Wed, September 16, 2026

جنگ کیوں ہوئی اور کیسے رکے گی؟

جنگ کیوں ہوئی اور کیسے رکے گی؟

 امریکہ سے میرے دوست اور عزیز عرفان میر صاحب کا فون آیا۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے علاوہ دیگر دنیا کا جنگ میں مبتلا ہونے کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو رہی۔ میر صاحب انتہائی زیرک اور دانشور، انسان دوست شخصیت ہیں۔ ان کے ساتھ گفتگو میں اختلاف بھی رہا اور اتفاق بھی۔ 40 ٹریلین ڈالر سے زائد مقروض ’’سپر پاور‘‘ کا صدر حالیہ اسرائیل فلسطین تنازع جو پھیلتے ہوئے ایران اسرائیل تنازع بن گیا جس میں امریکی صدر کلیدی اور منفی کردار کے طور پر سامنے آئے تو خلیج کی اُن ریاستوں جن میں امریکہ کے عسکری اڈے موجود ہیں جنگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے بلاواسطہ یا بالواسطہ پوری دنیا اس جنگ کی لپیٹ میں آ گئی۔ ایک واقعہ سناتا چلوں جس کو کسی فلم میں بھی فلمایا گیا، اس میں طاقتور ولن ایک ریٹائرڈ سکول ماسٹر سے اس کی چند کنال آبائی زمین لینا چاہتا ہے کہ اس کو اپنے نائٹ کلب میں شامل کر کے شہر میں نائٹ کلبز آئیکون بن جائے انڈر ورلڈ کا طاقتور ستون بن جائے مگر وہ سکول ماسٹر خواہش رکھتا ہے کہ میں اس جگہ پر سکول تعمیر کروں گا اور گھر بھی سکول میں شامل کر دوں گا۔ انکار کرنے پر کوتوال سے کہہ کر اس کو تھانہ میں طلب کراتا ہے وہ سکول ماسٹر تھانے کے محرر سے کہتا ہے کہ میری فون پر بات کرا دو۔ محرر پوچھتا ہے کس سے بات کرو گے؟ ماسٹر کہتا ہے وزیر داخلہ سے۔ محرر کہتا ہے اِدھر جو بھی آتا ہے وزیر داخلہ سے کم بات نہیں کرتا۔ وہ نمبر ملا کر بات کراتا ہے دوسری جانب وزیر ہے جو ماسٹر کا شاگرد ہے، وہ حیرت میں مبتلا ہو کر ماسٹر سے پوچھتا ہے آپ تھانے میں کیوں آئے وہ کہتا ہے پتہ نہیں بس یہ لے کے آئے ہیں۔ اتنے میں وزیر داخلہ (پولیس جس کے ماتحت ہے) اپنی سادہ سی کار پر تھانے میں آ کر اپنے ٹیچر کو چھڑا لے جاتا ہے مگر ٹیچر رُک کر تھانے میں کھڑے ولن کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ بعض لوگوں میں کسی کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت نہیں ہوتی مگر تمہارے جیسے لوگ ان میں ہمت پیدا کر دیا کرتے ہیں اور وہ ہمت تم نے مجھ میں پیدا کر دی ہے لہٰذا میں اب کھڑا ہوں تم اپنا زور لگا لو۔ منسٹر صاحب باہر کھڑے ہیں، گاڑی کا ہارن بجتا ہے پروٹوکول کا ہُوٹر بجتا ہے ماسٹر صاحب تھانے سے باہر چلے جاتے ہیں۔ اب ولن بمقابلہ سکول ماسٹر ہے۔دراصل سکول ماسٹر تو صرف دستانہ ہی ہوتا ہے، اندر ہاتھ وزیر داخلہ کا ہوتا ہے۔ یہی صورتحال حالیہ ایران، امریکہ، اسرائیل جنگ کی ہے۔ کیا ایران دستانہ ہے جو اس نے اپنے پالیسی بیان میں روس اور چین کو سٹریٹیجک پارٹنر قرار دے کر آبنائے ہرمز میں اُن کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ کیا صدر ٹرمپ کی وینزویلا کے کروڈ آئل کے بعد ایرانی کروڈ آئل حاصل کرنے کی خواہش پوری ہو پائے گی؟ نہیں کبھی نہیں۔ کیونکہ امریکی صدر نے کریز سے بہت باہر آ کر شارٹ لگائی ہے۔ اس کے ادارے اس کے ساتھ نہیں ہیں، بین الاقوامی اداروں کو وہ پہلے ہی بے اثر و غیر متعلق کر چکا۔ اسرائیل کے عشق اور ملی بھگت سے امریکی صدر کا عہدہ جو کبھی دنیا کے صدر کے مترادف ٹھہر چکا تھا، آج دربدر دستک دینے پر مجبور کر دیا ہے اس کی کانگرس اور پینٹاگان اس کے اردوں کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہیں۔ اس کا اپنا اخلاقی کردار ایپسٹن کی بد نام زمانہ کہانی کا کلیدی کردار بن گیا۔ آج امریکی صدر کی وجہ سے امریکہ کو اپنی پنچایت کسی کے ڈیرے پر لگانا پڑے گی۔ ایران کے خلیجی ممالک پر حملے اگر حد پار کر گئے وہ بھی سکول ماسٹر کی طرح کھڑے نہ ہو جائیں مگر فیلڈ مارشل کی موجودگی میں اس حوالے سے راوی مطمئن ہے۔ آتے ہیں اس طرف کہ اس جنگ کا خاتمہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کو ختم کر دیں گے؟ ناممکن… کیا کوئی فتح پا سکے گا؟ ایسا بھی کچھ نہیں ہو گا۔ امریکی اداروں اور امریکی بااثر اتحادیوں کو چین اور روس کے ساتھ بیک ڈور پالیسی اختیار کرنا پڑے گی کہ امریکی صدر کے کھلنڈرے پن اور سولو فلائٹ کی حماقت سے امریکی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان اور دنیا کو اس مصیبت سے باہر نکالنے اور امریکہ کو فیس سیونگ کی راہ کا بندوبست ہو سکے۔ مگر اس صورتحال میں اسرائیل کی بحالی کبھی نہ ہو سکے گی۔ رہی بات کہ یہ جنگ کیا نظریاتی ہے؟ ہرگز نہیں، یہ معاشی جنگ ہے۔ یہ دنیا میں عملداری بڑھانے کی جنگ ہے۔ ورنہ کہاں ایران ایک ملائیت اور شیعیت پرمبنی ریاست اور کہاں چائنہ اور روس کی ریاستیں، کہاں وینز ویلا۔ یہ سب اقتصادیات، دنیا میں اپنے اپنے مؤثر مقام کے حصول کی جنگیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ عام آدمی کو کیسے بچایا جائے؟ اس کے مفاد کی نگرانی کیسے کی جائے؟ محکوموں، مظلوموں، فلسطینیوں، کشمیریوں بھارت میں دیگر پسے لوگوں کو بطور طبقہ اور قوم عام انسان کے حقوق کیسے دلائے جائیں۔ یہ امریکہ، اسرائیل، ایران جنگ تو جس دن چائنہ، روس اور دیگر مؤثر ممالک چاہیں گے، رُک جائے گی۔ امریکی صدر کی رنگ بازی اب کی بار درمیان میں آ گئی کیونکہ ایک بڑے منصب نے انتہائی چھوٹی حرکت کر ڈالی۔ صدر ٹرمپ کی خواہش ہے کہ چائنہ کا طے شدہ دورہ جنگ کے بعد کرے اس سے پہلے کچھ بندوبست ہو جائے مگر چائنہ کی مرضی ہے کہ جنگ کے دوران آئے تاکہ دنیا کو بھی تاثر جائے کہ دنیا میں سپرپاور کا صدر اپنے اتحادیوں، اپنے اداروں، اپنے لوگوں، بین الاقوامی تنظیموں کو پس پشت ڈال کر صہیونی محبت، اندھی طاقت کے زعم میں جو حرکت کر بیٹھا ہے اب اس کو ہاتھوں سے دی گئی گانٹھیں دانتوں سے کھولنا پڑ جائیں گی۔

ٹیگز: