پہلے لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے اب ایک دوسرے کی مدد یا ایک دوسرے کے کام آنے کا معیار یہ بنا لیا گیا ہے جس کی جائز ناجائز مدد کرنی ہے وہ نقصان کتنا پہنچا سکتا ہے یا فائدہ کتنا پہنچا سکتا ہے ؟ جو کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا یا نقصان نہیں پہنچا سکتا ا±س کے کوئی کام آ جائے یہ ایک معجزہ ہے , میں پاکستان کی بات کر رہا ہوں , مہذب معاشروں میں ایسے نہیں ہوتا , ابھی پچھلے برس ہم کینیڈا میں تھے , میرے برادر نسبتی نے ہمیں کینیڈا کے کچھ خوبصورت پہاڑی مقامات پر لے کر جانا تھا , ہمارا یہ دو ہفتے کا وزٹ تھا , جس دن ہم نے روانہ ہونا تھا ساتھ والے گھر میں مقیم ایک بوڑھا شخص میرے برادر نسبتی کے گھر آیا , ا±س نے آ کر کہا “مجھے پتہ چلا ہے آپ لوگ دو ہفتوں کی ووکیشنز پر البرٹا جا رہے ہیں , آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے فرنٹ اور بیک لان کی گھاس بہت بڑھ جائے گی , ممکن ہے اس بناء پر سٹی کونسل آپ کو فائن کر دے , آپ اگر اجازت دیں میں آپ کی غیر موجودگی میں یہ گھاس کاٹ دوں ؟” , میرے برادر نسبتی نے مجھے بتایا “ ا±ن کا یہ ہمسایہ ریٹائرڈ پروفیسر ہے اور فارغ وقت میں ویلفیئر کے کام کرتا ہے , ہمارے ہاں فارغ وقت میں لوگ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہیں , ایک دوسرے کی غیبت کرتے ہیں ایک دوسرے کے لئے انتقامی کاروائیوں کے ون سونے طریقے ڈھونڈتے ہیں اور ان سب “ضروری و نیک کاموں” سے فرصت مل جائے ا±س میں “رزق حلال” کماتے ہیں , ہمارے کچھ افسران تو بہت ہی بد لحاظ ہو گئے ہیں , میں بڑے مزے کا ایک واقعہ آپ کو سناتا ہوں , کچھ سال پہلے جرمنی سے میرے ایک دوست پاکستان تشریف لائے , وہ مجھ سے کہنے لگے سیکرٹری لائیو سٹاک تمہارے دوست ہیں , مجھے ا±ن سے ایک بہت ہی جائز کام ہے , میں نے ایک کیٹل فارم بنانا ہے جس کی تمام ضروری دستاویزات میرے پاس ہیں , اب اس کا این او سی چاہئیے آپ میرے ساتھ چلیں” , میں نے عرض کیا “میں ا±نہیں فون کر دیتا ہوں آپ کا کام ہو جائے گا” , خیر ا±ن کے اصرار پر میں چلا گیا , سیکرٹری لائیو سٹاک نے بڑی آو¿ بھگت کی , جرمن سے آئے ہوئے میرے دوست کا موبائل نمبر لے لیا اور مجھ سے کہنے لگے “ آپ بے فکر ہو جائیں , ایک آدھ دن میں کام ہو جائے گا” , میں ا±س کے بعد امریکہ چلا گیا , کچھ عرصے بعد میں واپس آیا وہ سیکرٹری لائیو سٹاک ایک شادی میں مجھے مل گئے, بڑے غمگین لہجے میں وہ مجھ سے کہنے لگے “آپ اپنے جس دوست کو میرے پاس لے کر آئے تھے میں نے ا±س کا کام کر دیا تھا مگر میں پچھلے دنوں جرمنی گیا میں نے ا±نہیں بہت کالز اور میسجز کئے ا±نہوں نے کوئی رپلائی نہیں کیا” , ا±ن کی یہ بات سن کر مجھے اپنے ا±س دوست پر بہت غصہ آیا , میں نے گھر واپس آ کر اسے فون کیا اور بغیر ا±س کی س±نے ا±سے سخت ب±را بھلا کہنا شروع کر دیا , میری “بکواس” ختم ہوئی وہ بولا “آپ کے امریکہ جانے کے بعد میں نے سیکرٹری کو ا±ن کے موبائل پر کال کی اور عرض کیا “آپ نے فرمایا تھا ایک آدھ دن میں کام ہو جائے گا , اب ایک ہفتہ گزر گیا ہے کام نہیں ہوا , میں بٹ صاحب کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ ووکیشنز پر ہیں” , وہ فرمانے لگے “بٹ صاحب کو ڈسٹرب کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے آپ کل تشریف لے آئیں آپ کا کام ہو جائے گا” , میں اگلے روز گیا وہ فرمانے لگے “میں نے ڈپٹی سیکرٹری سے کہہ دیا ہے فائل تیار کر کے لے آو¿ , آپ بے فکر ہو کر جائیں آپ کا کام اسی ہفتے ہوجائے گا” , سیکرٹری صاحب کی بات سن کر میں ا±ن کے دفتر سے بڑا مطمئن ہو کر نکل آیا , ا±س کے بعد پھر دو ہفتے گزر گئے کام نہیں ہوا , میں پھر ا±ن کے دفتر چلا گیا , ا±نہوں نے فرمایا “ اصل میں جس افسر نے آپ کے این او سی پر دستخط کرنے ہیں وہ چ±ھٹی پر ہے , آپ پرسوں تشریف لے آئیں کام ہو جائے گا” , میں ا±س روز بڑا مایوس ہو کر ا±ن کے دفتر سے باہر نکلا ایک شخص نے مجھے روک لیا , وہ سیکریٹری کا ڈرائیور تھا , ا±س نے مجھ سے کہا “آپ بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں , میں نے بہت دفعہ آپ کو یہاں دیکھا ہے , خیریت ہے ؟ میں نے ا±سے اپنے کام کی تفصیل بتائی ا±س نے مجھ سے پوچھا “آپ “صاحب” کو کس ریفرنس سے ملے تھے ؟ , میں نے ا±سے آپ کا نام بتایا وہ آپ کو جانتا تھا , وہ مجھ سے کہنے لگا “صاحب کے ساتھ میری “سیٹنگ” ہے , آپ اگر وعدہ کریں آپ بٹ صاحب کو نہیں بتائیں گے , مجھے پانچ لاکھ روپے دیں میں آج ہی این او سی آپ کے گھر پہنچا د±وں گا” , میں نے اپنی کچھ تسلی وغیرہ کر کے پانچ لاکھ روپے ا±سے دے دئیے اور وہ شام کو این او سی میرے گھر دے گیا” , میں اپنے دوست کی یہ بات سن کر تقریباً سکتے میں آگیا , میں نے ا±س سے کہا “تم جھوٹ بولتے ہو , ایسے نہیں ہوسکتا” , ا±س نے ڈرائیور کو کانفرنس کال پر لیا میں ا±ن دونوں کی گفتگو خاموشی سے سنتا رہا ,جس کے بعد یہ ثابت ہوگیا میرا دوست واقعی سچ بول رہا تھا , میرا دوست مجھ سے پوچھنے لگا “اب آپ ہی بتائیں سیکرٹری لائیو سٹاک کا حق بنتا تھا وہ جرمنی آ کر مجھے فون اور میسجز کرے ؟ اور میں ایک کرپٹ افسر کی خدمت کروں ؟ میرا دل اتنا ب±را ہو گیا ہوا تھا میں نے ا±س کی کسی کال یا میسج کا جواب ہی نہیں دیا” , میں نے اپنے دوست سے کہا “تم نے بالکل ٹھیک کیا” , ا±س کے بعد میں نے سیکرٹری لائیو سٹاک کو فون کیا اور انتہائی سخت الفاظ میں ا±س سے کہا “تم نے میرے کہنے پر کام نہیں کیا تھا , جو کام تم نے ڈیڑھ ماہ لٹکائے رکھا وہ ڈیڑھ گھنٹے میں تمہارے ڈرائیور نے پانچ لاکھ روپے لے کر کروا دیا” میں نے ا±س سے کہا “میں یہ سارا واقعہ اپنے کالم میں لکھوں گا” , اس پر وہ سیکرٹری لائیو سٹاک گھبرا گیا اور رات کو کچھ مشترکہ دوست افسروں کو لے کر میرے گھر پہنچ گیا , اپنے ڈرائیور کو ب±را بھلا کہنے لگا , اور پانچ لاکھ روپے میرے حوالے کر دیئے , میں نے ا±س سے کہا “تمہاری اپنے ڈرائیور کے ساتھ اگر سیٹنگ نہ ہوتی آج تم ا±س کی برطرفی , معطلی یا انکوائری کے آرڈرز اپنے ساتھ لے کر آتے” , ہماری بیورو کریسی اس قسم کے بے شرم کرداروں سے بھری پڑی ہے , اس ضمن میں انتہا کا واقعہ یہ ہے امریکہ میں مقیم ایک دوست نے پاکستان میں ایک اعلیٰ پولیس افسر کو میسج کیا کہ میں اس وقت خانہ کعبہ میں بیٹھا آپ کے لئے دعائیں کر رہا ہوں” , پولیس افسر نے جوابی میسج میں لکھا “میں ڈیفینس میں گھر بنا رہا ہوں مجھے دعائیں نہیں پیسے بھیجو ” ,
فیر کیندے نے “ بٹ “ گالاں کڈ دا اے۔