Wed, September 16, 2026

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر اقوام متحدہ کا ہنگامی اجلاس، ایران پر حملوں کی مذمت

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر اقوام متحدہ کا ہنگامی اجلاس، ایران پر حملوں کی مذمت

نیویارک : مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں مختلف رکن ممالک نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور اقوام متحدہ کا چارٹر تمام رکن ممالک کی سکیورٹی کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے عالمی قوانین کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے قابل مذمت ہیں۔ گوتریس نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے 20 شہروں پر حملے ہوئے ہیں اور ان حملوں میں اسرائیل میں 89 افراد زخمی ہوئے، جب کہ متحدہ عرب امارات میں ایک شہری جاں بحق ہوا۔

روس کے مندوب نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی الزامات بے بنیاد ہیں اور ایران کی سول نیو کلیئر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ روسی مندوب نے اس کارروائی کو ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا اور کہا کہ ان حملوں میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔


پاکستان کے مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تشویش ہے اور عالمی قوانین کی پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران پر حملہ اس وقت کیا گیا جب سفارتی کوششیں جاری تھیں، اور فریقین سے صبر و تحمل کی اپیل کی۔ عاصم افتخار نے ایران میں شہریوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر پر بھی حملے قابلِ مذمت ہیں۔


فرانس کے مندوب نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ایران کو اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات چیت کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ فرانس نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں عدم استحکام کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایران کے مندوب سعید ایروانی نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کو ایرانی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہمیشہ اپنے دفاع میں کارروائیاں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی کسی کے دباؤ میں آ کر مذاکرات نہیں کیے اور ہمیشہ پڑوسی ممالک کی خودمختاری کا احترام کیا ہے۔ ایروانی نے سعودی عرب، پاکستان، روس اور چین کی مذمت کی حمایت کی۔

امریکی مندوب نے کہا کہ ایران نے مذاکرات کے باوجود اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی۔ ان کے مطابق، ایران کے اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، اور امریکا کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا ہے۔

ٹیگز: