کی، تو اس مٹی کے بیٹوں نے اپنے لہو سے شجاعت کی وہ داستانیں رقم کیں جن کی گونج دشمن کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیتی ہے۔ آج ایک بار پھر پاکستان کے سرحدی اور داخلی افق پر بادل چھانے کی ناکام کوشش کی گئی، لیکن جواب میں ریاستِ پاکستان کا جلال "غضبِ للحق" بن کر ٹوٹا ہے۔ یہ محض ایک فوجی آپریشن نہیں، بلکہ حق و باطل کے درمیان وہ لکیر ہے جو واضح کر رہی ہے کہ امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنے والے اب نشانِ عبرت بنیں گے۔
انتہائی افسوس اور تشویش کا مقام ہے کہ ہمسائیگی کے تمام تر آداب اور اسلامی اخوت کے دعوؤں کے برعکس، افغانستان میں قائم طالبان رجیم تحریکِ طالبان افغانستان کے پاس آج پاکستان کو برآمد کرنے کے لیے سوائے خودکش بمباروں اور مہلک ڈرونز کے کچھ باقی نہیں بچا۔ وہ سرزمیں جو امن اور استحکام کی منتظر تھی، اسے فتنہ الخوارج کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے۔ جب کسی ریاست کی پالیسی صرف بارود اور فتنے کی ترویج بن جائے، تو پھر پڑوسی ممالک کے پاس اپنی بقا اور دفاع کے لیے آہنی ہاتھوں کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے۔تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ دشمن اب روایتی جنگ کے بجائے ڈرون ٹیکنالوجی اور خودکش حملوں کے ذریعے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہے۔ اسلام آباد پر حالیہ ڈرون حملے کی ناکام کوشش اس مذموم سلسلے کی ایک کڑی تھی، جسے ہماری بیدار سکیورٹی فورسز نے بروقت ناکام بنا کر ثابت کر دیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔"عملیاتِ غضبِ للحق" دراصل اس صبر کا لبریز ہونا ہے جو پاکستان نے طویل عرصے تک ضبط کیے رکھا۔ کابل، پکتیا، قندھار اور خوست جیسے علاقوں میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنانا اس بات کا اعلان ہے کہ اب "دفاعی پوزیشن" کا وقت گزر چکا۔ اب جنگ وہاں لڑی جائے گی جہاں سے فتنے کی آبیاری ہو رہی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق، فتنہ الخوارج کے خلاف ان کاری ضربوں نے دہشت گردوں کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سینکڑوں دہشت گرد جہنم واصل ہوئے اور ان کے تربیتی کیمپ ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ یہ آپریشن اس سچائی پر مہرِ تصدیق ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ چاہے وہ فتنہ الخوارج ہوں یا ان کے سہولت کار، ریاستِ پاکستان اب ان کے تعاقب میں اس حد تک جائے گی جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔اخبارات کی شہ سرخیوں اور حالیہ بیانات سے یہ واضح ہے کہ اس وقت ملک کو جس چیلنج کا سامنا ہے، اس کا تقاضا "قومی میثاقِ امن" ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے بیانات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔
مزید برآں بدقسمتی سے، جہاں ایک طرف ہماری افواج سرحدوں پر سینہ سپر ہیں، وہیں سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا اور دشمن کی ہائبرڈ وار فیئر بھی عروج پر ہے۔ بھارتی اور افغان سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات کا مقصد عوامی حوصلوں کو پست کرنا ہے۔ یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم، میڈیا اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہوں۔ جب ریاست اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہو، تو اندرونی سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر صرف "پاکستان" کا پرچم تھامنا ہی دانش مندی ہے۔بہرحال ہم ان ماؤں کو سلام پیش کرتے ہیں جن کے لختِ جگر سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر لوٹتے ہیں، مگر ان کے ماتھے پر شکن کے بجائے فخر کی چمک ہوتی ہے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ کی حفاظت ہو یا کچلاک میں دہشت گردوں کا مقابلہ، ہمارے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ "شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن"۔ آپریشن غضبِ للحق ان تمام شہدا کے خون کا قرض ہے جنہوں نے اس مٹی کی خاطر اپنی جوانیوں کی قربانی دی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں عسکری قیادت کا یہ عزم کہ "آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی"، پوری قوم کے دل کی آواز ہے۔پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور ہم ہمیشہ خطے میں امن کے خواہاں رہے ہیں۔ لیکن ہماری اس شرافت کو بزدلی سمجھنا دشمن کی تاریخی بھول ہوگی۔ افغانستان کے حکمرانوں کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دہشت گردی کی نرسریاں پال کر وہ خود بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ آگ جب لگتی ہے تو سرحدیں نہیں دیکھتی۔آپریشن غضبِ للحق کامیابی کی اس منزل کی طرف پہلا قدم ہے جہاں پاکستان کی فضاؤں میں ڈرونز کے سائے نہیں بلکہ ترقی کے رنگ بکھریں گے۔ قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب اس فتنے کا جڑ سے خاتمہ کر دیا جائے گا۔ حق آ چکا ہے اور باطل کو مٹنا ہی ہے۔