ذوالفقار علی بھٹو ہمارے عہد کے معروف سیاسی تجزیہ نگار نجم سیٹھی بارے جو رائے رکھتے تھے اور جن الفاظ سے انہیں ستر کی دہائی میں نوازتے تھے وہ تو آج بھی نا قابلِ اشاعت ہے ۔ اس کے علاوہ معراج محمد خان کے ساتھ ایک طویل سفر کرنے کے بعد مجھے نجم سیٹھی بارے اپنی رائے قائم کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی کیونکہ معراج محمد خان کو میں پاکستانی سیاست کی معراج سمجھتا ہوں ۔ جتنا بڑا سر ہو اُس کا درد بھی اُتنا ہی بڑا ہوتا ہے ۔ معراج بڑا آدمی تھا اُس نے تحریک انصاف میں اپنی بنی بنائی تربیت یافتہ ورکروں کی سیاسی جماعت پاکستان قومی محاذ آزادی ضم کردی اور پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ معراج کراچی سے اسلام آباد بطور سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف طے شدہ وقت کے مطابق بیماری کی حالت میںبانی چیئرمین تحر یک انصاف کو ملنے کیلئے تشریف لے گئے تومعلوم ہوا کہ صاحب بہادر اپنے پالتو کتوں کے ساتھ شکار پر تشریف لے جا چکے ہیں ۔ 6 سات گھنٹوں بعد بانی صاحب تشریف لائے تو ٹی ۔شرٹ اور ٹریک سوٹ کا ٹرائوئزر پہنے کتوں کی زنجیریں پکڑے اُس ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے جہاں معراج محمد خان تشریف فرما تھے ۔ معراج کو دیکھتے ساتھ ہی ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا :’’ معذرت ! معراج بھائی میرے ذہن سے نکل گیا تھا ۔‘‘ وہ معراج محمد جسے بھٹو نے راولپنڈی لیاقت باغ کے جلسہ میں اپنا وارث بنانے کی کوشش کی تو معراج نے اُسی جلسہ میں کہہ دیا :’’بھٹو صاحب! سیاست میں جانشینی نہیں اہلیت ہوتی ہے اور جو اہل ہو وہ خود ہی جانشین بن جاتا ہے ۔‘‘ معراج کے یہ الفاط ازاں بعد تاریخ نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شکل میں دنیا کو سچ کرکے دکھائے لیکن بنی گالہ میں اُسی معراج محمد خان نے بے بسی کی تصویر بنے اپنی تحریک کے بانی چیئرمین سے کہا :’’ عمران ! اب تمہارے ساتھ تمہارے کتے ہی رہیں گے ۔‘‘ اور یہ تعلق ختم ہو گیا ۔ یہ واقعہ آج مجھے اس لئے یاد آیا کہ جناب نجم سیٹھی کی چڑیا اور تجزیہ مل کر عمران نیازی اور بشریٰ بیگم کو عیدالضحیٰ سے پہلے یا بعد کسی ’’
ایم ۔ او۔ یو ‘‘ کے نتیجہ میں باہر لانا چاہتے ہیں اوروہ قوم کو بتا رہے ہیں کہ اوورسیز یوتھیوں کی گالیوں سے تنگ آ کر آخر کار فوجی جنتا کے اہم لوگوں نے اڈیالہ میں عمران نیازی سے ملاقات کی اور کچھ لے دے ہو گیا ۔ یہ کیسا ایم او یو ہے کہ آج بھی تحریک انصاف کے منہ سے فضائیہ کے کچھ تعریفی کلمات تو سننے کو ملے ہیں لیکن اس میں بری اور بحری فوج کا کہیں ذکر نہیں یعنی بغض ٗ حسد ٗ انتقام اور ریاستی اداروں سے نفرت ابھی 9 مئی کے دن پر ہی رکی ہے۔ اگر افواجِ پاکستان پاک بھارت جنگ کے دوران افواجِ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور بھارتی بیانیہ کو پرموٹ کرنے والوں کو کٹہرے میں لانا چاہتی ہے تو پھر نجم سیٹھی کے یہ تجزیے میری سمجھ سے باہر ہیں لیکن اگر واقعی کچھ طے ہو گیا ہے تو پھر قوم تیار رہے جس طرح 70 ء کی دہائی کے دہشتگرد کے تجزیے آج پوری قوم کو سننا پڑ رہے ہیں کچھ بعید نہیں کہ آنے والے دنوں میں ہم 9 مئی کے ’’مجاہدین‘‘ کی بھی فکری راہنمائی سے مستفید ہو رہے ہوں۔ اسیٹبلشمنٹ خیال رکھے کہ پاک بھارت جنگ میں چین نے آپ کے بہترین دوست کا کردار ادا کیا ہے اور عمران نیازی نے سی پیک ساڑھے تین سال بند رکھا تھا ۔ روس نے اس جنگ میں بھارت کے ساتھ تعلقات ہونے کے باوجود خاموشی اختیار کی ہے تو یاد رہے یہ وہی روس ہے جس کا دورہ عمران نیازی کیلئے دل کادور ہ ثابت ہوا تھا ۔ سعودیہ نے بھارت سے تمام تر مضبوط سفارتی تعلقات کے باوجود اُس کی حمایت کرنا تو دور کی بات پاکستان کو جنگ سے روکنے کی سنجیدہ کو شش بھی نہیں کی اوریہ وہی سعودی فرمانروا ہے جس نے روس کے دورے کیلئے عمران نیازی کوذاتی طیارہ فراہم کیا تھا لیکن دورہ مکمل ہونے سے پہلے واپس منگوا لیا تھا ۔ نوجوان نسل نے پاکستان سے محبت میں اپنی افواج کا ساتھ اور سوشل میڈیا پر بھی پاکستان مخالف بیانیے کا منہ توڑ جواب دیا ہے ۔عمران نیازی کو کسی این آر او یا ایم اویو کے نتیجہ میں رہا کرنا دراصل اُسے ایک اور 9 مئی کرنے کی اجازت دینے کے مترادف ہو گا ۔میں ذاتی حیثیت میں تو صرف اتنا ہی لکھ سکتا ہوں کہ اگر عمران نیازی کی رہائی کا کوئی پروانہ جاری ہوتا ہے تو اسٹیبلشمنٹ مستقبل میں مجھ سے تو اپنے مثبت کاموں کیلئے بھی ایک لفظ کی امید نہ رکھے کہ لکھنے کیلئے اور بہت سے مسائل ہیں۔ اگر ریاستی اداروں کو اپنی عزت کرانی نہیں آتی تو پھر ہم نہ تو ریاستی ملازم ہیں اور نہ ہی کسی مائی کے لعل سے مستفید ہوئے ہیں ۔
کچھ ایمان افروز مناظر ایسے ہوتے ہیں جن کو لکھے بغیر نہ تو روح مطمئن ہوتی ہے اور نہ ہی جسم کو قرار ملتا ہے ۔ جب کوئی زیارت بیت اللہ اور حاضری روضہ رسولؐ کیلئے جارہا ہوتو دل مچل جاتا ہے ۔ ہر سال کی طرح عبد العلیم خان نے اس مرتبہ بھی ویژن ڈویلپرز کے ملازمین کی بڑی تعداد کو حج کی سعاد ت کیلئے روانہ کیا ہے ۔ان حجاج کرام کا تعلق عبد العلیم خان کی ہائوسنگ سوسائٹی سے لے کر اُن کے نیوز چینل کے ملازمین اور فارمیسی کے ملازمین سے لے کر دوسرے دفاتر میں کام کرنیوالوں سے تھا ۔ تمام حجاج کرام سے چیئرمین عبد العلیم خان فائونڈیشن نے گزشتہ ہفتے خود ملاقات کی اور انہیں ملنے والی سہولتوں بارے دریافت کیا اور مزید کسی ضرورت کے بارے میںبھی پوچھا ۔ اہم بات یہ ہے کہ حج پر جانے والے تمام خوش نصیبوں کیلئے وہی پیکیج ہے جس پر خود عبد العلیم خان اور اُن کی فیملی حج کرتی ہے ۔ تمام تر اخراجات کے علاوہ ایک بڑی رقم فریضہء حج ادا کرنے والوں کو شاپنگ کیلئے بھی دی گئی ہے ۔اس کے علاوہ حج کی ادائیگی کے دوران اُن کی مکمل تنخواہ انہیں دی جائے گی۔چیئرمین عبد العلیم خان فائونڈیشن کے سی ای او بریگیڈئیر خالدبشیر اور سی او او اُسامہ نعمان نے حجاج کو لاہور ائر پورٹ سے دعائوں کی درخواست کے ساتھ رخصت کیا اور ان شاء اللہ واپسی پر ہمیشہ کی طرح انہیں چیئرمین عبد العلیم خان ایک باوقار محفل میں تکمیلِ حج اور وطن واپس پر خوش آمدید کہیں گے ۔ اللہ تمام حجا ج کا حج قبول فرمائے ٗ پاکستان خوشحال ٗ ہمیشہ سلامت رہے اور برادرم عبد العلیم خان کو اِس کار خیر کا اجر عظیم دربارِ خداوندی سے عطا ہو ۔