Wed, September 16, 2026

سیاسی اور عسکری محاذ پر بہت کچھ کرنا باقی ہے!

 سیاسی اور عسکری محاذ پر بہت کچھ کرنا باقی ہے!

پاکستان اس وقت ایک نازک مگر فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف معاشی دباؤ، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل ہیں تو دوسری طرف سرحدوں پر مسلسل دباؤ اور دشمنوں کی سازشیں ۔ یقینا ایسے وقت میں کسی بھی قوم کی نظریں اپنی قیادت پر ہونی چاہئیں۔ بات پاکستان کو اقتصادی دیوالیہ پن سے بچانے کی ہو ، دہشتگردوں کا سر کچلنے کی ہو، بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی ہو یا پھر دہشتگردوں اور دہشتگردی کی پشت پناہی پر افغانستان کو سبق سکھانے کی ہو خوش قسمتی سے ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کمال کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔
اگرچہ اب بھی سیاسی اور عسکری محاذ پر بہت کچھ کرنا باقی ہے لیکن ملکی، نیم ملکی اور غیر ملکی ناقدین کے تمام تر پراپیگنڈہ کے باجود یہ بات تو تسلیم کرنا ہی پڑے گی کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت ملک کو کسی بھی قسم کے بحران سے نکالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کتنی زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ستر ہزار سے زیادہ جانیں، اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اور ایک پوری نسل جو خوف اور بے یقینی کے ماحول میں پلی بڑھی۔ اس کے باوجود اگر آج بھی ہماری مغربی سرحد سے دراندازی ہوتی ہے، کالعدم تنظیموں کو پناہ ملتی ہے اور ہمارے جوانوں پر حملے کیے جاتے ہیں تو یہ سوال تو اٹھتا ہی ہے کہ ، کیا یہ سب پاکستان کو اس احسان کے بدلہ میں دیا جا رہا ہے جو اس نے سالہا سال لاکھوں افغانیوں کو پناہ دینے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی صورت میں کیا؟۔
دوسری طرف مشرقی سرحد پر بھارت کا رویہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں، پاکستان کے اندر بدامنی پھیلانے کی کوششیں اور عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم ایک تسلسل کے ساتھ جاری رہتی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور امن کی بات کی، مگر امن کی خواہش کو کمزوری سمجھا گیا اور مجبوراً دشمن کی اس غلطی کو دور کرنا ہی پڑا۔وزیر اعظم شہباز شریف کا انداز سیاست مفاہمت اور عملی اقدامات پر مبنی ہے۔ وہ انتظامی معاملات کو بہتر بنانے اور معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اگر سرحدیں غیر محفوظ ہوں تو معاشی ترقی کا خواب ادھورا رہ جا نے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ خارجہ پالیسی اور سکیورٹی پالیسی ایک ہی صفحے پر ہوں۔ خوش قسمتی سے تمام تر منفی پراپیگنڈا کے باوجود اس وقت حکومت اور فوج کے درمیان مثالی ہم آہنگی موجود ہے ۔ بلاشبہ اگر سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہو تو بیرونی دشمنوں کو واضح پیغام چلا جاتا ہے کہ یہاں کسی بھی قسم کی سازش یا جارحیت کامیاب نہیں ہو سکتی۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بطور سپہ سالار بارہا یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ حالیہ مہینوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ سرحدی نگرانی کو مضبوط بنایا گیا ہے اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے خاطر خواہ نتائج بھی سامنے آئے ہیں ۔ لیکن یہ اقدامات وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک مسلسل حکمت عملی کا حصہ ہونے چاہئیں۔ دشمن کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اگر وہ پاکستان کے اندر آگ لگانے کی کوشش کرے گا تو اس کی چنگاریاں اس کے اپنے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ’ سبق سکھانے‘ کے لیے صرف گولی اور بارود کی ضرورت نہیں بلکہ اصل سبق تو وہ ہوتا ہے جو دشمن کو پالیسی کی سطح پر تنہا کر دے۔ افغانستان کے ساتھ سخت سفارتی بات چیت، عالمی فورمز پر شواہد پیش کرنا اور سرحدی نظم و ضبط کو ناقابل عبور بنانا ایک موثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح بھارت کے معاملے میں بھی جذباتی نعروں سے زیادہ موثر سفارتی اور قانونی اقدامات کی ضرورت ہے۔ دنیا بدل چکی ہے، جنگیں صرف میدان میں نہیں بلکہ میڈیا، معیشت اور سفارت کاری کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہیں۔ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے بھی سیکھنا ہوگا۔ افغانستان کے حالات ہمیشہ پاکستان پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ کبھی مہاجرین کا بوجھ، کبھی سرحد پار سے اسلحہ اور منشیات کی آمد، اور کبھی دہشت گردی کی نت نئی لہر۔ اس بار پاکستان کو واضح اور دو ٹوک پالیسی اپنانا ہوگی۔ اگر کابل کی حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے نہیں روک سکتی تو پھر پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے یکطرفہ اقدامات کا حق حاصل ہے۔ بھارت کے ساتھ معاملہ اور بھی حساس ہے کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں۔ کسی بھی قسم کی بڑی جھڑپ پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر سکتی ہے۔ اس لیے طاقت کے ساتھ ساتھ برداشت اور حکمت بھی ضروری ہے۔ لیکن برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر سرحد پار سے دہشت گردی کی سرپرستی جاری رہے تو پھر صرف بیانات کافی نہیں رہتے۔ قوم کی توقع یہ ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر مل کر ایک جامع حکمت عملی بنائیں جو صرف وقتی ردعمل نہ ہو بلکہ طویل المدتی قومی پالیسی ہو۔ یہ پالیسی تین ستونوں پر کھڑی ہونی چاہیے: مضبوط دفاع، فعال سفارت کاری اور مستحکم معیشت۔ اگر یہ تینوں پہلو متوازن ہوں تو کوئی بھی دشمن پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ آج کا پاکستان 1990 کا پاکستان نہیں۔ ہماری افواج تجربہ کار اور بہترین انداز میں مسلح ہیں، انٹیلی جنس نظام مضبوط ہے اور قوم دہشت گردی کی حقیقت کو سمجھ چکی ہے۔ اگر قیادت واضح پیغام دے اور عملی اقدامات کرے تو دشمن کی سازشیں زیادہ دیر نہیں چل سکتیں۔ مگر اس کے لیے سیاسی اختلافات کو کم کرنا ہوگا۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ قومی سلامتی سیاست سے بالاتر ہوتی ہے۔

ٹیگز: