یہ زمانہ بلاشبہ انسانی تاریخ کے انوکھے اور پیچیدہ ادوار میں سے ایک ہے۔ ایک ایسا دور جہاں انسانیت کی قدریں، عادات اور معاشرتی رویے ایک غیر مرئی مگر طاقتور زلزلے کی زد میں ہیں۔ وہ قدیم اصول جو صبر، لگن اور خاموش محنت کو کامیابی کی بنیاد سمجھتے تھے آج دھیرے دھیرے اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہنگامہ و منظر آرائی ہر شعبے میں اپنی حکمرانی قائم کر چکی ہے۔ پہلے کے زمانے میں محنت ایک مقدس فریضہ سمجھی جاتی تھی۔ ایک شخص محنت میں صادق ہوتا، دن رات اپنی کاوشوں میں ڈوبا رہتا اور نتائج پھر وقت کے ساتھ ظاہر ہوتے۔ اس کی خاموش محنت معاشرت میں مثال بنتی، اس کی لگن اور ایمانداری کو لوگ دل سے تسلیم کرتے مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ وہی لگن اگر ہنگامہ یا دکھاوے کے بغیر ہو تو اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے اور وہی افراد جو اپنی محنت کو منظر عام پر لاتے ہیں یا شور و شہرت کے ذریعے اپنی اہمیت ظاہر کرتے ہیں انہیں ہی کامیابی اور مقام حاصل ہوتا ہے۔ یہ رجحان صرف ایک فرد کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی ڈھانچے، تعلیمی اداروں، کاروباری دنیا اور حتیٰ کہ ذاتی تعلقات تک پھیل چکا ہے۔ امتحانات میں نمبر، دفاتر میں ترقی، کاروباری دنیا میں مقبولیت اکثر وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو اپنے معیار کو بلند کرنے کے بجائے اپنی محنت کو نمائش میں بدلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اب انسان کی اصل قدر اس کے اندرونی شعور، محنت اور مقصد سے نہیں بلکہ نظر آنے، سراہے جانے اور ہر نگاہ کے سامنے دکھائی دینے سے تولی جاتی ہے۔ زمانہ اب آئینوں کا نہیں نمائش گاہوں کا ہے، یہاں اب سچ نہیں بلکہ تاثر بکتا ہے۔ کوئی بھی کام اب خاموشی میں انجام نہیں پاتا بلکہ روشنیوں، کیمروں اور تالیوں کے شور میں اپنی پہچان تلاش کرتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں کہ جہاں محنت کو نہیں بلکہ اس کی تشہیر کو انعام ملتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو محض جنم ہی نہیں دیا بلکہ اسے ایک مکمل نظام میں ڈھال دیا ہے۔ ا س تبدیلی نے نہ صرف ہماری نفسیات اور سماجی رویوں کو متاثر کیا ہے بلکہ ادارہ جاتی ترجیحات، فکری معیار اور اخلاقی توازن کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ لوگ اب اپنی قدر کا تعین اندر سے نہیں بلکہ باہر کی نظر سے کرتے ہیں۔ خود شناسی کی جگہ نظر کی تشفی نے لے لی ہے۔ انسان اب اپنے کام کی قدر اپنے دل سے نہیں بلکہ دوسروں کی رائے سے کرتا ہے۔ مسئلہ اظہار نہیں مسئلہ ترجیحات کا بگاڑ ہے۔ اظہار جب عمل کی جگہ لے لے اور نمائش محنت کو بے دخل کر دے تو معیار گرنے لگتے ہیں۔ اس نمائشی دور کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ اقدار کی قدر کو الٹ دیتا
ہے۔ محنت کی جگہ اب ہوشیاری، دیانت کی جگہ چالاکی اور قابلیت کی جگہ مقبولیت کو معیار بنا لیا گیا ہے۔ نتیجتاً صبر، تحمل اور گہرائی جیسی صفات مٹتی جا رہی ہیں اور سطحیت ایک نئی فضیلت بن گئی ہے۔ تاہم انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ شور عارضی ہوتا ہے اور خاموش محنت دیرپا۔ کام سے پہلے اعلان، نیت سے پہلے تشہیر اور نتیجے سے پہلے تعریف کی خواہش سب مل کر ایک ایسے کلچر کو جنم دے چکے ہیں جس میں شور دلیل بن گیا ہے اور نمائش قابلیت کا متبادل۔ تعلیم کے میدان میں بھی یہ رویہ واضح ہے پہلے استاد اور طالب علم کی محنت معیار کی بنیاد ہوا کرتی تھی مگر آج اہمیت انہیں ملتی ہے جو اپنے کام کو نمائش اور شور میں بدل لیتے ہیں۔ کتابیں لکھنے والے محققین جو دن رات تحقیق کرتے ہیں اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں جبکہ سماجی مقبولیت اور دکھاوے کے لیے کام کرنے وال پذیرائی حاصل کرتے ہیں۔
