Wed, September 16, 2026

9 مئی کا اعتراف، 11 سالہ تحریک، سیلاب

9 مئی کا اعتراف، 11 سالہ تحریک، سیلاب

حیرت انگیز خبریں ،خان نے 9 مئی کے واقعات کا اعتراف کر لیا، پی ٹی آئی میں جوتم پیزار، عالیہ حمزہ کو شٹ اپ کال۔ 5 اگست کو 10 لاکھ کا جلسہ، سینٹ الیکشن میں بندر بانٹ، 11 ہزار گرفتاریاں، ماما نے بیٹوں کو پاکستان جانے سے منع کر دیا لیکن سب سے پہلے سیلاب ’’آنکھیں تو کھول شہروں کو سیلاب لے گیا‘‘۔ مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی، 193 افراد بند اور ڈیم توڑنے والے سیلاب کی نذر ہو گئے، نئی خبر نہیں، ہر سال یہی کچھ ہوتا ہے، تباہی مقدر، پیشگی انتظامات نہ ہونے اور آبی راستوں میں رکاوٹوں کے باعث بارشیں رحمت کی بجائے زحمت بن جاتی ہیں، پہلے بارشوں کے لیے دعائیں پھر بارشیں بند ہونے کی التجائیں، بجا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس سال توقع سے زیادہ بارشیں ہوئیں، اسلام آباد میں 258 ، راولپنڈی میں 252، چکوال میں 423 ملی میٹر بارش سے نظام زندگی درہم برہم۔ مگر نکاسی آب کے انتظامات بھی تو انتہائی ناقص تھے، متعلقہ محکمے صرف جولائی اگست میں جاگتے ہیں، ستمبر میں لمبی تان کر سو جاتے ہیں نالوں پر مکانات کی تعمیر عام رجحان پلاٹ سستے مل جاتے ہیں، ڈیمز کی مخالفت سیاسی رواج بن گیا۔ ہر سال سیلاب خیبر پختوانخوا سے چل کر پنجاب میں تباہی مچاتا ہوا سندھ میں داخل ہوتا ہے اور سمندر برد ہو جاتا ہے، سیلاب زدگان کو بچانے کی ذمہ داری فوج پر عائد اس سال بھی فوجیوں نے سیکڑوں افراد کی جان بچائی، دو ماہ بعد دریائوں میں ریت اڑنے لگے گی پھر پانی کی سیاست چلے گی، مون سون شروع ہوتے ہی رونا دھونا ہماری آنکھیں کیوں نہیں کھلتیں۔
سیاسی صورتحال کیا ہے؟ کیا جیل سے خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع ہو گئی، عوام میں تحریک ہی پیدا نہیں ہوئی تو تحریک کیسے چلے گی، محرم الحرام کے بعد چلنا تھی، مہینہ گزرنے کو ہے تحریک کے آثار نظر نہیں آتے کپتان کی ٹیم میچ سے پہلے گتھم گتھا ہو گئی، وہ جوتم پیزار ہو رہی ہے جس کی مثال نہیں ملتی، گنڈا پور سو گاڑیوں کا قافلہ لاہور لائے تھے یوتھیا بریگیڈ نے بغلیں بجائیں کہ تحریک شروع ہو گئی، بعدازاں پتا چلا کہ گاڑیوں کی بارات مرزا آفرید ی کے فارم ہائوس میں اتری انہیں سینیٹ کا ٹکٹ دنیا مقصود تھا، ٹکٹ کا ریٹ مبینہ طور پر سیاسی مارکیٹ میں 22 سے 25 کروڑ چل رہا ہے ارب پتی مرزا آفرید ی نے پُر تکلف ڈنر دیا، ارکان اسمبلی اور لیڈروں نے کھانے کھائے، قوالی سنی اور سو گئے۔ قوالی کا آئٹم سیاست میں اسلامی ٹچ دینے کے لیے ضروری تھا، دوسری صبح پریس کانفرنس میں دراز زلف اور زبان دراز وزیراعلیٰ نے تحریک کو 90 دن (جنرل ضیاء الحق مرحوم کے گیارہ سال) تک توسیع کا اعلان کیا فرمایا کہ 90 دن تک خان کو رہا نہ کیا گیا تو ہم بچیں گے یا تم گیارہ سال تک ’’کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ البتہ اس وقت خان کی قید سے رہائی میں ایک سال رہ جاتا ہے (بشرطیکہ 9 مئی اور دیگر مقدمات میں مزید سزائیں نہ ہو گئیں) کیا دراز زلف کے 90 دنوں کو گیارہ سال ہی سمجھا جائے۔ پریس کانفرنس میں تلخ سوال جواب ہوئے، پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ کا ذکر چھڑا، سیکرٹری جنرل نے عدم شرکت کی وجہ ان کی ذاتی مصروفیات بتائیں لیکن عالیہ حمزہ کی ٹوئٹ نے کہ مجھے اپنی مصروفیات کا خود بھی علم نہیں، سلمان اکرم راجہ کو حد درجہ برہم کر دیا، انہوں نے عالیہ حمزہ کو شٹ اپ کال دے دی۔ خاتون نے جواب دیا آگے بڑھو یا ہٹ جائو، اظہار بے بسی، وہ شاخ ہی نہ رہی جس پہ آشیانہ تھا، پنجاب سے لوگوں کو سڑکوں پر لانے والی خاتون کو ہی کارنر کر دیا گیا، حیران کن خبر خان نے توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے دوران 9 مئی پر ایک اور یوٹرن لے لیا، میڈیا سے بات چیت کے دوران اعتراف کیا کہ میں نے گرفتاری سے قبل کارکنوں کو جی ایچ کیو اور چھائونیوں پر پُرامن احتجاج کے لیے کہا تھا بعد میں توڑ پھوڑ کے لیے انہوں نے اپنے بندے میرے کارکنوں میں شامل کر دئیے، سیانوں نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے جلائو گھیرائو کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہیں۔ خان پر مقدمہ چلا تو انہیں بھی فوٹیج دکھا دی جائے گی۔ خان کو ایک اور دھچکا لگا ہے ان کے مطابق 11 ہزار سوشل میڈیا ورکر گرفتار کر لیے گئے گویا ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ کہاں کی تحریک کہاں کی رہائی۔ پی ٹی آئی کی تحریک کب اور کیسے چلے گی 5 اگست کو حسب سابق صوابی میں جلسہ ہو گا۔ دعووں کے مطابق جلسہ میں 10 لاکھ افراد شامل ہوں گے لیکن اسلام آباد کا رخ نہیں کریں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور رانا ثناء اللہ نے انقلابیوں کو آر سے پہلے پار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن میں دراز زلف وزیر اعلیٰ نے اپوزیشن سے بندر بانٹ کر لی پی ٹی آئی کو 6 اور اپوزیشن کو 5 نشستوں پر اتفاق رائے ہو گیا لیکن نظریاتی کارکنوں نے کاغذات واپس لینے سے انکار کر دیا اور وزیر اعلیٰ ہائوس کے گھیرائو کی دھمکی دے دی۔ آج الیکشن کے نتائج غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔
کالم کے آخری میں پھر وہی رونا دھونا، حکومت نے شوگر ملز مالکان سے بات چیت کے بعد چینی کی قیمت 165 روپے کلو مقرر کی تاہم ہر ماہ دو روپے اضافہ ہو گا۔ اعلان کے باوجود چینی 200 روپے کلو میں فروخت 30 کروڑ کی 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے سے عوام کو کیا فائدہ ہوا۔ البتہ شوگر مافیا نے 115 روپے لاگت والی چینی 155 روپے میں فروخت کر کے اور 7 لاکھ 50 ہزار ٹن برآمد کر کے 90 ارب روپے کما لیے۔ شوگر ملز مالکان کے وارے نیارے، عوام کو 2 سو روپے کلو ہی میں دستیاب ہو گی۔ مرتے کو ماریں شاہ مدار، بجٹ کے اعلان کے بعد دو ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، عوام کو پیٹرول، بجلی، چینی اور سیمنٹ کی قیمتیں بڑھنے سے ہوشربا مہنگائی مار گئی۔ کیا ہو رہا ہے۔ اخبارات کی شہ سرخیاں ملکی معیشت کے لیے اچھی خبریں لیکن عوام پریشان تاجروں نے ہڑتالوں کی کال دے دی۔ حکومت سے مذاکرات کے بعد ہڑتال موخر کرنے کا اعلان کر دیا۔ جماعت اسلامی کے مظاہرے جاری ہیں۔ خادم عوام حکومت اس جانب بھی توجہ دے۔ تاہم میاں نواز شریف نے اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے پوری قیادت کو طلب کر لیا ہے۔

ٹیگز: