Wed, September 16, 2026

استعمال شدہ گاڑیوں پر 40 فیصد ٹیرف عائد، چار سال میں بتدریج خاتمہ متوقع

استعمال شدہ گاڑیوں پر 40 فیصد ٹیرف عائد، چار سال میں بتدریج خاتمہ متوقع

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر 40 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور یہ مرحلہ وار چار سال میں ختم کیا جائے گا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و صنعت کے اجلاس میں جوائنٹ سیکریٹری ٹریڈ پالیسی محمد اشفاق نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد مقامی مارکیٹ کو منظم کرنا اور کم معیار یا حادثاتی گاڑیوں کی درآمد کو روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر پابندی برقرار ہے، اور صرف ٹرانسفر آف ریذیڈنس، بیگیج اور گفٹ اسکیمز کے تحت گاڑیاں ملک میں لائی جا سکتی ہیں، جو مقامی طلب کا تقریباً 25 فیصد پورا کرتی ہیں۔

محمد اشفاق کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ستمبر 2025 سے پاکستان کو پانچ سال پرانی کمرشل گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دینا ہوگی، جبکہ جولائی 2026 تک ان پر عائد عمر اور دیگر پابندیاں بھی ختم کر دی جائیں گی۔

مزید برآں، مستقبل میں آٹھ سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی بھی اجازت دی جائے گی، تاہم ساتھ ہی ماحولیاتی معیار کو سخت بنایا جائے گا تاکہ آلودگی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

ٹریڈ پالیسی حکا م کے مطابق  پاکستان کو پانچ سال میں درآمدی ڈیوٹی کی مجموعی شرح 20.2 فیصد سے کم کر کے 9.7 فیصد تک لانی ہوگی، اور آٹو پالیسی کے تحت 35 فیصد کسٹمز ڈیوٹی والی اشیاء پر یہ شرح جولائی 2026 سے مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