کاروباری دنیا میں یہ حقیقت ہر جانب دکھائی دیتی ہے پہلے ایک کمپنی کی کامیابی اس کے معیار اور محنت سے جانی جاتی تھی مگرآج مارکیٹنگ، پرموشن اور ہنگامہ زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ برانڈز جو صرف دکھاوے اور اشتہار بازی کرتے ہیں اکثر حقیقی معیار کے مقابلے میں زیادہ کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ نتیجتاً محنت، اخلاقیات اور معیار پیچھے رہ جاتے ہیں جبکہ ہنگامہ اور منظر آرائی طاقت بن جاتے ہیں۔ یہ رجحان انسانی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ محض دکھاوے کے رشتے، تعلقات اور دوستی کی قدر اب یہاں بڑھ گئی ہے۔ لوگ اب اس بنیاد پر اپنے احباب کا انتخاب کرتے ہیں کہ وہ کس حد تک نظر آتے ہیں نہ کہ کس قدر مخلص اور محنتی ہیں۔ جس کے باعث انسانی تعلقات سطحی اور وقتی ہو گئے جبکہ وفاداری، ایمانداری اور سچائی کی قدر کم ہوتی چلی گئی۔ یہی رجحان اخلاقیات اور کردار پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے چونکہ نمائش اور نظر آنے والی کامیابی کو طاقت سمجھا جانے لگا ہے، لوگ اکثر اپنی اخلاقی حدود کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ شارٹ کٹ، دھوکہ، دکھاوا اور فریب کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش میں لوگ اب سچائی اور محنت کے اصول بھول جاتے ہیں۔ جس کے باعث معاشرے میں اعتماد اور ایمانداری کی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ لیکن یہ رجحان مکمل طور پر منفی بھی نہیں ہے اگر نمائش اور ہنگامہ کو مثبت اور تعمیری انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ انسانیت اور معاشرت کے لیے فائدہ مندبھی ثابت ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر علم، مثبت سرگرمیاں، انسانی خدمت یا معاشرتی اصلاح کے کاموں کی تشہیر کرنے کے لیے اس طاقت کو بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دکھاوے اور شور کے بجائے نمائش کے مقصد اور معیار کا ہونا ضروری ہے۔ انسانی تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ حقیقی محنت چاہے پردے میں ہی کیوں نہ چھپی ہو اس کی قدر و قیمت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ دنیا کا ہر ہنگامہ یہاں وقتی ہے مگر لگن کی روشنی لازوال رہتی ہے۔ البرٹ آئن سٹائن، تھامس ایڈیسن، الیکسینڈر گراہم بیل، عبدالسلام اور بے شمار محققین، سائنسدان اور صوفیا اس بات کی مثال ہیں کہ مستقل جدوجہد اور خاموش محنت ہمیشہ اپنی حقیقی قدر برقرار رکھتی ہے۔ معاشرے کی سمت کبھی صرف اداروں یا ہنگاموں سے تبدیل نہیں ہوتی بلکہ ہر فرد کے شعور، اخلاق اور بصیرت کے فیصلوں سے تراشی جاتی ہے۔ یہ دور ایک چیلنج ضرور ہے مگر محنت اور نمائش میں فرق سکھانے کے ساتھ ہی یہ انسانیت اور شعور کے لیے ایک موقع بھی ہے کہ ہم اپنی سوچ اور فہم کے ذریعے مستقبل کی سمت متعین کریں۔