حکمران اتحاد نے ایوان بالا میں 27ویں ترمیم منظور کرا لی ہے اگر ہم کہیں کہ ایوان میں ترمیم متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے کیونکہ ترمیم کی مخالفت کرنے والوں نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا اس لئے ایوان میں موجود ممبران نے بغیر کسی اپوزیشن یا مخالفت کے ترمیم کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک سینیٹر اور جمعیت علما اسلام کے ایک سینیٹر نے بھی ترمیم کی منظوری میں حصہ ڈالا گویا ترمیم حکومتی اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن جماعتوں کے ممبران نے مل کر منظور کی ہے۔ حکومت نے آئینی و قانونی طریق کار کے مطابق ترمیم منظور کرائی ہے اس کے علاوہ ترمیم کے مندرجات کے بارے میں دو آراء ہوسکتی ہیں لیکن ترمیم آئینی اور قانونی طریقے سے منظور کرائی گئی ہے۔ حکومت کا یہ آئینی اور قانونی حق ہوتا ہے کہ وہ آئین میں حسب ضرورت اور حسب منشیٰ ترمیم کرے۔ 1973 کے آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ہی تخلیق کردہ آئین میں 4 سال کے دوران سات ترمیم کی تھیں حالانکہ دوسری آئینی ترمیم جو قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے سے متعلق تھی، کے علاوہ باقی ترامیم کی ضرورت اور افادیت کے بارے میں دو آرا پائی جاتی تھیں لیکن انہوں نے کر ڈالیں اور وہ ہمارے آئین کا حصہ قرار پائیں۔
پی ٹی آئی کو اپنے دور حکمرانی کا وہ وقت یاد رکھنا چاہئے جب چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے وقت انہوں نے اس وقت کی سینٹ میں اپوزیشن کی واضح اکثریت کو 10 ووٹوں کے ھیرپھیر سے اقلیت میں بدل دیا تھا اور اس طرح انہوں نے اپنا چیئرمین منتخب کرا لیا تھا اس دفعہ تو صرف دو سینیٹر ہی اُدھر سے اِدھر آئے ہیں اس لئے پی ٹی آئی کو واویلا نہیں کرنا چاہئے ایسا کچھ ہماری سیاسی و پارلیمانی روایات کا حصہ رہا ہے پہلے بھی ایسے ہی ہوتا رہا ہے اس لئے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ سینٹ میں 27ویں ترمیم منظور ہو چکی ہے اب قومی اسمبلی میں بھی اس کی منظوری ہو جائے گی۔ پی ٹی آئی اسی طرح واویلا کرتی رہے گی۔ بائیکاٹ کرے گی، مسودے کی کاپیاں پھاڑے گی، اپنا آپ دکھائے گی اور پھر ایوان سے نکل جائے گی۔ اس طرح ایوان میں موجود تمام ممبران منظور کریں گے گویا سینٹ میں منظوری کی طرح قومی اسمبلی میں بھی ترمیم متفقہ طور پر منظور ہو جائے گی اور ہمارے آئین کا ایک حصہ قرار پائے گی۔
71ء کا سانحہ مشرقی پاکستان ہماری قومی تاریخ کا ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کی عصر حاضر کی تاریخ کا ایک افسوسناک واقعہ ہے خلافت عثمانیہ کے انہدام کے بعد قیام پاکستان مسلمانوں کے لئے ایک امید تھا۔ عالم اسلام کی سب سے بڑی ریاست معرض وجود میں آئی تھی جس کے خمیر میں کلمۃ اللہ شامل تھا اس لئے سانحہ مشرقی پاکستان عالم اسلام کے لئے یہ سانحہ عظیم قرار پایا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اجڑے پاکستان کو آباد کیا۔ ایک متفقہ آئین کے ذریعے دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا کیا جمہوری راستے پر گامزن کیا۔ یہ آئین چھوٹے صوبوں کی ضروریات کوبھی پورا کرتا تھا اور فیڈریشن کے لئے بھی کام کرنے اور آگے بڑھنے کی گنجائش پیدا کرتا تھا آئین میں صوبوں کی آبادی کا بھی لحاظ رکھا گیا تھا اور رقبے کا بھی۔ صوبے چھوٹے بڑے ہونے کے باوجود ایوان بالا میں برابری کی سطح پر تصور کئے جاتے تھے۔ آئین سازوں نے آئین سازی میں دوراندیشی کا ثبوت دیا تھا یہی وجہ ہے کہ اس آئین کو متفقہ طور پر منظور کیا لیکن پھر اس آئین میں حسب ضرورت اور حسب منشا ترامیم کا ایک طویل سلسلہ شروع کر دیا گیا اس کا آغاز آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو نے کیا۔ انہوں نے 1973تا 1977 سات ترامیم کر ڈالیں۔ بنیادی حقوق بھی معطل کر دیئے۔ بھٹو ایک جاگیردار تھے اور اسی طرز پر حکمرانی کرنا چاہتے تھے۔ 73ء کا آئین ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیادیں رکھنا ان کے کارناموں میں شامل ہیں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد بھی ان کے کارناموں میں شامل ہے لیکن ان کی جاگیردارانہ خصلت انہیں لے ڈوبی۔ 1977 کے انتخابات کے موقع پر دھاندلی کے نام پر اپوزیشن کی تحریک کو انہوں نے جمہوری اور سیاسی طور پر ہینڈل نہ کیا ملک مارشل لا کا شکار ہو گیا اور وہ پھانسی کے پھندے پر جھول گئے۔ اس کے بعد جنرل ضیاء الحق نے آئین میں آٹھویں ترمیم کر کے اس کا رخ ہی بدل ڈالا۔ وہ خود وزیراعظم تو بن نہیں سکتے تھے اس لئے انہوں نے آئین ہی بدل ڈالا۔ اسے صدارتی بنا ڈالا کیونکہ وہ خود صدر تھے اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں جمہوری ادوار میں بھی ترامیم جاری رہیں۔ جنرل مشرف نے اپنے لئے ترامیم کیں اور آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ اس کے بعد جاری جمہوری ادوار میں 26ویں ترمیم ہوئی۔ مقاصد حاصل نہ ہو سکے تو 27ویں ترمیم کر ڈالی۔ اس میں بھی معاملات حسب منشا طے نہیں ہو پائے اس لئے 28ویں ترمیم کا بھی عندیہ دے دیا گیا ہے۔ یہ عندیہ فیصل واوڈا جیسے شخص نے بھی کھلے الفاظ میں دیا ہے اور رانا ثناء اللہ جیسے سکہ بند سیاستدان نے بھی دے دیا ہے۔ آئینی عدالت کا قیام اور ججوں کے تبادلے کے حوالے سے متضاد آراء پائی جاتی ہیں یہ متضاد آرا صرف پی ٹی آئی کے لوگوں کی طرف سے نہیں ہیں بلکہ غیرجانبدار ماہرین قانون اور وکلا کی جانب سے بھی آ رہی ہیں۔ صدر مملکت کو تاحیات استثنا کسی طور بھی آئین کی روح کے مطابق نہیں ہے ہمارا آئین اسلامی ہے یہاں کوئی شے بھی قرآن و سنت کے برعکس یا متصاد نہیں بنائی جا سکتی ہے۔ عمر فاروقؓ جیسے جید صحابیﷺ کا بلال حبشیؓ جیسا صحابی کھلے عام احتساب کر سکتا ہے تو پاکستان کے صدر کو کس طرح اس سے چھوٹ دی جا سکتی ہے۔ یہ سراسر غیرآئینی نظر آتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے بھی اس طرف توجہ دلائی ہے اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بھی اس پر تنقید کی ہے۔ ویسے ہمارے ملک میں کون سا کام ہے جو آئین کے مطابق ہو رہا ہے۔ عوام کسی بھی ترجیح میں شامل نظر نہیں آتے ہیں۔ ہمارے حکمران کہنے کو تو
بہت کچھ کر رہے ہیں، اشہارات اور پبلسٹی کے ذریعے ہمیں پتا بھی چلتا ہے کہ وہ عوام کے لئے بہت کچھ کر رہے ہیں کہیں کہیں کچھ کچھ ہوتا نظر بھی آتا ہے لیکن اس سب کچھ کے عامتہ الناس کی زندگیوں پر اثرات مرتب ہوتے نظر نہیں آتے۔غربت بڑھتی چلی جا رہی ہے، بے روزگاری بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ نوجوانوں کو اپنا مستقبل یہاں پاکستان میں نظر نہیں آتا۔ سرمایہ کام مایوس ہو رہے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے، مہنگائی کا دورہ دورہ ہے۔ عامتہ الناس کے لئے کی جانے والی کاوشیں کسی طور بھی بارآور ثابت نہیں ہو سکتی ہیں کیونکہ نظام اس قدر گل سڑ چکا ہے، اپنی افادیت کھو چکا ہے کہ اس سے کسی مثبت آئوٹ کم کی امید رکھنا عبث ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر کیا ہو گا۔ انقلاب تو آنے سے رہا۔ لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے ہی چلتا رہے گا۔ کچھ بھی تبدیلی ممکن نظر نہیں آ رہی ہے۔ باقی مستقبل کا حال تو اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے۔