Wed, September 16, 2026

روحانیت و تنہائی: رومیؒ سے بیدلؒ تک

روحانیت و تنہائی: رومیؒ سے بیدلؒ تک

جب انسان کی روح مادی دنیا کی گرد و غبار میں دم گھٹنے لگے، جب ہر شے کی موجودگی میں بھی ایک نہ ہونے کا احساس جاگے، اور جب چیختے ہوئے ہجوم میں خاموشی کی طلب شدت اختیار کر لے، تب سمجھ لینا چاہیے کہ باطن کی آنکھ کھلنے کے قریب ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب روح اپنے اصل وطن کی طرف بلاتی ہے، اور دنیا کی روشنیوں میں چھپا ہوا اندھیرا نمایاں ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس کا رشتہ مولانا جلال الدین رومیؒ کے وجد سے جڑتا ہے اور مرزا عبدالقادر بیدلؒ کے تفکر میں گم ہو جاتا ہے۔ رومی کی فکر میں عشق کا رقص ہے، اور بیدل کی سوچ میں خاموشی کا عکس۔ مگر دونوں کا سفر، دونوں کی صدا اور دونوں کی منزل ایک ہی ہے ذاتِ حق کی معرفت، روح کی نجات۔ رومی کی روحانیت عشق کے بطن سے جنم لیتی ہے۔ ان کے ہاں عشق محض ایک جذبہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل سلوک ہے، ایک مسلسل فنا ہے۔ وہ عشق کو آگ کی مانند دیکھتے ہیں، جو نفس کو جلا کر دل کو روشن کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا تک رسائی صرف اسی کو حاصل ہے جو خود سے گزر جائے، جو اپنے اندر وہ شعلہ پالے جو سب کچھ خاک کر دے مگر نور چھوڑ جائے۔ رومیؒ کی شاعری دراصل ایک مسلسل پکار ہے اپنے باطن کی طرف، اپنی اصل کی طرف، اس رب کی طرف جسے انسان نے دنیا کی پرتوں میں گم کر دیا ہے۔ وہ بار بار یاد دلاتے ہیں: جو تو باہر ڈھونڈتا ہے، وہ تیرے اندر پوشیدہ ہے۔ یہی درِ عرفان تب کھلتا ہے جب انسان تنہائی کی دہلیز پر آ کھڑا ہوتا ہے۔ رومی کی تنہائی مایوسی ہے، نہ تنک مزاجی۔ وہ ایک متبرک خلوت ہے جس میں دل اپنی اصل آواز سننے لگتا ہے۔ روزمرہ کے ہنگامے، معاشرتی لبادے، لفظوں کی گرد، خواہشات کی چادر سب کچھ اس تنہائی میں اتر جاتا ہے، اور ایک ایسی شبیہ ابھرتی ہے جو ہر آئینے سے زیادہ صاف، اور ہر چیخ سے زیادہ خاموش ہوتی ہے۔ وہ تنہائی جو بندے کو خود سے روبرو کرتی ہے، وہی عرفان کی اولین جھلک دکھاتی ہے۔اور جب دل، تنہائی کے پاتال میں اترنے لگے، تب خاموشی ایک دروازے کی صورت کھلتی ہے۔ رومیؒ کے ہاں خاموشی محض چپ کا نام نہیں، بلکہ وہ قربت ہے جس میں لفظ بے معنی ہو جاتے ہیں اور معانی بولنے لگتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، جب لفظ رک جاتے ہیں، تب خدا بولتا ہے۔ ان کی خاموشی میں ایک وجد ہے، ایک حرکت ہے، ایک رقص ہے ایسی حرکات جنہیں صرف دل محسوس کرتا ہے، اور عقل حیرت سے تکتا رہ جاتا ہے۔ادھر بیدلؒ کا کلام اس سکوت میں چھپی صداو¿ں کو اپنی مخصوص رمزیت کے ساتھ آشکار کرتا ہے۔ اگر رومیؒ عشق کی تپش سے حق کو پاتے ہیں تو بیدلؒ حیرت کے آئینے میں اسے دیکھنے کی سعی کرتے ہیں۔ بیدلؒ کا کلام بظاہر پیچیدہ، گنجلک اور استعاراتی محسوس ہوتا ہے، مگر جب قاری خود کو اس میں سمیٹنے لگتا ہے، تو ہر پیچ، ہر رمز اور ہر تشبیہ ایک نیا دریچہ کھول دیتی ہے ایسا دریچہ جو قاری کو اس کی ذات کے اندر لے جاتا ہے۔ بیدلؒ کے نزدیک روحانیت کوئی رسمی لباس نہیں، نہ ہی مخصوص عبادات کا سلسلہ۔ ان کے لیے اصل روحانیت وہ لمحہ ہے جب انسان خود کو اپنے تصور سے بھی حقیر محسوس کرے۔ وہ اپنی من کو اتنا مسخ کرے کہ اس کی جھلک بھی اس کے ادراک پر سایہ نہ ڈال سکے۔ بیدلؒ کے ہاں روحانیت بے خودی کا دوسرا نام ہے۔ جب میں کا پردہ اٹھ جائے، تب ہی ذاتِ باری کی جلوہ گری ممکن ہوتی ہے۔ اسی شعور سے جنم لیتی ہے بیدل کی تنہائی۔ ایک ایسی تنہائی جو فقط کمرے کے اکیلے پن کا نام نہیں، بلکہ وہ وجودی خلوت ہے جو انسان کو دنیا کی ہر شے سے بیگانہ کر کے خود سے بھی اوجھل کر دیتی ہے۔ بیدلؒ کی تنہائی میں نہ گلہ ہے، نہ شکوہ۔ یہ ایک قبولیت کی کیفیت ہے خاموش، ٹھہری ہوئی، اور وسعتوں میں گم۔ بیدلؒ فرماتے ہیں:
نہاں شو از نظرِ خویش، اگر مردِ حقیقتی
کہ آئینہ نگردد صاف، تا زنگش نہ باشد کم
یعنی اگر تو مردِ حقیقت ہے، تو اپنی ہی نظر سے بھی چھپ جا؛ کیونکہ آئینہ تبھی شفاف ہوتا ہے جب اس پر جمی گرد ختم ہو جائے۔ اس گرد کا نام ہے خودفریبی، خواہش، اور من۔ بیدل کے ہاں خاموشی ایک فن ہے، ایسا فن جس میں لفظ غائب ہو جاتے ہیں، لیکن معنی واضح ہو جاتے ہیں۔ وہ سکوت کو محض زبان کی چپ نہیں سمجھتے، بلکہ یہ وہ کیفیت ہے جہاں دل بولتا ہے اور عقل سننے لگتی ہے۔ ان کی شاعری میں ایک عجب سناٹا ہے، ایسا سناٹا جو قاری کو لرزا دیتا ہے، مگر اسی لرزش میں ایک سکون بھی ہے۔ بیدلؒ کہتے ہیں:
در سکوتِ دل، صدائے راز ہا
چشم بند، اما نگاہِ باز ہا
یعنی دل کی خاموشی میں رازوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں؛ آنکھیں بند ہوں، مگر نگاہیں بیدار ہوں۔ یہ وہ مکاشفہ ہے جو فقط اس کو نصیب ہوتا ہے جو دنیا سے نہیں، خود سے فرار حاصل کرے۔ رومی اور بیدل کے درمیان صدیوں، زبانوں اور لہجوں کا فرق ضرور ہے، مگر ان کی روح ایک جیسی ہے۔ دونوں باطن کی طرف سفر کرتے ہیں۔ رومی کے ہاں یہ سفر عشق کے پروں پر سوار ہے، بیدل کے ہاں یہ حیرت کی بانہوں میں لپٹا ہوا۔ رومی چیختے ہیں، روتے ہیں، نچتے ہیں؛ بیدل سوچتے ہیں، چھپتے ہیں، اور خاموش ہو جاتے ہیں۔ مگر دونوں کی صدائیں ایک ہی سمت جاتی ہیں ذاتِ الٰہی کی طرف۔ آج کا انسان، جو ہر لمحہ کسی نہ کسی رابطے میں ہے، درحقیقت سب سے کٹا ہوا ہے۔ وہ جتنا شور میں ہے، اتنا ہی خالی ہے۔ وہ جتنا بولتا ہے، اتنا ہی سنتا کم ہے۔ اس ہجوم میں اسے رومیؒ کی ضرورت ہے، تاکہ وہ اپنی اصل آواز پہچان سکے۔ اسے بیدلؒ کی ضرورت ہے، تاکہ وہ خاموشی میں جھانکنے کا سلیقہ سیکھ سکے۔ ہمیں ایک بار پھر تنہائی کو سمجھنا ہو گا نہ کہ بطور سزا، بلکہ بطور نعمت۔ ہمیں خاموشی سے ڈرنا نہیں، بلکہ اس میں رہنا سیکھنا ہو گا۔ اور سب سے بڑھ کر، ہمیں اپنے نفس سے سوال کرنا ہو گا کہ ہم کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں، اور کہاں جانا ہے۔ شاید اسی سوال کے بطن سے وہ جواب جنم لے جو ہماری بے چینی کا مداوا بن سکے۔ رومیؒ نے کہا تھا: تم وہ نہیں جو نظر آتے ہو؛ تم ایک سمندر ہو، ایک چراغ، ایک آسمان۔ اور بیدلؒ نے کہا: جب تو اپنی نظروں سے بھی اوجھل ہو جائے، تب ہی اصل جلوہ تیرے سامنے ہو گا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں عشق، حیرت، خاموشی، تنہائی، اور روحانیت سب ایک نقطے پر سمٹ جاتے ہیں۔ وہ نقطہ جسے ہم خودی کہہ کر بھول گئے، اور خدا کہہ کر دور کر بیٹھے۔

ٹیگز: