Wed, September 16, 2026

حکومتی اتحاد ایک اور آئینی ترمیم لا سکتا ہے، طلال چوہدری

حکومتی اتحاد ایک اور آئینی ترمیم لا سکتا ہے، طلال چوہدری

فیصل آباد: وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام برقرار رکھنے کے لیے حکومت ضرورت پڑنے پر ایک اور آئینی ترمیم بھی متعارف کرا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات 27ویں ترمیم کے نفاذ کے چند روز بعد فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

طلال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم نے ملک کو استحکام فراہم کیا ہے، اور اگر مزید استحکام کے تقاضے سامنے آئے تو حکومت اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر نئی ترمیم لانے سے گریز نہیں کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئین سازی اور ترمیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے اور اسی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے حالیہ استعفوں پر ردِعمل دیتے ہوئے طلال چوہدری نے انہیں "سیاسی نوعیت کے فیصلے" قرار دیا۔ 27ویں ترمیم کے نافذ ہوتے ہی سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفے جمع کرائے تھے، جب کہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا بھی استعفیٰ دے چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں مزید استعفے بھی متوقع ہیں۔

وزیرِ مملکت نے کہا کہ جج آئین کے تحت حلف اٹھاتے ہیں اور ان کے اختیارات، مراعات اور حدود پارلیمنٹ طے کرتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ازخود نوٹس کے بے جا استعمال نے ماضی میں حکومتوں کو غیر مستحکم کیا اور وزرائے اعظم کو گھر بھیجا گیا۔

ٹیگز: