Wed, September 16, 2026

الفریڈ نوبل نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا!!

الفریڈ نوبل نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا!!

کیا آپ آسانی سے اس بات کو ہضم کر سکتے ہیں کہ لوگوں کا خون کرنے والے امن کے سفیر بن کر نوبل انعام کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں ؟؟یقینی طور پر ہر محب وطن پاکستانی کا جواب نفی میں ہوگا۔ بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا وہ سب کے سامنے ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی جو کچھ کروا چکی ہے وہ بھی دنیا دیکھ چکی۔ بلوچستان توڑنے کی باتیں ، مقامی بلوچ نوجوان کو ورغلانا ، اکسانا اور ہتھیار اٹھانے پر مجبور کرنے کا ایجنڈااب کھل کر بے نقاب ہو چکاہے۔ دنیا کا سب سے بڑا امن کا اعزاز ہے نوبل پیس پرائز جو گزشتہ ایک صدی سے زیادہ عرصے میں انسانی حقوق، امن اور مکالمے کے فروغ کے لئے ایک معتبر علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن آج یہ معتبر انعام ایک سنگین سوالیہ نشان کا سامنا کر رہا ہے۔ اس بار خطرہ کسی ریاست یا کسی بڑی طاقت سے نہیں بلکہ ایک ایسے لابنگ نیٹ ورک سے ہے جو دہشت گردی کے ہمدردوں کو ”امن کے علمبردار“بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔حالیہ برسوں میں بلوچستان کی متنازع شخصیت مہرنگ بلوچ کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کی علمبردار کے طور پر پیش کرنے کی مہم چل رہی ہے۔ پس پردہ حقائق پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ مہم کسی معصوم انسانی حقوق کی جدوجہد نہیں بلکہ منظم لابنگ ہے جس کا مقصد دہشت گردوں کے بیانیے کوتقویت دینا ہے۔ مہرنگ بلوچ کو عالمی میڈیا میں ایک ایسے شہری حقوق کی محافظ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جو بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کرتی ہے لیکن اس کی اپنی شخصیت اور خاندانی پس منظر ایک متنازع داستان سے کم نہیں۔ مہرنگ بلوچ غفار لانگو کی بیٹی ہے جو بلوچ لبریشن آرمی کا سرگرم رکن تھا۔ حقائق حیران کن ہیں۔ یعنی آپ اندازہ لگا لیں کہ غفار لانگو کی قبر آج بھی کالعدم دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کے پرچم سے مزین ہے۔ یہ وہی تنظیم ہے جسے دنیا بھر میں ایک دہشت گرد گروہ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور جو معصوم شہریوں، تعلیمی اداروں اور عام آبادی پر خودکش حملوں کی ذمہ دار ہے۔مہرنگ بلوچ نے اپنی کسی بھی تقریر یا تحریر میں کبھی کھل کر بی ایل اے یا اس کی خودکش ”مجید بریگیڈ“کی مذمت نہیں کی۔ اس خاتون کے بیانات محض رسمی اور مبہم نوعیت کے ہوتے ہیں تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ وہ غیر جانب دار ہیں، حالانکہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ان کے قائم کردہ پلیٹ فارم، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سرگرمیاں محض حقوق کی تحریک نہیں بلکہ دہشت گردی کے بیانیے کو تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ مثال کے طور پران کا سابقہ باڈی گارڈ، صہیب لانگو، بعد ازاں بی ایل اے کمانڈر کے طور پر سامنے آیا۔ایک اور رکن نے اپنے بھائی کے لاپتہ ہونے کی کہانی گھڑی، لیکن بعد میں انکشاف ہوا کہ وہی شخص 2024 ءکے مچھ حملے میں خودکش بمبار تھا۔یہ واقعات واضح کرتے ہیں کہ بی وائی سی، محض ایک سماجی پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کرتا ہے۔ مئی 2024ءمیں ناروے میں مہرنگ بلوچ نے یورگن واٹنے فریڈنیس سے ملاقات کی، جو ناروے کی نوبل کمیٹی کے رکن ہیں۔ یہ ملاقات ناروے میں مقیم ایک سرگرم کارکن اور بی ایل اے کے میڈیا ترجمان کے ذریعے ہوئی۔ مہرنگ کے حمایت یافتہ گروہ نے بھی کبھی کالعدم بی ایل اے اور بی ایل ایف کی طرف سے معصوم شہریوں کے قتلِ عام پر لب کشائی نہیں کی۔ اس کے برعکس ان کا سارا بیانیہ صرف خود ساختہ ریاستی ظلم کو اجاگر کرتا ہے اور دہشت گردوں کے مظالم کو یکسر نظرانداز کرتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ان کا ایجنڈا ہی دہشت گرد عناصر کو تقویت دیتا ہے۔ اس صورتحال میں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مہرنگ بلوچ کی عالمی سطح پر پذیرائی کسی مقامی تحریک کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی کھیل کا حصہ ہے۔بلوچستان کے عام شہری با شعور ہیں اور سب کچھ سمجھتے ہیں۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور اس کے بانی حربیار مری برسوں سے بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را“اور اسرائیل کی موساد سے روابط رکھتے ہیں۔ ان کے بیانیے کو آگے بڑھانے کے لئے بھارتی میڈیا اور مغربی تھنک ٹینکس انکے سہولت کار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اب یہی بیانیہ مہرنگ بلوچ کے ذریعے عالمی فورمز پر لایا جارہا ہے تاکہ پاکستان کو کمزور اور بدنام کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یورگن واٹنے فریڈنیس اور ان جیسے دیگر لوگ جان بوجھ کر اس کھیل کا حصہ بنے ہیں یا ایک منظم لابی ان کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے ؟بہرحال دونوں صورتوں میں نقصان نوبل انعام کی ساکھ کا ہی ہے۔ لوگ اگر باتیں کررہے ہیں تو یہ تنقید براہ راست نوبل انعام کمیٹی پر ہو رہی ہے۔ یہ معاملہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ عالمی امن کے لئے خطرہ بھی ہے۔ کالعدم بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ بین الاقوامی سطح پر دہشت گرد تنظیمیں قرار دی جاچکی ہیں۔ ان کے ساتھ جڑے کسی بھی فرد یا گروہ کو ”امن کا سفیر“ کیسے بنایا جا سکتا ہے ؟اگر ایسی شخصیات کو نوبل انعام جیسے معتبر پلیٹ فارم پر زیر غور بھی لایا جا تا ہے تو یہ ان لاکھوں بے گناہ متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہوگی جو انہی گروہوں کے ہاتھوں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں۔ مہرنگ بلوچ کے ایجنڈے کو اگر بے نقاب نہ کیا گیا تو بہت نقصان ہو سکتا ہے اور یہ نقصان عالمی امن کو چیلنج کرنے کے لئے کافی ہوگا۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ نوبل کمیٹی اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کرے۔ نہ صرف مہرنگ بلوچ کے بی وائی سی اور بی ایل اے سے تعلقات کا جائزہ لینا ضروری ہے بلکہ فریڈنیس اور پن نوروے کے کردار کی بھی چھان بین ضروری ہے۔ نوبیل انعام کے بانی الفریڈ نوبل نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ایک دن دہشت گردوں کے حمایتی بھی امن کے دعویدار بن کر آنکھوں میں دھول جھونکیں گے۔

ٹیگز: