اسلام آباد : صدر مملکت کی جانب سے نو ماہ بعد طلب کیے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آج اہم قوانین کی منظوری دی جائے گی۔ یہ اجلاس آج صبح گیارہ بجے ہوگا اور اس کا 15 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں جن اہم بلز پر بحث اور منظوری متوقع ہے ان میں قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین ترمیمی بل 2025، حیاتیاتی اور زہریلے ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے کنونشن عملدرآمد بل 2024، اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2023 شامل ہیں۔
اس کے علاوہ نیشنل یونیورسٹی برائے سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد کا قیام، اخوت انسٹیٹیوٹ قصور، اور گھرکی انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے بل بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، صحافیوں اور میڈیا ورکز کے تحفظ سے متعلق ایک بل بھی پیش کیا جا سکتا ہے، جبکہ اقلیتوں کے حقوق کمیشن اور پاکستان اینیمل کونسل کے بلز بھی زیر بحث آ سکتے ہیں۔
اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمن بھی خطاب کریں گے، اور موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر اس اجلاس کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ یہ اجلاس نہ صرف ملکی قانون سازی کے حوالے سے اہم ہے بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