راولپنڈی سے اپنے گائوں آنے جانے کے لئے ہفتے میں کم از کم ایک مجھے اڈیالہ روڈ پر سفر کرنا ہوتا ہے۔ یہ وہی سڑک ہے جس پر راولپنڈی سے تقریباً بارہ، تیرہ کلو میٹر جانب جنوب راولپنڈی سنٹرل جیل جسے عرفِ عام میں اڈیالہ جیل کے نام سے پکارا جاتا ہے بنی ہوئی ہے۔ مجھے اکیلے اور اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ اس سڑک پر سفر کرتے ہوئے کئی عشرے بیت چکے ہیں۔ اس طرح اس سڑک اور اس کے آس پاس کے ماضی بعیدو ماضی قریب اور زمانہ حال کے مناظر بڑی حد تک میری نگاہوں میں موجود ہیں۔ ایک زمانہ تھا یہ سڑک کچی ہوا کرتی تھی ۔ اس کے کناروں پر شیشم کے بڑے بڑے درخت ہوتے تھے، جن کے ٹہنے سڑک کے بیچ تک اور بعض جگہوں پر آر پار پھیلے ہوا کرتے تھے۔ پھر یہ سڑک مرحلہ وار پختہ ہونا شروع ہوئی لیکن پھر بھی یہ تنگ اور سنگل سڑک ہی تھی۔ پچھلی صدی کے اَسی کے عشرے کے دوران اس پر سنٹرل جیل راولپنڈی کی تعمیر شروع ہوئی جو اَسی کے عشرے کے آخری برسوں میں مکمل ہوئی ۔غالباً 1986 یا1987 میں سنٹرل جیل راولپنڈی یہاں منتقل ہوئی تو اس سڑک کی اہمیت میںہی اضافہ نہ ہوا بلکہ اس پر بننے والی سنٹرل جیل راولپنڈی کو بھی سنٹرل جیل اڈیالہ کے نام سے پکارا جانے لگا۔
اڈیالہ جیل شروع سے بڑی اہم چلی آ رہی ہے ۔ ا سکو اس لحاظ سے بڑی اہمیت حاصل ہے کہ نیب عدالتوں سے نظر بند یا سزا یافتہ یا دیگر مقدمات میں سزا یافتہ ملکی اور قومی سطح پر معروف شخصیات یا سابقہ اعلیٰ حکومتی عہدیدار یہاں پر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے یا دوسرے لفظوں میں قیدوبند کے مزے لوٹتے رہے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری، سابقہ وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف، محترمہ مریم نواز شریف ، سید یوسف رضا گیلانی، مخدوم جاوید ہاشمی اور چوہدری پرویز الہٰی جیسی ملکی اور قومی سطح کی معروف شخصیات مختلف ادوار میں کئی طرح کے مقدمات میں ماخوذ یا سزایافتہ قیدی کے طور یہاں بند رہی ہیں۔ اب پچھلے تقریباً 2 سال یا اس سے بھی کچھ زیادہ عرصے سے سابق وزیرِ اعظم جناب عمران خان ایک سزایافتہ قیدی کے طور پر یہاں اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اُن کے ساتھ اُن کی اہلیہ محترمہ بشریٰ بی بی جنہیں یہ رعایت دی گئی تھی کہ وہ بنی گالا میں اپنی قیام گاہ کے ایک مخصوص حصے جس کو سب جیل قرار دیا گیا تھا میں رہ سکتی ہیں لیکن انہوں نے اپنے سرتاج عمران خان کے پہلو میں اڈیالہ جیل میں باقی خواتین قیدیوں کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی اور وہ اب یہاں پر ہی اپنی قید کی سزا پوری کر رہی ہیں۔
اڈیالہ جیل کے اندرونی مناظر کے بارے میں تو جیل کے مکین ہی بتا سکتے ہیں لیکن باہر کے مناظر کے بارے میں میر ی طرح کے اس کے سامنے سے گزرنے والے کچھ نہ کچھ بات کر سکتے ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر کے مناظر پچھلے ڈیڑھ دو سال کے کچھ استثنیٰ کے ساتھ بڑی حد تک یکساں ہی نظر آتے ہیں۔ اتوار اور چھٹی کے دنوں کو چھوڑ کر ہفتے کے باقی دنوں میں صبح کے اوقات میں اڈیالہ جیل میں بند حوالاتیوں یا قیدیوں سے ملاقات کے خواہشمند اُن کے مرد، خواتین ، بچے عزیز و اقارب اپنے ہاتھوں میں اشیاء خورو نوش اور دیگر سامان پوٹلیاں اُٹھائے جیل میں بند اپنے عزیزوں سے ملاقات کے منتظر نظر آتے ہیں۔ یہ سلسلہ دوپہر تک چلتا رہتا ہے ۔ پھر شام کو 6 بجے کے بعد جیل کے باہر ایک اور منظر دیکھنے کو ملتا ہے ۔ سڑک پر چھوٹی بڑی گاڑیوں جن میں زیادہ تر ٹیکسیاں یا کرائے پر چلنے والی گاڑیاں ہوتی ہیں کی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ 6 بجے یا اُس کے بعد جب جیل میں بند قیدیوں یا حوالاتیوں کی آخری گنتی مکمل ہوتی ہے تو اُس دن رہا کئے جانے والے حوالاتیوں یا قیدیوں کو رہائی کا پروانہ بھی مل جاتا ہے۔ وہ اپنے سازوسامان اور کپڑوں کے تھیلوں اور پوٹلیوں کے ساتھ جیل سے باہر آ جاتے ہیں اور باہرمنتظر اپنے عزیزوں کے ساتھ گاڑیوں یا سواریوں میں بیٹھ کر اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے ہیں۔
جیل کے باہر کے یہ مناظر میں نے کئی بار دیکھے ہونگے لیکن پچھلے تقریباً دو سال یا اس سے بھی کچھ زیادہ عرصے سے جیل کے باہر کچھ نئے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مجھے ان مناظر کو پورا اور براہِ راست دیکھنے کاموقع نہیں ملا کہ یہ مناظر عموماً منگل اور جمعرات کے دن سامنے آتے ہیں ۔ میرے گائوں آنے جانے کے دن عام طور پر ہفتہ اور اتوار ہوتے ہیں، اس طرح میرا منگل یا جمعرات کو جیل کے سامنے سے کم ہی گزرنے کا اتفاق ہوتا ہے۔ تاہم دو چار بار ایسا بھی ہوا کہ مجھے منگل یا جمعرات کو گائوں میں کسی فوتگی یا جنازے میں شرکت کے لئے اڈیالہ جیل کے سامنے سے گزرنے کا موقع ملا۔ صبح کے اوقات میں گائوں جاتے ہوئے نیوز چینلز کی وینز وغیرہ تو سڑک کے کنارے ضرور کھڑی دیکھنے میں آئیں لیکن واپسی پر اڈیالہ جیل کے سامنے سے گزر ہی نہ سکا کہ اڈیالہ جیل سے کوئی ایک آدھ کلو میٹر آگے گورکھ پور کے مقام پر پولیس ناکے کی وجہ سے جیل کا راستہ بند ملا اور مجبوراً گورکھ پور سے بحریہ ٹائون فیز 7 اور 8 کے نسبتاً طویل راستے سے گزر کر اپنے گھر پہنچنا پڑا۔ اڈیالہ جیل کے باہر ضروری نہیں کے ہر منگل اور جمعرات کو ایسے ہوتا ہو کہ اڈیالہ جیل سے جانب راولپنڈی تقریباً 1 کلو میٹر کے فاصلے پر داہگل کے مقام پر یا اڈیالہ جیل سے 1 کلو میٹر آگے کاروباری مرکز پر پولیس ناکے لگا کر اڈیالہ جیل کے سامنے سے گزرنے کا راستہ بند کر دیا جاتا ہو۔ عموماً منگل کے دن جب عمران خان کی بہنوں علیمہ خان ، نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان اور اُن کے کچھ دیگر عزیز و اقارب کی عمران خان سے ملاقات کا پروگرام بناہو اور جیل حکام کی طرف سے انکار کر دیا گیا ہو تو پھر اُن کو اِدھر داہگل والے یا آگے گورکھ پور والے کسی ایک ناکے پر روک دیا جاتا ہے۔
یہاں میں اڈیالہ روڈ کے حوالے سے ایک اورتکلیف دہ اور پریشان کن پہلو کا ذکر کرنا چاہوں گا جس کا سامنا جہاں اڈیالہ روڈ پر بسنے والے اور اس سے گزر کر آنے جانے والوں کو دن رات کرنا پڑ رہا ہے وہاں عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنے والے اُن کے وکلا ، اُن کے عزیز و اقارت اور اُن کی پارٹی کے رہنمائوں کو بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ اڈیالہ روڈ پچھلے تقریباً ڈیڑھ سال سے خواجہ کارپوریشن چوک سے تقریباً12 کلو میٹر کے فاصلے پر آگے گورکھ پور تک ازسرِ نو تعمیر کی جا رہی ہے ۔ سڑک کی تعمیر کا کام کسی صورت میں مکمل ہونے میں نہیں آ رہا اس پر جا بجا کہیں گڑھے پڑے ہوئے ہیں تو کہیں موٹی بجری بچھی ہوئی ہے اور کہیں مشینیں وغیرہ کام کر رہی ہیں ہر وقت شور شرابہ اور گرد و غبار کے طوفان اُٹھے رہتے ہیں۔ اڈیالہ روڈ کے آس پاس کے مکینوں کو تو اس پر گزرنے کی مجبوری ہے لیکن آفرین ہے تحریکِ انصاف سے وابستہ عمران خان کے پیروکاروں کے لئے کہ وہ ٹریفک بندش، گاڑیوں کے پھنسنے اور انتہائی تکلیف دہ حالات میں اڈیالہ جیل جانے کے لئے رواں دواں رہتے ہیں۔