Wed, September 16, 2026

روسو کی کتھا اور یورپ کی روشن خیالی کا زمانہ 

روسو کی کتھا اور یورپ کی روشن خیالی کا زمانہ 

روسو کا محبوب ترین شہر جنیوا تھا۔ مذہبی بندشوں اور حالات کے اتار چڑھاو¿ کی وجہ سے وہ جنیوا میں زیادہ نہ رہ سکا۔ انھی حالات نے اس کی مخصوص شخصیت کو تشکیل دیا تھا۔ روسو کی زندگی میں ابتدا ہی سے ایسے واقعات پیش آئے جو اسے دوسروں سے مختلف شخصیت بنا رہے تھے۔ اس کی پیدائش کے وقت اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا، بعد ازاں اس کے والد نے شہر چھوڑ کر دوسری شادی کر لی اور روسو کی پرورش اس کے گھڑی ساز چچا کے ذمے ٹھہری۔ انھوں نے روسو کو ایک مدرسے میں بھرتی کرا دیا۔ وہاں کے مذہبی مبلغین کے ساتھ روسو کا لمبے عرصے تک گزارا نہ ہو سکا۔
اس کے معاشی حالات ویسے ہی تھے جیسے اکثر مہم جو شخصیات کے ہوا کرتے ہیں۔ اس نے کئی طرح کے کاموں کو ذریعہ معاش بنایا جن میں موسیقی اور کلرکی جیسے کام بھی شامل ہیں لیکن کسی بھی جگہ ٹک کر کام نہ کر سکا۔ وہ اپنے لا ابالی پن کی وجہ سے باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے میں بھی ناکام رہا۔ اس کے زیادہ تر اساتذہ اسے نکما اور کمزور طالب علم گردانتے تھے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ دنیا کے تدریسی چلن میں کوئی تو ایسی کمزوری موجود ہے جس کی وجہ سے ہمیں بہت سے مفکر، فلسفی حتیٰ کہ سائنسدان بھی نصابی حساب سے کمزور اور ناکام نظر آتے ہیں۔ خود ہمارے ملک میں بھی یہ مسئلہ پایا جاتا ہے۔ موجودہ نصابی کسوٹی پر پورا اترنے والے طلبا بڑے دماغ ثابت نہیں ہو پاتے جب کہ اس کے بر عکس مختلف شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد نصاب کے باغی رہے ہوتے ہیں۔ روسو کی زندگی بادی النظر میں بکھری ہوئی نظر آتی ہے۔ اس نے اپنے اعترافات میں بہت سی ایسی باتوں کا اظہار کیا جو حیران کن ہیں۔ خود اس کی شریکِ حیات کی شخصیت اور روسو کا اس پر غیر متزلزل یقین بھی روسو کے دوستوں کے نزدیک حیران کن رہا ہے۔ 
ان دنوں فرانس میں مذہبی تعصب نے ایک ان دیکھی جنگ بپا کر رکھی تھی۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ایک دوسرے کے خلاف فرقہ وارانہ بنیادوں پر شدت سے کام کر رہے تھے۔ فرانس میں بستیاں بھی اسی فرقہ واریت کے نام پر آباد کی جاتی تھیں۔ لوگوں کو لالچ دے کر ان کا فرقہ تبدیل کرا دیا جاتا تھا یا پھر معاشرتی اور معاشی دباو¿ کے ذریعے سے تبدیلیِ مذہب پر مجبور کیا جاتا تھا۔ یہ رواج اتنا عام ہو چکا تھا کہ روسو جیسے شخص نے بھی کم از کم دو بار اپنا فرقہ تبدیل کیا تھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایک فرقہ دوسرے کو جہنمی قرار دینا ایمان کا حصہ سمجھتا تھا۔ روسو تبدیلیِ مذہب کے بعد بھی یہ ماننے کے لیے راضی نہ ہوتا تھا کہ اس کے ماں باپ جہنمی ہیں اور ہمیشہ آگ میں جلیں گے کیوں کہ ان کا فرقہ کوئی اور تھا۔ 
روسو کو مذہب سے کوئی خاص لگاو¿ نہیں تھا اس نے مالی فائدے یا آسائش کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے عقیدے میں تبدیلی کا اظہار کیا لیکن اس کے آس پاس کے پادری جلد ہی اس کی طبیعت اور نیت کو بھانپ گئے تھے۔ انھوں نے روسو کو عوام کی جانب سے دیئے گئے سِکوں سمیت وہاں سے چلتا کیا۔ یورپ کی روشن خیالی کی طرف سفر کرتی دنیا میں روسو کو شہرت سائنس اور ٹیکنالوجی پر کڑی تنقید کرنے پر ملی۔ روسی نے اکادمی کی جانب سے مضمون نویسی کا جو مقابلہ جیت کر انعام حاصل کیا وہ نیچرل زندگی کی حمایت میں لکھا گیا تھا اور اس میں سائنس اور جدید علوم سے پیدا ہونے والے مسائل کی نشاندھی کی گئی تھی۔ 
روسو نے مروجہ تصور ترقی پر کڑی تنقید کی۔ اس نے پہلے مقالے میں جذباتی طرز پر نیچر کی حمایت کی اور انسانی زندگی کو فطری رنگوں پر استوار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ بعد ازاں روسو نے انسانی معاشرے کے خدو خال اور ریاست کے تصور پر نسبتاً مضبوط مقالہ پیش کیا۔ اسے اکادمی کی جانب سے انعام سے تو نہ نوازا گیا لیکن علمی ادبی حلقوں میں اسے خاص پذیرائی ملی۔ یہ زمانہ والتئر کا بھی تھا۔ والتئر روسو کی نسب مختلف سوچ اور مراج رکھنے والا شخص تھا۔ والتئر بھی اظہار رائے کی آزادی کا بھرپور حامی تھا۔ روسو کا ایک اور ہم عصر ڈیوس دیدرو بھی علم کے فروغ کے حوالے سے اہم نام ہے۔ انسائیکلوپیڈیا کے مدیر ہونے کی وجہ سے بھی دیدرو کو خاصی پذیرائی ملی۔ انھی مفکرین کی وجہ سے، شدید مذہبی دباو¿ اور فرقہ وارانہ رجحان کے باوجود یورپ میں تنقید کی بدولت روشن خیالی کے نئے دروازے کھل رہے تھے۔ روسو کا مقالہ معاہدہ عمرانی اس کی بنیادی شناخت بنا۔ اس کے خیالات انسان کی آزادی کے حوالے سے اتنے مضبوط، غیر روایتی اور چونکا دینے والے تھے کہ ان سے آنے والے دور کے کانٹ جیسے فلسفی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ ایسے ہی غیر مروجہ اور غیر روایتی افکار در اصل انقلاب کی آبیاری کا کام بھی کر رہے تھے۔ 
مغرب کی تاریخ دیکھ کر بعض اوقات اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کئی حوالوں سے اٹھارہویں صدی کے یورپ کی طرح گزارا کر رہے ہیں لیکن اب بھی ہمارے سماج میں تنقید کی روایت مہذب اور اتنی پختہ نہیں ہو سکی ہے۔ اگر اس وقت کے یورپ میں تنقید کی آزادی موجود نہ ہوتی تو متنوع اور غیر روایتی خیالات و افکار سامنے نہ آتے اور آنے والے دور کے لوگوں کو روسو، والتئر، کانٹ اور گوئٹے نصیب نہ ہوتے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ معاشرے فکری سطح پر آگے بڑھتے ہیں اور اس کی اساس فلسفیانہ خیالات عطا کرتے ہیں۔ اس کے بعد ترقی کے سفر کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔ عارضی اور اچانک پیدا ہونے والی مادی ترقی کا انسانی شعور اور فکری توانائی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں خود انسان اس ترقی کو تنزل کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔

ٹیگز: