گیارہ اگست 2025 کو بلوچستان، کوئٹہ کے علاقے افنان ٹاؤن میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارنمنٹ (سی سی ڈی) نے ایک بروقت اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے، فتنہ الہندوستان کی تنظیم بی ایل اے کے خود کش سکواڈ ’’مجید بریگیڈ‘‘ (جس کو حال ہی میں امریکہ نے باقاعدہ کالعدم قرار دیا ہے)، کا ایک اہم سہولت کار ڈاکٹر محمد عثمان قاضی کو گرفتار کر کے پاکستان کو ایک بڑے سانحے سے بچا لیا۔ ڈاکٹر عثمان قاضی بلوچستان یونیورسٹی اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS) کا گریڈ 18 لیکچرار ہے، نے اپنے اعترافی ویڈیو بیان میں بتایا کہ اس نے ملک کے اچھے اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ قائد اعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور ایم فل کیا اور پھر پشاور یونیورسٹی سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے وظیفے پر پی ایچ ڈی کی۔ اس کی اہلیہ بھی سرکاری ملازمہ ہے۔ گرفتار عثمان قاضی نے بتایا کہ جب 2020 میں وہ پشاور یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ وہاں سے وہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد گیا جہاں اس کی تین دوستوں سے ملاقات ہوئی جو فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیم بی ایل اے میں شامل تھے۔ بعد میں ان میں دو مارے گئے، تیسرے دوست ڈاکٹر ہیبتان عرف کالک نے مجھے باقاعدہ تنظیم میں شامل کیا اور وہاں سے میرا رابطہ بشیر زیب سے کرایا گیا، اور یہ سارے رابطے ٹیلی گرام کے ذریعے ہوتے تھے۔ ڈاکٹر عثمان قاضی کے مطابق کوئٹہ آنے بعد اس سے تین کاموں میں سہولت کاری لی گئی۔ تنظیم نے اس کا نام ’’امیر‘‘ رکھا۔ پہلا کام یہ تھا کہ شیر دل عرف بوہیر (دہشت گرد) جو قلات میں فورسز کے ساتھ لڑائی میں زخمی ہوا تھا تو میں نے اس کو علاج کے لیے جگہ دی۔ وہ کئی دن میرے پاس رہنے کے بعد واپس چلا گیا۔ ڈاکٹر عثمان نے بتایا کہ گذشتہ سال نومبر میں ڈاکٹر ہیبتان نے ایک بندے کو رہائش فراہم کرنے کا کہا جو دو راتیں میرے پاس ٹھہرا اور وہ خود کش حملہ آور رفیق بزنجو تھا، جس نے کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر خود کش حملہ کیا جس میں 32 افراد شہید ہوئے تھے، جن میں 10عام شہری اور باقی سکیورٹی اہلکار تھے۔ مزید بتایا کہ بعد میں ڈاکٹر ہیبتان نے ایک اور ٹارگٹ دیا جس میں، نعمان عرف فیدک نامی شخص سات آٹھ دن میرے پاس رہا پھر میں نے اس کو جمیل عرف نجیب کے حوالے کیا جس کو 14 اگست کی کسی تقریب میں استعمال کیا جانا تھا۔ اپنے اعترافی بیان میں گرفتار ملزم عثمان قاضی نے اعتراف کیا کہ اس نے ایک پستول بھی لیا، جس کو اس نے ایک خاتون کے حوالے کیا، وہ ٹارگٹ کلنگ سکواڈ کو دیا گیا اور کسی سرکاری ملازم کو نشانہ بنانے میں استعمال ہوا۔ راقم الحروف اپنے گذشتہ کئی کالمز میں اس بات کا برملا اظہار کر چکا ہے کہ اب کے بار بلوچستان میں نام نہاد آزادی کی اور بلوچ عوام کے حقوق کا دعویٰ کرنے والی شدت پسند، دہشت گرد تنظیموں کا ٹارگٹ ان پڑھ اور مدارس کے بچے نہیں بلکہ اب ان کا نشانہ تعلیم یافتہ بلوچ نسل اور یونیورسٹیاں ہیں۔ درحقیقت ہندوستان کے پروردہ ایجنٹوں اور کچھ ضمیر فروشوں نے بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے تاریخی حقائق کو مسخ کر پیش کیا، محرومیوں کی من گھڑت کہانیاں سنا کر، اور دہشت گردی کو آزادی کی جدو جہد سے جوڑا اور پھر ان نوجوانوں کو پہاڑوں پر پُرتعیش زندگی کے جھوٹے خواب دکھا کر ان کے ہاتھوں سے کتابیں چھین کر ہتھیار تھما دئیے اور (Narcoterror) نارکوٹیرر جیسی ادویات کھلائیں جن کے بعد یہ اپنے حواس کھو بیٹھتے ہیں اور انسانوں سے وحشی اور درندے بن گئے۔ قومی دھارے میں شامل ہونے والے فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن پارٹی کے اہم کمانڈر نجیب اللہ نے بتایا تھا کہ یہ تنظیمیں تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ پہاڑوں پر انہیں دو قسم کی ٹریننگ دی جاتی ہے ایک جسمانی ٹریننگ اور دوسری ذہنی ٹریننگ جس میں مختلف قسم کی تشدد پر مبنی کتابیں پڑھا کران کی برین واشنگ کی جاتی ہے۔ فتنہ الہندوستان کے غلاموں کا یہ بیانیہ سراسر جھوٹا اور من گھڑت ہے کہ نوجوان
محرومیوں کی وجہ سے ان تنظیموں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں، دراصل یہ پراپیگنڈا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو جائز قرار دینے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ عثمان قاضی جو خود 18گریڈ کا لیکچرار ہے، اس کی اہلیہ سرکاری ملازمہ ہے، والدہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمہ اور پنشنر ہیں، بھائی ریکوڈک منصوبے میں ملازم اور سرکاری وظیفے پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکا ہے۔ گرفتار ملزم اور اس کا خاندان نہ صرف تعلیم یافتہ بلکہ مالی طور پر مستحکم بھی ہے، ان کے پاس سرکاری ملازمتیں اور سکالر شپس تھیں۔ یہ کسی طرح بھی محرومی کا شکار نہیں۔ واضح رہے کہ بی ایل اے کا کالعدم ونگ (مجید بریگیڈ) تین چار (Category) میں کام کرتا ہے۔ پہلے درجہ میں ان کے تربیت یافتہ لوگ عام لوگوں کو مختلف حربوں سے ورغلاتے ہیں اور ان کو پہاڑوں پر دہشت گردی کی خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔ بعد ازاں یہی لوگ پہاڑوں پر جا کر لڑتے اور خود کش حملے کرتے ہیں۔ دوسری قسم سہولت کاری ہے، جس میں ان کے سہولت کار خود کش حملہ آوروں کو مدد فراہم کرتے ہیں اور اس کیٹیگری میں خواتین بھی شامل ہوتی ہیں، جن کو بلیک میلنگ کے ذریعے خود کش حملے کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ستمبر 2024ء میں تربت سے گرفتار ہونے والی بی ایل اے کی خودکش بمبار عدیلہ بلوچ کی کہانی اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے۔ تیسری کیٹیگری اعلیٰ سطح کا منظم اور پیچیدہ (Sophisticated) لیئر ہے۔ یہ پہلی بار ہے مجید بریگیڈکے اتنی بڑی (Sophisticated) سطح کا ایک شخص ڈاکٹر عثمان قاضی پکڑا گیا ہے۔ یقینا یہ ریاست کی بڑی کامیابی ہے کہ اس نے دہشت گردوں کے ایسے نیٹ ورک کو توڑا جو بظاہر مطالعہ پاکستان کا پروفیسر بن کر طلبہ کو پڑھا رہا تھا، مگر درحقیقت محتاط انداز میں طلبہ کی ذہن سازی کر رہا تھا۔ ایسے غدار دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، جن کا خاتمہ دشمن سے پہلے ہونا چاہیے۔ سی سی ڈی نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر عثمان قاضی کے قریبی ساتھی میر خان محمد لہڑی کو بھی گرفتار کر لیا ہے، وہ بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، اس نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد بلوچستان میں پراسیکیوٹر انسپکٹر بنا اور دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتا رہا اس نے درجن سے زائد وارداتوں میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ آخر میں تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں سے اپیل ہے کہ وہ ایسے عناصر کی صحبت سے دور رہیں۔