Wed, September 16, 2026

عوام کا راج کب لگے گا ؟

عوام کا راج کب لگے گا ؟

کے پی کے میں گورنر راج لگانے کی خبریں آرہی ہیں، اس ملک میں خیر کی خبر اب کوئی نہیں آتی، پاکستان میں کبھی ’’گورنر راج‘‘ لگتا ہے کبھی ’’جنرل راج‘‘ لگتا ہے، عوام کے راج کا اس ملک سے تصور ہی اب ختم ہوگیا ہے اور اس تصور کے ختم ہونے کے سب سے بڑے ذمہ دار عوام خود ہیں، پنجاب کے عوام اس معاملے میں اب سب سے آگے ہیں، پاکستان میں ظلم و ستم کے راج کو سب سے زیادہ قبولیت خیر سے اب پنجاب سے ہی مل رہی ہے، سیاسی و ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے طاقت کا جتنا اندھا دھند استعمال پنجاب میں ہوا اور اب تک ہو رہا ہے اسے ریاست کا ’’حق ‘‘ سمجھ کر پنجاب میں جس طرح قبول فرما لیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی، ماضی میں پنجاب مزاحمت کا سب سے بڑا استعارہ تھا، حکمرانوں کے عوام دشمن فیصلوں پر سب سے زیادہ مزاحمتی تحریکیں پنجاب سے ہی اْٹھتی تھیں، عوام اپنے حقوق کے لیے ہڑتالیں کرتے تھے، بڑے بڑے مظاہرے کرتے تھے، حکمرانوں کے ناک میں دم کر دیا کرتے تھے جس کے بعد حکمران فوری طور پر اپنے عوام دشمن فیصلے واپس لینے پر مجبورہو جاتے تھے، نواب آف کالا باغ امیر محمد خان پنجاب کے سخت گیر گورنر تھے، اْن کے بارے میں مشہور تھا اْن کے ہاں اپنا کوئی فیصلہ چاہے وہ کتنا ہی غلط کیوں نہ ہو واپس لینے کا تصور تک نہیں تھا، ایک بار اْنہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور جسے اب جی سی یو کہہ کے پکارتے یا بگاڑتے ہیں کے ہر دل عزیز پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد کو اپنی کوئی بات نہ ماننے پر اْن سے ناراض ہو کر اْنہیں تبدیل کر دیا، گورنر کے اس فیصلے کے خلاف صرف طلبہ ہی نہیں عوام بھی سڑکوں پر نکل آئے، عوام کی اس بے پناہ طاقت کے سامنے ایک انتہائی سخت گیر گورنر جس کے بارے میں یہ تاثر عام تھا وہ موت قبول کر سکتا ہے اپنا کوئی فیصلہ واپس نہیں لے سکتا، وہ اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہوگیا، طلبہ کے اس نعرے ’’ہمارا باپ ہمیں واپس کرو‘‘ کے سامنے اْس کی ساری اکڑ فوں دم توڑ گئی، یہ بہت چھوٹی مثال ہے جو اس وقت اچانک مجھے یاد آگئی ہے، اس سے بڑی بڑی مثالیں ہیں بے شمار عوام دشمن فیصلوں پر پنجاب نے جب مزاحمت کی وہ فیصلے حکمرانوں کو واپس لینے پڑ گئے، مارشل لاء میں کوئی کھسکتا بھی نہیںہے، پنجاب اس کے خلاف بھی مزاحمت کرتا رہا ہے، سخت گیر حکمرانوں یا فوجی حکمرانوں کے خلاف مزاحمتی شاعری بھی زیادہ تر پنجاب سے ہی ہوئی، حبیب جالب کا نام اس حوالے سے ہمیشہ زندہ رہے گا، مزاحمتی ادب اور مزاحمتی صحافت میں بھی پنجاب ہمیشہ آگے رہا، اس حوالے سے کئی نام لئے جاسکتے ہیں جنہوں نے جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا واقعی جہاد سمجھا، اس کے نتیجے میں حکمران یا فوجی حکمران اپنے غیر آئینی اقدامات کی حد پار کرنے سے گریز کرتے تھے، اْنہیں عوام کا کچھ نہ کچھ ڈر خوف ضرور ہوتا تھا جو، اب مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے، پنجاب نے ہمیشہ’’بڑے بھائی‘‘ کا کردار ادا کیا یہ کردار اب بہت پیچھے چلے گیا ہے، ان حالات میں کے پی کے میں گورنر راج اگر لگا اسے کے پی کے کا ’’سیاسی مسئلہ‘‘ قرار دے کر اس کے خلاف کوئی توانا یا بلند آواز پنجاب سے شاید نہیں اْٹھے گی، حتی کہ پنجاب سے وہ آواز بھی نہیں اْٹھے گی جو بڑے فخر سے یہ دعویٰ کرتی تھی’’دو ہزار تیرہ کے الیکشن میں ہم چاہتے تو کے پی کے میں اپنی حکومت (نون لیگ کی) بنا سکتے تھے مگرہم نے عمران خان کی اکثریت کا احترام کیا‘‘، جمہوریت سیاست اور اکثریت کا وہ احترام اب منوں مٹی تلے دفن ہوگیا ہے، ووٹ کو عزت دینے کا سفر بوٹ کو عزت دینے کے مقام پر آ کر ہمیشہ کے لیے اب رک گیا ہے، کے پی کے سے آخر مسئلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے ایک مقبول سیاسی رہنما کے حق میں سب سے بلند و توانا آوازیں کے پی کے سے اْٹھتی ہیں، یہ بلند و توانا آوازیں اْٹھنا بند ہوجائیں کے پی کے سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں رہے گا، اس وقت ناراضگی بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ وزیراعلیٰ کے پی کے کی تبدیلی ہے جو مرضی کے مطابق نہیں ہوئی، علی امین گنڈاپور بڑی جلدی قابو میں آگئے تھے، سہیل آفریدی پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو رہا ہے، فی الحال اپنے صرف ایک مطالبے’’عمران خان سے اْن کی ملاقات کروائی جائے ‘‘ سے اگر وہ پیچھے ہٹ جائے صوبے میں گورنر راج لگنے کی دھمکیاں خود بخود دم توڑ جائیں گی، وہ اپنی اس ضد پر اڑے رہے پھر بھی میرے خیال میں گورنر راج لگانا اتنا آسان نہیں ہوگا، نہ ملک کے سیاسی و اقتصادی حالات اس’’فسادی کام‘‘ کی اس وقت اجازت دیتے ہیں، سیاسی و اصلی حکمرانوں کو اس حوالے سے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے، یہ فیصلہ کسی کے تابوت میں آخری کیل بھی ثابت ہوسکتا ہے، قانون اس ملک میں ہے کوئی نہیں وزیر قانون البتہ دو تین ہیں، ان ہی میں سے ایک وزیر مملکت برائے قانون فرماتے ہیں’’کے پی کے کی عوام کو کب تک بے یارومدگار چھوڑ دیں ؟‘‘، میں حیران ہوں اْنہیں صرف اْس صوبے کے عوام کی اتنی فکر کیوں کھائے جا رہی ہے جہاں اْن کی مخالف سیاسی جماعت کی حکومت ہے ؟ سندھ میں عوام کے ساتھ جو کچھ اْن کے اتحادی حکمران کر رہے ہیں اور بلوچستان میں جو کچھ اْن کے آقا حکمران کر رہے ہیں اس کی کوئی فکر ان وزیروں مشیروں کو کیوں نہیں ہے ؟ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کی اپنے لیڈر سے جیل میں ملاقات سے کون سی ایسی قیامت ٹوٹ پڑے گی جس سے حکمران اتنے خوفزدہ ہیں ؟ ایک اور وفاقی وزیر نے فرمایا’’عمران خان کے ساتھ ملاقات کا مطالبہ غیر آئینی ہے، فرض کر لیں اْن کی بات درست تسلیم کر لی جائے ‘‘یہ مطالبہ غیر آئینی ہے‘‘ تو جہاں وہ اور اتنے غیر آئینی مطالبے کسی ’’بدروح‘‘ کو راضی کرنے کے لیے مان رہے ہیں ایک غیر آئینی مطالبہ بچی کھچی سیاست اور جمہوریت کی لاج رکھنے کے لیے بھی مان لیں، اس سے کون سی اْن کی حکومت چلے جانی ہے ؟ جیل میں بند ایک شخص سے وہ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں بلکہ پورا نظام خوفزدہ کیوںہے ؟ اپنے حق میں اتنی آئینی ترمیمیں جو اصل میں غیر آئینی ترمیمیں ہیں کروانے کے باوجود جیل میں بند ایک شخص سے مسلسل کوئی خوفزدہ ہے پھر اْس کا اللہ ہی’’حافظ‘‘ ہے۔

ٹیگز: