدرے جھنجھلائی ہوئی نظر آتی ہے۔ جن ممالک میں امریکی اڈے موجود ہیں۔ ان تمام ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی زمین اور فضا ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ امریکہ کو اسلامی ممالک سے اس فیصلے کی توقع نہیں تھی۔ اس نے یہ تمام اڈے بنیادی طور پر امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے کم اور اسلامی ممالک کو متحارب رکھنے کے لیے زیادہ بنائے تھے۔ امریکہ کی نئی پریشانی یہ ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں تنہا ہے۔ آج دنیا اس کے ساتھ نہیں کھڑی۔ امریکہ نے بھرپور کوششیں کیں کہ ایران کوئی ایسا قدم اٹھائے کہ اس کے خلاف نیٹو فورسز کی کارروائی کا جواز بن سکے لیکن وہ اپنے منصوبے میں ناکام رہا۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ امریکہ نے گزشتہ تقریباً تین برس میں جو جنگیں لڑیں ان میں نیٹو ممالک نے اس کا ساتھ دیا۔ مزید برآں اکثر جنگیں مسلمان ممالک کے خرچ پر لڑی گئیں۔ جنگ پر اٹھنے والے اخراجات امیر مسلمان ممالک کی گردن پر انگوٹھا رکھ کر وصول کیے گئے جبکہ نیٹو ممالک کو ان کی حفاظت کرنے کے نام پر لوٹا گیا، بے وقوف بنایا گیا۔
امریکہ کی نئی پریشانی اس وقت شروع ہوئی جب وہ روس اور چین پر ایران کی مدد نہ کرنے، اس سے دور رہنے کے لیے مختلف مفروضے تیار کر رہا تھا۔ اس نے وینزویلا پر قبضے کے بعد چین کو پیغام بھیجا کہ وینزویلا کے تیل پر امریکی قبضے سے چین کو وہاں سے تیل کی سپلائی میں کوئی خلل نہیں ڈالا جائے گا بلکہ یہ معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ چین نے وینزویلا کو تیل کی خریداری کے لیے سات ارب ڈالر ایڈوانس میں ادا کر رکھے تھے۔ امریکہ نے یہ بھی یقین دلایا کہ اس کی ادا کردہ رقم کا پاس کیا جائے گا اور تیل بھجواتے ہوئے اس کی قیمت کا تقاضا نہیں کیا جائے گا۔ یہاں امریکہ ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتا تھا، اس کا خیال تھا کہ وینزویلا سے تیل کی چین کو ترسیل کے سبب امریکہ چین تعلقات مزید خراب نہیں ہوں گے اور کسی نہ کسی طرح وہ چین کو ایران کی عملی مدد سے کچھ دیر کے لیے روک سکے گا۔ امریکہ چین کو ایران کی مدد سے روک رہا تھا کہ اسے اطلاع ملی ایک اور طاقتور ملک بھی ایران کے ساتھ کھڑا ہے جو کسی بھی گھمسان کے رن میں ایران کی مدد کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ یہ ملک شمالی کوریا ہے جس نے مختلف موقعوں پر امریکہ اور مختلف امریکی صدور کو دو ٹوک الفاظ میں سمجھایا کہ شمالی کوریا کے مفاد پر ضرب لگانے کی کسی بھی امریکی کوشش کے نتیجے میں وہ اپنی میز کے ایک کونے میں لگے سرخ بٹن پر انگلی کا دبائو بڑھا دیں گے اور یہ فیصلہ کرنے میں انہیں فقط ایک منٹ لگے گا۔
امریکہ نے جب اپنے بحری بیڑوں کو ایران کے طرف بڑھنے کی ہدایت کی تو اس کا خیال تھا کہ ایرانی قیادت کے ہوش اڑانے کے لیے یہ موومنٹ کافی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ساتھ ہی بیان داغ دیا کہ ان کا ’’آرمیڈ‘‘ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، آگے آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ اس بیان کے ساتھ ہی پینٹاگون، سی آئی اے اور تمام فوجی اداروں کے مختلف ونگز کو ہدایات جاری کی گئیں کہ ایران میں ہلنے والے پتے پر بھی نظر رکھیں، انہیں یقین تھا کہ امریکی صدر کے بیان کے بعد ایرانی رہبر آیت اللہ خامنہ ای کو کسی خفیہ بنکر میں منتقل کیا جائے گا۔ میزائلوں کی برسات کرنے والے بیڑوں کو ایکٹو کرنے کا کام شروع کیا جائے گا جبکہ چین یا روس کی طرف سے ایران کو منتقل ہونے والے سامان حرب کی ترسیل بھی سامنے آئے گی۔ امریکی ادارے بہت چوکنے تھے لیکن وہ ایران کے اندر کسی بھی دفاعی سرگرمی کا سراغ نہ لگا سکے۔ وہ کسی ایک فون پر ہونے والی گفتگو کے سگنل تک بھی نہ پہنچ سکے، اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اول یہ ہے کہ گزشتہ برس امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد ایران میں ’’ریڈ الرٹ‘‘ کی کیفیت ختم نہیں ہوئی تھی جو جہاں تھا وہیں تھا، اسے مزید کوئی نئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں، گزشتہ حملے سے قبل ہی طے کیا جا چکا تھا کہ اب اور آئندہ کیا کرنا ہے لہٰذا کوئی چیز مانیٹر نہ کی جا سکی۔
امریکیوں کو ایک جہاز ایران سے پرواز کر کے ترکیہ جاتا نظر آیا تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی انہیں یقین تھا کہ اس جہاز میں ایرانی سپریم لیڈر اپنی ٹیم کے ہمراہ موجود ہیں اور کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو رہے ہیں لیکن ٹھیک تھوڑی دیر بعد ان کی خوشیاں خاک میں مل گئیں۔ جب ایرانی سپریم لیڈر ایک مسجد میں پہنچے اور انہوں نے قوم سے لہو گرما دینے والا خطاب کیا۔ دوسری وجہ جس کے سبب امریکہ کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ وہ چین یا روس کی طرف کا دیا گیا وہ دفاعی حصار بھی ہو سکتا جس نے ایران میں انٹرنیٹ بند ہونے کے بعد ہر بات پر ایسا دبیز پردہ ڈال دیا ہے جس کے پار پہنچنا فی الحال امریکی اور اسرائیلی مشینوں کے بس کی بات نہیں۔ چین کا سیٹلائٹ جو کچھ ریکارڈ کر رہا ہے۔ ایران کو اس تک رسائی دی جا چکی ہے۔ امریکی بحری بیڑا، اس کے اہم فوجی اڈے و تنصیبات اب ننگے سر ہیں۔