ایران اور امریکا جنگ میں اب یہ واضح ہونے لگا ہے کہ ٹرمپ اس جنگ کو شروع کرکے پھنس چکے ہیں اور اسرائیل نے ٹرمپ کو مشکلات کا شکار کردیا ہے کیونکہ من مانے اور دشمنی پر مبنی فیصلوں کے بعد اب ٹرمپ کے اتحادی بھی ان سے منہ موڑ گئے ہیں ،یورپ اور عالمی برادری نے واضح طور پر ایران جنگ کے اثرات پر تشویش کا اظہارکردیا ہے جبکہ جرمن وزیر اعظم فریڈریش مرز کا کہناہے کہ امریکااور اسرائیل پر دباﺅ ڈال کر جنگ ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ یہی واحد حل ہے جبکہ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیزنے کہا کہ جنگ کے باعث صرف سپینی کمپنیوں کو 100ارب یورو کا نقصان ہوا ہے ۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپ اور عالمی برادری ایران میں جاری جنگ کے اثرات پر تشویش کا اظہار کر تے ہوئے کہہ رہی ہے کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے صدمے کا مکمل ازالہ نہیں کر سکتیں اور قیمتوں کو قابو میں لانے کا موثرطریقہ جنگ ختم کرنا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خلیج کی جنگ نے مشرق وسطیٰ میں غذائی اشیا کی فراہمی کا نظام درہم برہم کردیا ہے ۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق خلیجی تعاون کونسل کے ممالک سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کااپنی ضرورت کیلئے85فیصد درآمدی خوراک پر انحصار کرتے ہیں۔ خلیج کی جنگ اورآبنائے ہرمز کی بندش نے خلیج میں بحری تجارت کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے، جس کے اثرات عالمی سپلائی چین پر بھی پڑ رہے ہیں۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر امریکہ ،ایران جنگ کو ختم کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اور خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب نے پاکستان کی ان کوششوں کوویلکم کیاہے۔خادمین الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا اور قریبی روابط برقرار رکھنے پر
اتفاق کیا، امیرقطر نے بھی پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کو تحسین کی۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیرکی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی خفیہ سفارت کاری میں مرکزی کردار نبھانے کو سراہا ہے، پاک فوج سربراہ کی ٹرمپ سے قریبی ذاتی نسبت پاکستان کو وائٹ ہاﺅ س تک غیر معمولی رسائی فراہم کر رہی ہے۔ امریکا ایران تنازع کے بڑھتے خدشات کے باعث اسلام آباد سفارتی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ فعال ہے۔ پاکستان کو شاید کبھی وہ رسائی وائٹ ہاﺅ س تک نہیں ملی جو اس وقت ہے ۔ایران امریکا جنگ، پاکستان کے لیڈنگ سفارتی کردارسے بھارتی خارجہ پالیسی کوبڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ اس حوالے سے ماہرین چند وجوہات بیان کررہے ہیں جن کی وجہ سے بھارت خارجہ تعلقات میں تاریخ کی بد ترین سفارتی تنہائی دیکھ رہا ہے،انکا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک بنیادی بیک چینل انٹرلوکیوٹر کے طور پر مصر اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کا ابھرنا نئی دہلی کے لیے ایک زبردست سٹرٹیجک دھچکا ہے، ایک ایسی حکومت کے لیے جس نے پاکستان کو تنہا کرنے اور نریندر مودی کی ذاتی قیادت میں ہندوستان کو ناگزیر وشوا گرو کے طور پر پیش کرنے پر اپنی ساکھ کو داﺅ پر لگا دیا ہے، یہ پیشرفت کسی سیاسی اور سفارتی تباہی سے کم نہیں، آزاد ہندوستان کی سفارتی تاریخ کے سب سے ذلت آمیز نکات میں سے ایک، یہ مودی کی خارجہ پالیسی کی بے سمت نام نہاد عظمت بے نقاب ہو گئی جو ہندوستان کے لیے بڑا جھٹکا ہے، مودی کی پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی کا خاتمہ ہوا، بھارت کی حکمت عملی بری طرح ناکام ہو گئی، عالمی سپر پاور اور ایک علاقائی ہیوی ویٹ کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے تو امریکانے مودی کی طرف نہیں بلکہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیرسے رجوع کیا جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان ایک اہم محور اور متحرک اور پاکستان نے اس جنگ کو روکنے میں اہم رول ادا کیا۔اسرائیل کو دنیا پر حکمرانی کا خواب ایران نے چکنا چور کردیا ہے اور اب اسرائیلی فوج اندر سے ٹوٹ رہی ہے اسرائیلی، فوج کے سربراہ جنرل ایال زمیر نے سکیورٹی کابینہ کو دی گئی بریفنگ میں یہ خبردار کر دیا ہے کہ فوج اس وقت دس بڑے خطرات (ریڈ فلیگز) کا سامنا کر رہی ہے۔ فوجی قیادت کے انتباہ سے اسرائیلی حکومت کڑی تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ سب سے بڑھ کر سیاسی قیادت کی جانب سے بروقت فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے فوجی ضروریات اور حکومتی پالیسی میں واضح خلیج پیدا ہو گئی ہے، جو فوج کے اندرونی استحکام کیلئے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے بھی کہہ دیا ہے کہ موجودہ حالات میں اسرائیلی فوج اپنے اندر ہی گر رہی ہے کیونکہ اس پر ذمہ داریاں اس کی موجودہ صلاحیت سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ ٹرمپ ایک پیچیدہ صورتحال میں پھنس چکے ہیں، مسئلے کا سفارتی حل اتنا آسان نہیں جتنا بعض حلقے تصور کرتے ہیں۔ سابق امریکی جنرلز بھی ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی کے مخالف ہیں، ریٹائرڈ اعلیٰ اور تجربہ کار عہدیداروں کا صدر ٹرمپ کو ایران کی جنگ سے با ہر نکلنے کا مشورہ دے دیا ہے۔ امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے ایرانی عوام یا سیاسی قیادت پر اثر ڈالنے میں ناکام رہے، بلکہ ایران نے اپنی بیلسٹک میزائل صلاحیت برقرار رکھی اور خلیج میں اقتصادی خلل پیدا کیا، جس سے عالمی تیل اور مارکیٹیں متاثر ہوئیں۔ جنگ ختم ہو بھی گئی تو صورتحال کو معمول پر لانے میں مزید کئی سال لگ سکتے ہیں۔ حرف آخر یہ کہ اب دنیا یہ چاہتی ہے کہ جنگ کا خاتمہ ہو اور یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اب اکیلے پڑ چکے ہیں اور انہیں بھی اپنی حکومت بچانے اور امریکی عوام کے غیظ وغضب سے بچنے کیلئے ایران کے سامنے جھکنا پڑے گا۔