لندن / واشنگٹن :غزہ میں جنگ کے بعد کے انتظامات کے لیے امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے امن منصوبے میں سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر کا ممکنہ کردار سامنے آنے کے بعد عرب دنیا اور فلسطینی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے میں ایک عبوری بین الاقوامی اتھارٹی کا تصور دیا گیا ہے، جس کا مقصد غزہ میں تعمیر نو، نظم و نسق اور سکیورٹی کی نگرانی کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ اس ادارے کے سربراہ ہوں گے جبکہ سر ٹونی بلیئر اس میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے ٹونی بلیئر کو "بہترین مذاکرات کار" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اہم مشیر کی حیثیت سے منصوبے کا حصہ ہوں گے۔ بلیئر پہلے ہی اسرائیلی، امریکی اور عرب رہنماؤں سے متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔
ٹونی بلیئر 2007 سے 2015 تک مشرقِ وسطیٰ کے لیے "کوارٹیٹ" کے خصوصی ایلچی بھی رہ چکے ہیں، تاہم ان کی توجہ زیادہ تر معاشی منصوبوں پر رہی۔ فلسطینی حلقے انہیں ایک ایسے شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں جو اسرائیل اور مغرب کے بہت قریب رہے ہیں، اور ان پر فلسطینیوں کے حقوق کے لیے مؤقف اختیار نہ کرنے کا الزام بھی لگاتے ہیں۔
ان کا سب سے متنازع کردار عراق جنگ میں برطانیہ کی شمولیت ہے، جو آج بھی ان کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔ 2003 میں امریکہ کے ساتھ مل کر عراق پر حملہ کرنے کے فیصلے کو عرب دنیا آج بھی نہیں بھولی۔ اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کی خصوصی مندوب فرانچسکا البانیز نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا "ٹونی بلیئر؟ ہرگز نہیں۔ فلسطین سے دور رہیں۔
حماس کے رہنماؤں نے بھی بلیئر کے ممکنہ کردار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے کہا کہ بلیئر کو غزہ کا نظم و نسق سنبھالنے کے بجائے عراق جنگ پر مقدمے کا سامنا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، "بلیئر سے جُڑا کوئی بھی منصوبہ بری علامت ہے۔"
کئی فلسطینی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بلیئر کا ماضی، خاص طور پر کوارٹیٹ میں ان کی کارکردگی، اعتماد کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیئر کی کامیابی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب وہ اسرائیل اور امریکہ سے فاصلہ برقرار رکھیں،فلسطینی اتھارٹی اور عوامی نمائندے ان پر اعتماد کریں اور ان کا کردار انتظامی کے بجائے مشاورتی سطح پر محدود ہو۔
برطانیہ کے سابق سفارتکار سر سائمن فریزر نے کہا "بلیئر نے فلسطینی مسئلے میں دلچسپی ضرور دکھائی، لیکن عرب دنیا اب بھی عراق کو نہیں بھولی۔چیتھم ہاؤس تھنک ٹینک کی صنم وکیل کے مطابق ٹونی بلیئر کی شخصیت پر بحث امن منصوبے کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا رہی ہے۔ ان کے مطابق منصوبے میں ٹائم لائن، طریقۂ کار اور فریقین کی رضامندی جیسے اہم نکات ابھی تک غیر واضح ہیں۔
"صرف بیانات اور شخصیات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، جب تک منصوبہ فلسطینی خودمختاری کو تسلیم نہیں کرے گا، یہ ایک اور ناکام کوشش ہو سکتی ہے۔"