Wed, September 16, 2026

بھارت کا آپریشن سندور دوم کا اعلان

بھارت کا آپریشن سندور دوم کا اعلان

بھارتی فوج آجکل پاکستان کے خلاف آپریشن سندور دوم کی بات کر رہی ہے۔ کبھی بھارتی جنرل یہ بیانات دیتے ہیں کہ آپریشن سندور ابھی چل رہا ہے۔ آپریشن ختم نہیں ہوا ہے۔ کبھی کہتے ہیں پاکستان کے خلاف آپریشن سندور دوم کی تیاری کی جا رہی ہے۔ حالیہ طور پر بھارتی فوج کے دو جنرلز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا بھارت پاکستان کے خلاف آپریشن سندور دوم کی تیاری کر رہا ہے جو پاکستان کے لئے شدید ثابت ہو گا۔ اس بیان کی بھارتی میڈیا چینلز اور اخبارات نے خوب تشہیر کی جیسا کہ انہوں نے مئی سال 2025 میں آپریشن سندور کے وقت پاکستان کے شہر کراچی پر قبضے اور لاہور میں بندرگاہ ہونے کی تشہیر کی تھی۔ 
مئی 2025 میں آپریشن سندور میں بھارتی فضائیہ کے جنگی جہاز پاک فضائیہ نے کامیابی سے گرائے تھے۔ بھارتی ریاست پنجاب کے آدم پور میں ایس 400 ائیر ڈیفنس سسٹم کو بھی جام کر کے تباہ کیا تھا۔ جس کے بعد بھارتی فضائیہ نے وزیراعظم آفس سے جوابی کارروائی کرنے سے قبل رکنے کی درخواست کی تھی۔ معاملہ یہ تھا کہ بھارتی فضائیہ کے پاس موجود جنگی جہازوں کی تعداد کم تھی جو پاکستان کی طرف سے مسلسل گرائے جانے سے بھارتی ائیر ڈیفنس کا پول کھول رہی تھی۔ بھارت کی جانب سے سیز فائر کی درخواست بھی اسی لئے فوری طور پر کی گئی کیونکہ فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں پاکستان نے بھارت پر جو جوابی کارروائی کی اسکی توقع بھارتی حکومت اور فوج دونوں نے نہیں کی تھی۔ اس اہم مرحلے کے لئے بھی بھارتی فضائیہ کے پاس پلاننگ اور پاکستان کے خلاف فضائی نگرانی کا بیک اپ موجود نہیں تھا۔ اسی لئے بھارت نے جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔ 
گزشتہ ایک سال میں بھارتی حکومت پر انکی افواج کی جانب سے خاصا دبائو ڈالا گیا ہے کہ بھارتی فضائیہ کے پاس جنگی جہازوں، ٹریننگ، جدید سنسر ریڈارز، میزائلوں اور جدید ہتھیار کی کمی ہے۔ آج بھارتی فوج اور ائیر فورس کے اعلیٰ افسران میڈیا انٹرویوز میں اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ پاکستان کی افواج کے پاس بے مثال جدید اسلحہ، جنگی جہازوں کے بیڑے اور سب سے بڑا ملک کا دفاعی بجٹ بہترین ہے جو افواج پاکستان کو آپریشن سندور میں بھارتی افواج پر برتری دلوا کر گیا ہے۔ 
اسی سلسلے میں بھارت فرانس سے دفاعی ڈیل کے تحت 114 سوا سو کے قریب رافیل جنگی جہاز خرید رہا ہے۔ رافیل جہاز کی قیمت 35 بلین ڈالر ہے جن سے بھارت اگلے تین سے پانچ سال کے اندر اپنی فضائیہ میں جنگی جہازوں کے بیڑے کی تعداد بڑھانا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت میں تیار کردہ جنگی جہاز تیجس کو دو سال میں تین کریش حادثوں کے بعد مکمل طور پر گرائونڈ کر دیا گیا ہے۔ 31 کے قریب تیجس جنگی جہاز گرائونڈ کر کے بھارتی فضائیہ نے انتہائی سخت اور بروقت فیصلہ لیا ہے کیونکہ تیجس جنگی جہازوں کے انجن میں مسائل ہیں جن کو پاکستان ائیر فورس ایک منٹ میں ڈھیر کر سکتی ہے۔ 
