مشرقِ وسطیٰ کا بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین سے سنگین تر اور پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایران اور امریکہ ،اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد ابتدائی دنوں میں ایسے لگتا تھا کہ یہ کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی لیکن آنیوالے دنوں میں یہ خدشہ پیدا ہوگیا کہ کہیں یہ تیسری عالمی جنگ میں نہ بدل جائے۔اس صورت حال کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئے روز بدلتے بیانات تھے ۔ اب اس جنگ کو شروع ہوئے ایک ماہ سے زائد کا وقت گزر چکا ہے اور اس کی طوالت سے دنیا پریشان ہے اور اس کا سبب اس خطہ کا تیل و گیس کی دولت سے مال مال ہونا ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ کشیدگی مزید جاری رہتی ہے تو دنیا بھر میں تیل و گیس کی ترسیل کا نظام جو پہلے ہی شدید متاثر ہو چکا ہے‘ تعطل کا شکار ہو کر ایک عالمی بحران کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی اس نازک صورت حال میں پاکستان سفارتی محاذ پر اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہے ۔ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا نتیجہ ہے کہ دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اس وقت پاکستان سے امید لگائے بیٹھی ہیں کہ وہ اس بحران سے دنیا کو نکالے۔ گزشتہ اتوار کو سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی ایک بڑی بیٹھک اسلام آباد میں ہوئی ۔مشاورتی اجلاس کے اختتام پر وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ نہایت نتیجہ خیز ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ تینوں وزرائے خارجہ کے اس دورے کا مقصد پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے درمیان مشاورتی عمل کے دوسرے اجلاس میں شرکت تھا، جو اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔ہمارا پہلا اجلاس 19مارچ 2026ءکو ریاض میں ہوا تھا۔اسحاق ڈار نے کہا وزرائے خارجہ نے اجلاس میں موجودہ علاقائی صورتحال پر نہایت تفصیلی اور گہرائی سے تبادلہ خیال کیا اور خطے میں جاری جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر بھی غور کیا۔وزرائے خارجہ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ جاری تنازع وسیع تر خطے میں انسانی جانوں اور روزگار پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے،ہم اس بات پر متفق ہوئے کہ یہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور اس کا نتیجہ صرف موت اور تباہی کی صورت میں نکلے گا ان مشکل حالات میں امت مسلمہ کا اتحاد نہایت اہم ہے۔اسحاق ڈار نے مہمان وزرائے خارجہ کو اسلام آباد میں ممکنہ امریکہ-ایران مذاکرات کے امکانات سے آگاہ کیا اور مہمان وزرائے خارجہ نے اس اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔وزرائے خارجہ نے صورتحال کو قابو میں رکھنے، کشیدگی کے خطرات کو کم کرنے اور متعلقہ فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے خاتمے اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مکالمہ اور سفارتکاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہیں اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں، بشمول تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر عمل درآمد پر زور دیا ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا پاکستان کو خوشی ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں نے مذاکرات کی سہولت کاری کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے،پاکستان آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھے گاتاکہ جاری تنازعے کا جامع اور دیرپا حل نکالا جا سکے۔اسحاق ڈار کی چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، چین نے ایران-امریکہ مذاکرات کی میزبانی کیلئے پاکستان کے اقدام کی مکمل حمایت کی ۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میں نے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بھی متعدد ٹیلیفونک گفتگوکی جنہوں نے ہماری کوششوں پر مکمل اعتماد اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔
ایران نے امریکہ، اسرائیل حملوں کے بعد متعدد بار آبنائے ہرمز کو مکمل بند کرنے کی دھمکی دی جس سے دنیا میںتشویش اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی ۔ اپنے قارئین کو بتاتا چلوںکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ہے۔ یہ راستہ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ آبنائے شمال میں ایران اور جنوب میں عمان (اور متحدہ عرب امارات) کے درمیان واقع ہے۔دنیا بھر میں سمندر کے ذریعے ہونے والی کل تیل کی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اسے دنیا کا سب سے حساس ”آئل چوک پوائنٹ“ مانا جاتا ہے کیونکہ خلیجی ممالک (سعودی عرب، عراق، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات) سے نکلنے والا زیادہ تر تیل اسی راستے سے ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ تک پہنچتا ہے۔ قطر، جو دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی برآمد کنندہ ہے، اپنی تقریباً تمام گیس اسی راستے سے بھیجتا ہے۔معاشی اور جغرافیائی لحاظ سے اس گزرگاہ کی اہمیت صدیوں پر محیط ہے۔تاریخی روایات کے مطابق ”ہرمز“ فارس کی مجوسی فوج کے ایک جرنیل کا نام تھا۔ ایک اور روایت کے مطابق یہ نام قدیم ایرانی بادشاہوں یا کسی شکست خوردہ کمانڈر سے منسوب ہے۔ قرون وسطیٰ میں یہاں ”سلطنت ہرمز“ قائم تھی جو مختلف ادوار میں سلجوقی، ایل خانی اور بعد ازاں ایک خود مختار ریاست کے طور پر قائم رہی۔ ہزاروں سال سے یہ چھوٹا سا آبی راستہ عالمی تجارت کی شہ رگ رہا ہے۔ قدیم زمانے میں یورپ اور ایشیا کے درمیان سامان کی نقل و حمل اسی راستے سے ہوتی تھی، جس کی وجہ سے ہرمز اور دمشق جیسے شہروں کو بہت عروج ملا۔ سولہویں صدی میں پرتگالیوں نے اس پر قبضہ کر لیا تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مشرق کے ساتھ تجارت پر قابو پانے کے لیے اس مقام کی اہمیت کلیدی ہے۔ بعدازاں، برطانیہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان بھی اس پر کنٹرول کی رسہ کشی جاری رہی۔موجودہ دور میں آبنائے ہرمز کو ”عالمی تجارت کی شہ رگ“ کہا جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز طویل عرصے سے ایران اور امریکہ (بشمول اسرائیل) کے درمیان کشیدگی کا مرکز رہی ۔ اس راستے کی ممکنہ بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی اور توانائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے متبادل پائپ لائنیں بنائی ہیں، لیکن وہ اس حجم کا مقابلہ نہیں کر سکتیں جو آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ یہ عالمی معیشت کے استحکام اور علاقائی طاقت کے توازن کا ایک انتہائی حساس نقطہ ہے۔اس وقت دنیا امید بھری نظروں سے اسلام آباد کی طرف دیکھ رہی ہیں اور ان شاءاللہ پاکستان اپنی سفارت کاری میں ضرور کامیاب ہوگااور مشرقِ وسطیٰ میں امن لوٹ آئیگا۔