انسان نے کائنات کے اسرار تو دریافت کر لیے ، سمندروں کی تہہ تک پہنچ گیا ، ستاروں کی گردش کا حساب لگا لیا مگر اپنے ہی معاشرے کے نصف حصے کو سمجھنے میں ہمیشہ ناکام رہا ۔ عورت ہمیشہ سے تہذیبوں کی تشکیل ، خاندان کی استواری اور معاشرتی ارتقا ءکا بنیادی ستون رہی ہے مگر اس حقیقت کے باوجود اسے وہ مقام بہت کم ادوار میں ملا جس کی وہ مستحق تھی ۔ تاریخ کے بیشتر باب عورت کی قربانیوں سے بھرے ہوئے ہیں اس نے نسلوں کی تربیت کی ، تہذیبوں کو سنوارا ، گھروں کو آباد رکھا اور معاشروں کو اخلاقی بنیادیں فراہم کیں ۔مگر پھر بھی اس نے ہر دور میں مختلف سماجی رویوں ، تہذیبی بندشوں اور فکری تعصبات کا سامنا کیا ۔ دورِ جاہلیت میں عورت کی حقیقت ایک ایسی مخلوق کی تھی جسے نہ وراثت میں حصہ دیا جاتا تھا ، نہ اس کی رائے کو کوئی اہمیت حاصل تھی اور نہ ہی اسے ایک مستقل شخصیت کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا ۔شاید اسی لیے عورت کا مسئلہ محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ تہذیب کے شعور کا مسئلہ ہے ۔مگراسلام نے اس تصور کو یکسر بدل دیا اورعورت کو انسانیت کا مساوی رکن قرار دیا ،اسے وراثت ، ملکیت ، تعلیم اور عزت کے حقوق عطا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی شخصیت کو ایک باوقار مقام بخشا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی شعور نے مزیدترقی کی اور عورت نے اپنے وجود کو محض ایک ثانوی کردار کے بجائے ایک مو¿ثر سماجی قوت کے طور پر منوانا شروع کیا ۔ہم اب ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جسے ترقی ، شعور اور آزادی کا زمانہ کہا جاتا ہے ۔ عورت سیاست میں ہے ، عدالتوں میں ہے ، جامعات میں ہے ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس نے تمام رکاوٹیں عبور کر لی ہیں لیکن حقیقت کا دوسرا رخ کہیں زیادہ تلخ ہے ۔ آج کی صدی میں داخل ہونے کے باوجود خواتین کے مسائل مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ ان کی نوعیت تبدیل ہو گئی ہے ۔ وہ آج بھی ایک ایسی دنیا میں سانس لے رہی ہے جہاں اس سے مسلسل خود کو ثابت کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ اس کی صلاحیت سے پہلے اس کی ظاہری صورت کو پرکھا جاتا ہے اور اس کی کامیابی کو اکثر اس کی محنت کے بجائے کسی اور سبب سے جوڑ دیا جاتا ہے گویا زمانہ بدل گیا لیکن بعض ذہن اب بھی ماضی کی ہی تاریکیوں میں قید ہیں ۔ ماضی میں عورت بنیادی حقوق سے محروم تھی جبکہ آج کی عورت اکثر اپنی شناخت ، اپنی ترجیحات اور اپنے وجود کے توازن کی تلاش میں نظر آتی ہے ۔جدید دور کی عورت کا المیہ یہ نہیں ہے کہ اسے مسائل کا سامنا ہے بلکہ یہ ہے کہ اس کے مسائل کی نوعیت پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے ۔ ماضی میں اس کی زنجیریں نمایاں تھیں مگر آج اسے باندھی گئی زنجیریں غیر مرئی ہیں ۔ وہ تعلیم یافتہ ہے مگر ذہنی دباﺅ کا شکار ہے ۔وہ معاشی طور پر تو خود مختار ہے مگر سماجی توقعات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے ، بظاہر آزاد ہے مگر مسلسل ایک ایسے معیار تک پہنچنے کی جدوجہد میں مصروف ہے جو شاید کبھی حاصل ہی نہیں ہو سکتا ۔ ایک طرف تعلیم ،پیشہ ورانہ زندگی اور ترقی کے منازل طے کرنا چاہتی ہے تو دوسری طرف اس سے خاندانی ذمہ داریوں، سماجی توقعات اور روایتی کرداروں کی مکمل ادائیگی کی امید بھی وابستہ کی جاتی ہے ۔وہ آج صرف یہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کر رہی کہ وہ تعلیم حاصل کر سکتی ہے یا کسی بھی شعبے میںکام کر سکتی ہے بلکہ وہ مسلسل یہ ثابت کرنے میں مصروف دکھائی دیتی ہے کہ اس کی صلاحتیں اور اس کی رائے بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی معاشرے کے دوسرے افراد کی۔ آج بھی لاکھوں عورتیں بنیادی حقوق ، تعلیم ، تحفظ اور انصاف کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں ۔ کہیں غیرت کے نام پر ان کی جان لی جا رہی ہے ، کہیں گھریلو تشدد معمول سمجھا جاتا ہے ، کہیں ہراسانی کے واقعات عورت کی زندگی کو خوف میں مبتلا رکھتے ہیں اور کہیں اس کی صلاحیتوں کو صرف اس لیے نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ وہ عورت ہے ۔ آج کا جدید معاشرہ اسے مواقع تو دیتا ہے مگر اس کے ساتھ ایسی توقعات بھی وابستہ کر لیتا ہے جو بعض اوقات انسانی استطاعت سے بڑھ جاتی ہیں ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ آخر مسئلہ کہاں ہے ؟ دراصل مسئلہ قوانین سے زیادہ ہمارے رویوں میں ہے۔ ہم آج عورت کی کامیابی پر خوش تو ہوتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہیں اس کی خودمختاری سے خوفزدہ ہیں ۔ اس کی قربانیوں کی تعریف کرتے ہیں مگر اس کے فیصلوں پر اعتماد نہیں کرتے یہی تضاد ہی عورت کے بے شمار مسائل کی جڑ ہے ۔
ایسے میںتاریخِ انسانی کے طویل سفر میں بعض شخصیات ایسی بھی ملتی ہیں جو وقت کے دھارے کے ساتھ ماضی کا حصہ نہیں بنتیںبلکہ ہر عہد کے لیے ایک مستقل فکری اور عملی معیار بن جاتی ہیں۔ان کی حیات صرف واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ ایک مکمل مکتبِ فکر کا درجہ اختیار کر لیتی ہے ۔ان کی زندگی طاقت کے ایوانوں سے نہیں بلکہ کردار کی عظمت سے پہچانی جاتی ہے ۔ ایسی ہی ایک ہستی حضرت فاطمہ زہرا ؓ کی ذات مبارکہ ہے جن کی شخصیت کو صرف مذہبی تناظر تک محدود کرنا شاید ان کے کردار کے کئی اہم پہلوو¿ ں کو نظرانداز کرنا ہو گا ۔ ان کی زندگی عورت کے وقار ، شعور ، خودی ، حق شناسی، استقامت ،سادگی ،اصول پرستی اور معاشرتی ذمہ داری کا ایک ایسا نمونہ ہیں جو ہر دور کی عورت کے لیے معنی ر کھتاہے۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی عورت دکھائی دیتی ہے جو مشکلات کے باوجود ثابت قدم رہتی ہے ، جو سادگی میں عظمت کو تلاش کرتی ہے ،جو اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتی اور جو زندگی کے ہر مرحلے میں وقار کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنائے رکھتی ہے ۔یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی بھی عہد کی عورت کو مضبوط بناتے ہیں۔شاید عورت کا مسئلہ کبھی صرف حقوق کا مسئلہ تھا ہی نہیں اصل مسئلہ ہمیشہ اس نگاہ کا رہا جس سے معاشرے نے اسے دیکھا۔کبھی اسے کم تر سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا تو کبھی اسے تقدس کے ایسے درجے پر بیٹھا دیا گیا جہاں اس کی انسانیت اوجھل ہو گئی اور کبھی آزادی کے نام پر اسے ایک ایسی دوڑ میں شامل کر دیا گیا جس کی کوئی منزل ہی نہیں تھی ۔ ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں ہوتا جہاں عورت صرف اعلیٰ عہدوں تک پہنچ جائے بلکہ مہذب معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں ایک عام عورت بھی خود کو محترم اور با اختیار محسوس کرے ،جہاں اس کی بات کو سنا جائے ، اس کے خوابوں کا احترام کیا جائے اور اس کی شخصیت کو محدود نہ کیا جائے ۔