دوسری جانب بھارت میں جوانوں کے لئے شعبہ فوج کی مدت ملازمت کو لے کر بھی کافی پریشانی ہے۔ سال 2022 میں شروع ہونے والی بھارتی افواج کی مین فورس یعنی جوانوں کی اگنی ویر سکیم سے ملک میں فوج کے شعبے کو جذبے کے تحت جوائن کرنے والے نوجوانوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ بھارتی عوام میں بھی اگنی ویر سکیم کو لے کر غم وغصہ ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ پاکستان اور بھارت میں فوج کو ملک کا فخر اور اعلیٰ ترین سروس کا درجہ حاصل ہے۔ فوجی جوان چاہے بری فوج کا ہو، بحری فوج کا یو یا پھر فضائیہ کا یونیفارم، فوجی ڈسپلن، اور سروس کو قدر اور رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مگر یہ چار سالہ مدت کی نئی سکیم کنٹریکٹ پر بھرتی نوکری سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ جسے جوائن کرنے میں بھارتی نوجوانوں کی دلچسپی کم ہے۔ ایسی فوجی سکیم کو سیاسی سکیم بھی کہا جا رہا ہے جہاں ریٹائرمنٹ کے بعد مراعات ہوں گی نہ ہی پنشن۔ کنٹریکٹ فوج ملک کی سرحدوں کا دفاع کیسے کریں گی۔ اگنی ویر نوجوان دشمن کا مقابلہ کرنے کی بجائے اپنی چند سال کی روزگار کی فکر کرتے ہیں۔ بھارتی عوام مانگ کر رہے کہ فوج کی یہ سکیم ختم کی جائے وگرنہ ملک میں افواج کا مورال ایسے ہی گرتا رہے گا۔ 
بھارتی فوج کے سربراہ چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان نے مہاراشٹرا کے شہر پونے میں ایک تقریب میں آپریشن سندور کا ذکر کیا۔ اپنی تقریر میں جنرل انیل چوہان نے کہ افواج سے بہت معذرت کے ساتھ یہ بات کہوں گا کہ جنگ میں جیت کی باتیں نہیں کی جا سکتی جیسا کہ ہمارے ہمسائے ملک نے کہا تھا۔ جنگ جیتنے کے لئے پختہ اور قابل تصدیق ثبوت ہونے چاہیے۔ جنرل انیل چوہان نے مزید کہا بھارتی فوج اگلے دس سال میں اہم مراحل سے گزرے گی جس میں توجہ موجودہ اور آنے والے دور کے لئے اپنی تکنیکی اور ٹیکنالوجیکل کمیاں دور کرنے پر مرکوز ہو گی۔ 
چند ماہ قبل بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں تاریخی لال قلعے کے قریب میٹرو ٹرین سٹیشن کے پاس ایک گاڑی میں دو بم دھماکے ہوئے تھے جنہوں نے بھارت کی سکیورٹی صورتحال پر گہری چھاپ چھوڑی۔ اس کے بعد بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این ائی اے) نے ملک کے مختلف شہروں اور ریاستوں میں کریک ڈاؤن اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں اور انہیں ملک کے نوجوانوں کی ریڈیکل آئیزیشن قرار دیا تھا۔ بھارتی نوجوانوں کی اپنے ملک میں تخریب کاری کی کارروائیاں منہ بولتا ثبوت ہیں کہ وہاں بہت کچھ خراب ہے جس پر انٹیلی جنس اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی بجائے ملکی سلامتی کی پالیسی کی درستی سے کنٹرول/ قابو پانا ناگزیر ہے۔ 
بھارت کے بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات روایتی سکیورٹی چیلنجز نہیں ہیں اور انہیں دونوں ممالک کے عسکری شعبے میں ایک الگ زاویے سے دیکھا اور پرکھا جا رہا ہے۔ مندرجہ بالا تحریر کے تناظر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بھارتی فوج کا آپریشن سندور یا آپریشن سندور دوم چل رہے ہیں یا پھر دونوں ہی نہیں چل رہے۔ 

ٹیگز: