Wed, September 16, 2026

 کبھی ہنس بھی لیا کریں!

 کبھی ہنس بھی لیا کریں!

 لاہور سے اسلام آباد شفٹ ہوئے مجھے تقریباََ تین ماہ کا عرصہ ہوگیا ہے مگر ابھی تک میں یہاں کوئی ایسے ’’کارہائے نمایاں‘‘ سرانجام نہیں دے سکا جن کے متعلق میں اپنے بیوی بچوں ،دوستوں اور شاید خود سے بھی جھوٹ سچ بول کر آیا تھا۔ بلکہ گائوں میں تو بے بے جیراں جیسے ایک دو سیدھے سادھے بزرگوں کو تو میں نے یہاں تک کہہ رکھا ہے کہ’’اسلام آباد والوں کو ملک چلانے کے لئے کسی سیانے بندے کی ضرورت تھی جس کی وجہ سے مجھے جانا پڑ رہا ہے‘‘۔ اسلام آباد جس علاقے میں میرا دفتر واقع ہے وہاں سے چندفرلانگ پر ایوان صدر اور دیگر اہم حکومتی دفاترسمیت پی ایم ہائوس یعنی ایوان وزیر اعظم بھی واقع ہے جس کا نظارہ میں اکثر چوتھے فلور پر واقع اپنے دفتر کی کھڑکی سے کرتارہتا ہوں۔ یہاں میں آپ کی معلومات میں اضافے کے لئے یہ بھی بتاتا چلوں کہ اتفاق سے میں بھی آجکل ’’پی ایم‘‘ کے عہدے پر تعینات ہوں۔ بس ایک معمولی سا فرق یہ ہے کہ بطور پی ایم میری ڈیوٹی پی ایم ہاوس کی بجائے ریڈیو پاکستان میںہے جہاں ہماری دفتری 
زبان میںپی ایم کو پروگرام مینجر یا پروگرام مینجر کو پی ایم کہا جاتا ہے۔ شاید یہی ایک’’ پی ایم‘‘ کی مماثلت ہے کہ میں جب بھی پی ایم ہاوس کے سامنے سے گزرتا ہوں پی ایم ہاوس مجھے اپنا اپنا لگتا ہے۔ پی ایم ہاوس سے اس لگائو کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ دارلحکومت میں بڑے 
سرکاری دفاتر میں گھرا یہ گھر یا دفتر پاکستانی عوام کی نمائندگی کی علامت ہے۔ اس کے علاوہ بھی میرا وجدان مجھے پی ایم ہاوس کی پسندیدگی کی ایک اور وجہ بتاتا ہے مگر فی الحال اسے صیغہ راز میں رکھنا ہی مناسب ہے اس لئے کہ سیانے بزرگوں کا کہنا ہے کہ وقت سے پہلے اپنے کسی کام  یا منصوبے کے بارے میں بات کرنے سے نظر لگ جاتی ہے۔ویسے بھی اسلام آباد آنے کے بعد سے مجھے ابھی تک اسلام آباد کی عوام اور اہم حکومتی اداروں کی طرف سے جس قسم کے غیر متوقع اور ٹھنڈے ٹھار اور خشک رویے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مناسب یہی ہے کہ میں آئندہ اپنے کسی ’’منصوبے‘‘ کی کسی کو کو کانوں کان خبر نہ ہونے دوں۔ یہاں آنے سے پہلے مجھے اسلام آباد کی سردی کا تو کچھ کچھ اندازہ تھا مگر یہاں کی شدیدسرد مہری بالکل بھی میرے وہم گمان میں نہیں تھی۔یہ الگ بات ہے کہ لاہور میں کونسا مجھ پر چادریں چڑھائی جاتی تھیں مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ دال دلیہ چل جاتا تھا جس کے سہارے یہ پہاڑ جیسی زندگی گزر رہی تھی۔اسلام آباد میں لے دے کے پنجابی کا معروف کہانی کار اور میرا پرانا دوست اکمل شہزاد گھمن ہے جس نے شروع دنوں میں مجھے بالکل تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیا مگر اب وہ بھی بڑے بڑے کاموں میں مصروف ہوگیا ہے۔البتہ ریڈیو پاکستان کی ہوم برانچ میں ملنے والے نئے دوست اور ساتھیوں ڈاکٹر غنی الرحمن،حافظ نور اللہ،شاکر اللہ خان،مقصود سلطان،،سعید اللہ خان،خاور عزیز اور سید اکبر علی شاہ کے ساتھ دفتری اوقات میں اچھا وقت گزر جاتا ہے۔ مگر اس کے بعد آفس سے واپسی پر اپنے فلیٹ میں ایک میں ہوتا ہوں اور دوسری میری تنہائی ۔تنہائی کے ساتھ سردیوں کی اس شدید ٹھنڈک میں دل و دماغ میں سب سے پہلے دوسرا قافیہ رضائی کا آتا ہے لیکن  افسوسناک بات یہ ہے کہ اسلام آباد میں ابھی تک مجھے کوئی رضائی میسر نہیں ہے۔ اس حوالے سے کسی کا کیا گلا کرنا سچی بات یہ ہے کہ میں نے اس سلسلے میں خود بھی ابھی تک رضائی کے حصول کے لئے کوئی خاص کوشش نہیں کی۔اسلام آباد اپنے سٹرکچر اور صاف ستھری آب و ہوا کے حوالے سے یقینا ایک خوبصورت شہر ہے مگر اس کے مقابلے میںلاہور بے شمار حوالوں سے عالم میں ایک منتخب شہر ہے۔جس کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ یہ شہر ملک بھر سے آنے والوں کو خواہ اس کا تعلق کسی رنگ نسل،زبان اور علاقے سے ہو اسے بغیر کسی تعصب کے اپنے اندر خاندان کے ایک فرد کی طرح سمو لیتا ہے اور اسے کسی قسم کی اجنبیت کا احساس نہیں ہونے دیتا۔ ممکن ہے آنے والے کسی دور میں اسلام آباد میں بھی کوئی ایسی فضا پیدا ہوجائے مگر فی الحال تو اسلام آباد میں اجنبیت کا کلچر سر چڑھ کر بول رہا ہے شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں ابھی تک زیادہ تر بسیرا ہی میرے جیسے پردیسیوں اور اجنبیوں کا ہے۔اپنے ذاتی رونے سے ہٹ کر بات کروں تو مجموعی طور پر مجھے اب تک اسلام آباد کی جو بات پسند آئی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں پاکستان کے تمام علاقوں کی نمائندگی ہے۔بالکل ایک خوبصورت اور خوشبودار باغ کی طرح ہے جس میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوں جن کی اپنی اپنی خوشبو ہو جس سے سارا گلشن مہک رہا ہو۔ اس حوالے سے مزید کسی اور کالم میں بات ہوگی فی الحال سیاسی ماردھاڑ، دہشت گردی،افراتفری،نفسا نفسی، مہنگائی اوربے روزگاری جیسی پریشان کن خبروں سے ہٹ کر آپ کی تفننِ طبع کے لئے دو غیر سیاسی لطیفے جس میں کردار و واقعات کے حوالے سے سرکاری ملازموں اور حکومت کی مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی جس کے لئے ادارہ اور راقم دونوں ہرگز ذمہ دار نہ ہونگے۔ پہلا لطیفہ کچھ یوں ہے کہ’’ایک چور چوری کرنے کے لئے شیخ صاحب کے گھر پہنچاشیخ صاحب گھر کے صحن میں لیٹا تھا۔ چور نے اپنی چادر زمین پر بچھائی اور خود کمرے سے سامان لینے چلا گیا۔ شیخ  نے اس کی چادر اٹھا کر چھپا لی اور پھر سے آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا۔چور آیا تو اس نے دیکھا اس کی چادر بھی غائب ہے۔اس نے اپنی قمیض اتار کر نیچے زمین پر بچھائی اور پھر اندر سے سامان لینے گیا۔اتنی دیر میں شیخ نے قمیض بھی اٹھا کر چھپا لی۔ چور باہر آیا تو اپنی قمیض بھی غائب پائی۔اب کی بار چور نے بیش بہا حوصلہ کرتے ہوئے اپنی آخری ملکیت دھوتی بھی اتار کر بچھا دی اور ایک بار پھر اندر سامان لینے چلا گیا۔ شیخ صاحب نے دھوتی بھی اٹھا لی۔ اب جب وہ باہر آیا تو دھوتی بھی غائب تھی۔چور بنیان پہنے پریشان کھڑا تھا کہ شیخ صاحب نے اٹھ کر چور چور کا شور مچا دیا۔چور نے شیخ کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا’’اوے ظالما! اجے وی میں ای چور آں‘‘۔ دوسرا لطیفہ ’’ایک دفعہ شیخ صاحب کے گھر سردی کے موسم میں مہمان آ گیا ۔مہمان کو رات سونے کیلئے جو رضائی دی گئی وہ چھوٹی تھی۔ مہمان نے شیخ صاحب سے کہا کہ’’ یہ رضائی چھوٹی ہے، منہ پر لوں تو پاؤں ننگے ہو جاتے پاؤں پر لوں تو منہ ننگا ہو جاتا ہے مجھے اور رضائی دی جائے‘‘۔شیخ صاحب نے کہا’’ تم یہی رضائی منہ پر لے کر لیٹو، پاؤں کی طرف سے میں پوری کر دیتا ہوں‘‘۔ جب مہمان نے منہ پر رضائی لی تو شیخ صاحب نے مہمان کے پاؤں پر چھڑی ماری مہمان نے پاؤں جلدی رضائی کے اندر کر لیے۔ شیخ صاحب نے مہمان سے کہا’’ لو ایک دفعہ میں نے رضائی پوری کر دی ہے اب ساری رات تم جانو اور رضائی جانے اب میری ذمہ داری نہیں ہے‘‘

ٹیگز: