Wed, September 16, 2026

مشن نور، جانشینی کی جنگ، 27 ویں ترمیم

مشن نور، جانشینی کی جنگ، 27 ویں ترمیم

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پر اسرار سناٹا طاری ہے، تاہم واقفان حال کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے بڑا طوفان کروٹیں لے رہا ہے، کچھ بڑا ہونے والا ہے، بڑی تبدیلیاں، اہم فیصلے زیر غور ہیں جن کا تعلق حکومت اور دیگر اداروں سے ہے۔ فیصلوں پر سوچ بچار جاری، سب سے پہلے سیلاب جو ابھی تک جنوبی پنجاب کے وسیع علاقے میں تباہی مچا رہا ہے بستیاں زیر آب فصلیں تباہ، شہروں اور گنجان آبادیوں کو بچانے کے لیے بند توڑے گئے۔ بندوں کو بچانے کے لیے بند توڑنا ضروری تھے۔ ہفتہ دس دن کی بات، سیلاب سمندر کی گود میں جا گرے گا، پانی اترے گا تو آبادکاری شروع ہو گی، تباہ شدہ فصلوں سے مہنگائی بڑھے گی۔ آٹا، چینی، سبزیوں کی قیمتیں بڑھ گئیں، قیمتیں بڑھانے والے ایسے ہی مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں، حکومت ایکشن لے تو ہڑتال کی دھمکیاں، دھرنے، خدا ترسی اور عوام کی حالت زار کی پروا نہیں، ’’کسے پڑی ہے کہ جا سناوے ہمارے پی کو ہماری بتیاں‘‘ سیلاب کے دوران بند توڑ کر بندوں کو بچا لیا گیا۔ ملک بچانے کے لیے مصلحتوں، صبر و تحمل اور ضبط کے بند کیوں نہیں توڑے جاتے، آزمائش کا دور ہے معاف کیجئے اداروں سے بیانات، بیانات سے فیصلوں اور فیصلوں پر عملدرآمد تک ہمارا ریکارڈ اچھا نہیں۔ ملک میں زرعی اور ماحولیاتی ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ، بابو جی عملدرآمد میں کتنے دن، مہینے اور سال لگیں گے؟ جوانی کی شاہراہوں سے بڑھاپے کی تنگ گلیوں میں داخل ہو گئے۔ فیض صاحب کی نظم ’’ہم دیکھیں گے‘‘ سنتے سنتے کان پک گئے۔ دیکھنے کو کچھ نہ ملا۔ اب تک تجربات ہی ہو رہے ہیں، شاید مزید کسی تجربے کی گنجائش نہیں، اس لیے تادیر (غالباً آئندہ دس سال تک) یہی نظام چلے گا۔ زرعی ایمرجنسی طویل بحث کی متقاضی، ماحولیاتی ایمرجنسی کی ایک شق ماحول سدھار پر عملدرآمد اور فوری ضرورت، بقول شخصے ایک ’’مقبول‘‘ جماعت کے بانی اور جیل سے باہر کی قیادت ملک میں استحکام آنے ہی نہیں دیتی۔ دو صوبوں میں فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کی مخالفت، دہشتگردوں کے خود کش حملوں پر اظہار اطمینان، فوجی افسروں اور جوانوں کو شہید کرنے والوں سے اظہار یکجہتی، اسرائیل کی مذمت پر لمبی خاموشی، ’’کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟‘‘ سیلاب ہی کو لے لیجئے، پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اس تباہی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دھاندلی کی وجہ سے میں ایم این اے نہ بن سکا اسی لیے عذاب آیا، سینئر صحافی رئوف کلاسرا نے اپنے کالم میں لکھا ’’بڑا سمجھدار عذاب ہے جو راجہ صاحب کو ہرانے کی سزا لاکھوں کسانوں اور غریبوں کو دے رہا ہے مبینہ دھاندلی کرنے والوں کو نہیں‘‘ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے علاقہ بونیر میں کئی گائوں پتھروں کی بارش سے صفحہ ہستی سے مٹ گئے، یہاں سے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر جیتے تھے۔ دھاندلی نہیں ہوئی پھر عذاب کیوں اترا۔ پارٹی کو ملک عزیز ہے نہ پختونخوا صوبہ کی پروا شخص واحد کی رہائی مطلوب، رات دن دہائی خان کی جان خطرے میں ہے ملاقاتیں سہولتیں ندارد، ٹی وی اخبارات بند ہیں خان کے بچے اقوام متحدہ میں پہنچ گئے۔ تحقیق طلب معاملہ ٹی وی بند ہے یا بیوی بند ہے۔ ٹی وی کھل گیا بیوی صاحبہ کو عدالتوں سے رہائی ملے گی۔ ہر روز ہر ہفتہ نئی تحریک کی کال۔ گزشتہ ہفتہ مذہبی ٹچ دینے کی غرض سے مشن نور کی کال دی گئی۔ جیل سے باہر قیادت نے خان کا پیغام پہنچایا کہ معرکۂ حق و باطل درپیش ہے (مطلب یہ کہ حق جس کا نام نامی خان ہے بُری طرح پس رہا ہے) قوم یوتھ کے ارکان 20 ستمبر کو چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دیں، گرفتاری کا خطرہ ہو تو کمرے میں اذان شروع کر دو تا کہ خان رہا ہو سکے نوخیز یوتھیوں نے کہا ہمیں تو اذان ہی نہیں آتی (گالم گلوچ کی تربیت پانے والوں اور ذہنوں میں ’’بڑا بت‘‘ چھپائے لوگوں کو اذان دینا کیسے آئے گا) اسی دوران بیرسٹر گوہر نے 30 ستمبر سے قبل بانی کی رہائی کا مژدہ سناتے ہوئے کہا کہ بانی کے حکم پر پارٹی نے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 10 بڑے شہروں میں جلسے کیے جائیں گے عوامی رابطہ مہم شروع کی جائے گی جلسوں کے حربے آزمائے ہوئے ہیں، محترم انصار عباسی کے مطابق ’’یہ کیسا سیاسی شعور ہے یہ کیسی حقیقی آزادی کی جنگ ہے یہ کیسی سیاست ہے جس میں اپنی ہی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کے علاوہ سب کے سب مشکوک ہیں 
کس کو کس وقت غدار بنا دیا جائے کس کو کس وقت ٹائوٹ کا خطاب دے دیا جائے کون کس وقت گالیوں اور نفرت کا شکار بن جائے اس کا کسی کو علم نہیں لیکن باری سب کی آنی ہے‘‘۔ خان نے پارلیمنٹ اور قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کا حکم دیا، 52 ارکان نے استعفے سپیکر کے پاس جمع کرا دئیے، سینیٹ کے ارکان نے چیئرمین کی بجائے اپوزیشن لیڈر علی ظفر کے حوالے کیے، نا اہل ہونے والے پریشان بھائی بندوں کو بھی میدان میں نہیں اتار سکتے۔ ’’نا اہلیوں کا شور ہے اور ہم ہیں دوستو‘‘ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے بھونپو اتنی بڑی تعداد میں ملک دشمن اور حکومت مخالف بیانیوں کا پرچار کر رہے ہیں کہ حکومت وزیروں، مشیروں اور اپنے معدودے چند حامی صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے ساتھ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ دھیمے مزاج کے خوگر وزیروں مشیروں کو گالم گلوچ کی تربیت نہیں جیل کے سامنے کھڑے ہو کر ماں، بہن کی گالیاں دیتے ہوئے انسانی اعضاء کا بار بار نام لینے والے وکلاء اور غریب مسکین صحافی طیب بلوچ کی چھترول کرنے والے یوتھیوں کی طرح کے انقلاب پسند جوانوں کی بھرتی کیلئے حکومت کو اشتہارات دینا پڑیں گے۔ پارٹی میں جانشینی کی جنگ بھی جاری ہے۔ وکلاء قیادت کو دور پرے سے پیغام مل گیا کہ خان بہت دیر تک شاید باہر نہ آ سکیں اس لیے متبادل کی تلاش شروع ہو گئی، بشریٰ بی بی اندر ہیں باہر موروثی قیادت کو ترجیح دی جانے لگی۔ علیمہ خانم نے جیل کے باہر ڈیرے ڈال دئیے کیمروں کی چکا چوند میں صحافیوں کو خان کو پیغام پہنچانے کی آڑ میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کا شارٹ کٹ راستہ، شکوک و شبہات کے باوجود اپنے ایک سیانے کا کہنا ہے کہ علیمہ باجی قیادت کا خلا پُر کر دیں تو کیا حرج ہے (معترضین کی رائے مختلف سیاست نہیں آتی ضبط و تحمل کی کمی ہے)۔
گزشتہ کئی دن سے 27 ویں ترمیم پر رائے زنی جاری ہے، وفاقی دارالحکومت میں پُر اسرار سناٹے کے پیچھے اس ترمیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، ہوائیاں چھوڑی جا رہی ہیں قوم یوتھ اور مولانا فضل الرحمان کو توسیع کی فکر ہے، دوسرے حضرات بینچ کی بجائے آئینی عدالت، کمانڈر انچیف کے عہدے کی بحالی، فاٹا کے انضمام کا خاتمہ اور گوادر کو وفاق میں لینے کی باتوں کے علاوہ صوبوں کی تشکیل پر بھی مفید مشورے دے رہے ہیں۔ سیلاب اور عوام کی فکر نہیں ترمیم جب آئے گی دیکھا جائے گا، فی الحال دو سال بعد کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں دو سال بعد بھی کچھ نہ ہوا تو کیا کریں گے۔

ٹیگز: