گزشتہ چند دہائیوں سے عالمی منظر نامے پر پاکستان کو جس طرح کے چیلنجز کا سامنا رہا، ان کے بعد آج اسلام آباد سے اٹھنے والی سفارتی لہریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اب صرف ایک ریاست نہیں بلکہ عالمی سیاست کا ایک ایسا "ناگزیر کھلاڑی" بن چکا ہے جس کے بغیر خطے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ریاض کے پرتعیش محلات سے تہران کے سفارتی ایوانوں تک اور واشنگٹن کے وائٹ ہاو¿س سے بیجنگ کے گریٹ ہال تک، آج ہر جگہ پاکستان کی بصیرت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیرِ قیادت عسکری و سیاسی سفارت کاری کا ڈنکا بج رہا ہے۔
ریاض میں وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی حالیہ بیٹھک محض ایک روایتی ملاقات نہیں تھی، بلکہ یہ دو برادر ملکوں کے درمیان "سٹرٹیجک شراکت داری" کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کا عزم تھا۔ اس ملاقات نے ثابت کر دیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ صرف مذہبی عقیدت تک محدود نہیں بلکہ اب یہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کی ضمانت بن چکا ہے۔ سعودی ولی عہد کا پاکستان پر اعتماد اور معاشی میدان میں بڑے پیکیج کا اعلان اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستان کی معاشی کشتی اب بھنور سے نکل کر ساحلِ مراد کی طرف گامزن ہے۔
جب خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہوں اور عالمی طاقتیں دست و گریبان ہوں، ایسے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے وفد کا تہران پہنچنا ایک ماسٹر سٹروک سے کم نہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی جانب
سے سپہ سالار کا پرتپاک استقبال اس اہمیت کو ظاہر کرتا ہے جو ایران پاکستان کو دیتا ہے۔ اس دورے کا اصل ہدف محض دوطرفہ تعلقات نہیں بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرنا ہے۔ پاکستان یہاں ایک "ثالث" کے طور پر ابھرا ہے، جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان برسوں کی خلیج کو پاٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار امریکی ایوانوں سے پاکستان کے لیے ایسے تعریفی کلمات سننے کو مل رہے ہیں جو ماضی کی تلخیوں کو دھونے کے لیے کافی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کو "ناقابلِ یقین ثالث" قرار دینا اور پاکستانی قیادت کی کوششوں کو سراہنا اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان کی دوستی کی قیمت اب عالمی طاقتوں کو سمجھ آ رہی ہے۔ ٹرمپ کا یہ ماننا کہ پاکستان کے بغیر ایران کے ساتھ مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانا ممکن نہیں، پاکستان کی "سافٹ پاور" اور سفارتی اثر و رسوخ کی فتح ہے۔
صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا اعلان اور ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا عندیہ ایک عالمی بریک تھرو ہے۔ اس پورے منظر نامے میں پاکستان وہ پل ہے جس پر چل کر امریکہ اور ایران ایک دوسرے تک پہنچ رہے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ "جو کچھ کر رہا ہوں چین اور دنیا کے لیے کر رہا ہوں"، اس عالمی تکون (پاکستان، چین، امریکہ) کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جس کا مرکز پاکستان بنتا جا رہا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ کو لکھے گئے خط اور ایران کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کے معاہدے نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کی ثالثی نے بیجنگ اور واشنگٹن کو بھی ایک نکتے پر متفق کر دیا ہے۔
پاکستان کی یہ غیر معمولی سفارتی کامیابیاں اور عالمی سطح پر ایک "بڑے کھلاڑی" کے طور پر ابھرنا ان قوتوں کے لیے کسی ڈراو¿نے خواب سے کم نہیں جو پاکستان کو تنہا دیکھنا چاہتی تھیں۔ اسلام مخالف لابی، جو ہمیشہ پاکستان کو ایک کمزور اور مسائل زدہ ریاست کے طور پر پیش کرتی تھی، آج ان کے ایوانوں میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ایک ایٹمی قوت، جس کی فوج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے، اب عالمی امن کی کنجی بن چکی ہے۔ پاکستان کا تہران اور واشنگٹن کو ایک میز پر لانا ان سازشی عناصر کے منہ پر طمانچہ ہے جو خطے میں فرقہ واریت اور عدم استحکام کی آگ بھڑکانا چاہتے تھے۔ یہ خبر کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی اور مکمل جنگ بندی کے مذاکرات اب پاکستان میں ہوں گے، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سفارتی اعزاز ہے۔ پاکستانی وفد جو پہلے ہی اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے تسلسل کا حصہ ہے، اب عالمی تاریخ کا رخ متعین کرنے جا رہا ہے۔ یہ مذاکرات صرف دو ملکوں کے درمیان نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن اور معیشت کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
آج کا پاکستان دفاعی طور پر مضبوط، سفارتی طور پر فعال اور سیاسی طور پر پر اعتماد ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ بصیرت اور سیاسی قیادت کے ہم آہنگ اقدامات نے پاکستان کو عالمی بساط پر وہ مقام دلا دیا ہے جہاں اس کی مرضی کے بغیر مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بننا ممکن نہیں۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف اسلام کا قلعہ ہے بلکہ عالمی امن کا وہ ناگزیر ستون بھی ہے جس پر پوری دنیا تکیہ کر رہی ہے۔
قارئین کرام ! عالمِ اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کے لیے پیغام واضح ہے: پاکستان اب پیچھے ہٹنے والا نہیں، یہ وہ "بڑا کھلاڑی" ہے جس نے اپنی کامیابیوں سے دنیا کو حیران کر دیا ہے اور ان شا اللہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان دنیا کی معاشی اور سیاسی قیادت میں اپنا اصل مقام حاصل کر لے گا۔