Wed, September 16, 2026

ڈیل نہیں، دیرپا امن

ڈیل نہیں، دیرپا امن

بین الاقوامی سیاست میں بعض تنازعات ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقتی معاہدوں اور سفارتی اعلانات کے ذریعے وقتی طور پر تو منجمد کیا جا سکتا ہے، مگر ان کی بنیادی وجوہات ختم کیے بغیر مستقل استحکام پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی بھی اسی نوعیت کا ایک پیچیدہ اور طویل المدتی تنازع ہے جس کی جڑیں صرف جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں یا علاقائی اثرورسوخ تک محدود نہیں بلکہ نصف صدی پر محیط نظریاتی، سیاسی اور تزویراتی اختلافات میں پیوست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب جنگ بندی، مذاکرات اور ممکنہ معاہدوں کی بات ہو رہی ہے تو تہران کی ترجیح محض کسی نئی "ڈیل" تک پہنچنا نہیں بلکہ ایک ایسے پائیدار حل کی تلاش ہے جو اس کشمکش کے بنیادی اسباب کو ختم کر سکے۔
ایرانی نقطہ نظر کے مطابق موجودہ بحران کو صرف یورینیم کی افزودگی یا بین الاقوامی معائنوں کے تناظر میں دیکھنا حقیقت کا ادھورا مطالعہ ہوگا۔ تہران کا استدلال یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کے فوراً بعد سے اسے مسلسل سیاسی دباو¿، معاشی پابندیوں، سفارتی تنہائی اور مختلف نوعیت کے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ اصل مسئلہ اس کی خودمختار خارجہ پالیسی، خطے میں اس کے کردار اور اس کی نظریاتی شناخت سے متعلق ہے، جبکہ جوہری تنازع دراصل بعد کے برسوں میں سامنے آنے والا ایک ضمنی مظہر ہے۔
تاریخی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو 1979ءکے انقلاب کے بعد ایران اور مغرب کے تعلقات بتدریج کشیدگی کی طرف بڑھتے گئے۔ فلسطینی مسئلے پر تہران کا دوٹوک مو¿قف، اسرائیل کے ساتھ عدم مفاہمت اور خطے میں مزاحمتی تحریکوں کی سیاسی حمایت نے اس فاصلے کو مزید گہرا کیا۔ ایرانی قیادت یہ مو¿قف اختیار کرتی ہے کہ حزب اللہ، حماس یا حوثی تحریکیں ایرانی تخلیقات نہیں بلکہ مخصوص علاقائی حالات اور تنازعات کا نتیجہ ہیں، البتہ ایران نے انہیں سیاسی اور اخلاقی حمایت فراہم کی جس کے باعث انہیں بعد ازاں "ایرانی اثرورسوخ" کا حصہ قرار دیا گیا۔
جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی ایران مسلسل یہ مو¿قف دہراتا آیا ہے کہ اس کا مقصد عسکری نہیں بلکہ پرامن اور سویلین استعمال ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کو غیر اسلامی قرار دینے والا فتویٰ بھی اسی موقف کی بنیاد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ 2015ءمیں طے پانے والا جوہری معاہدہ اس امر کا ثبوت سمجھا گیا کہ ایران بین الاقوامی نگرانی اور محدود افزودگی کے فریم ورک کو قبول کرنے پر آمادہ تھا۔ تاہم بعد ازاں معاہدے سے امریکی علیحدگی نے تہران کے اندر اس تاثر کو تقویت دی کہ مغربی طاقتوں کے ساتھ طویل المدتی اعتماد کا رشتہ قائم کرنا آسان نہیں۔
حالیہ جنگی بحران نے اس تمام منظرنامے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ شدید دباو¿، فوجی حملوں اور سیاسی تنہائی کے باوجود نہ صرف اس کی ریاستی ساخت برقرار رہی بلکہ داخلی سطح پر مزید استحکام پیدا ہوا۔ ایرانی حکام کے بیانات سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ وہ خود کو دفاعی پوزیشن سے نکال کر ایک ایسے فریق کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جو آئندہ مذاکرات میں زیادہ مضبوط شرائط کے ساتھ شریک ہو۔ دوسری جانب امریکہ کے لیے بھی خطے میں ایک نئی اور وسیع جنگ کے امکانات ہمیشہ سے ایک مشکل فیصلہ رہے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے تجربات نے واشنگٹن کو یہ سبق دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ تنازعات میں عسکری مداخلت کے نتائج اکثر ابتدائی اندازوں سے مختلف نکلتے ہیں۔ اسی لیے حالیہ سفارتی اشاروں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ امریکی قیادت کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی راستے کو ترجیح دینا چاہتی ہے، بشرطیکہ خطے میں امریکی مفادات اور افواج براہِ راست نشانہ نہ بنیں۔
ایران اس مرحلے پر جن مطالبات کو اہمیت دے رہا ہے ان میں معاشی پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی، علاقائی خودمختاری کے اصول کا احترام اور خطے میں طاقت کے توازن کو نئی بنیادوں پر استوار کرنا شامل ہے۔ تہران کا مو¿قف یہ ہے کہ اگر مسئلے کی جڑیں برقرار رہیں تو کوئی بھی نیا معاہدہ محض ایک عارضی وقفہ ثابت ہوگا، جبکہ پائیدار امن کے لیے اعتماد سازی، باہمی احترام اور علاقائی سلامتی کے نئے تصورات ناگزیر ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورتحال کو صرف جنگ یا سفارت کاری کی عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ دراصل اس سوال کا امتحان ہے کہ آیا عالمی طاقتیں اور علاقائی ریاستیں محض وقتی مفاہمتوں پر اکتفا کریں گی یا ایک ایسے سیاسی فریم ورک کی تشکیل کی کوشش کریں گی جو مستقبل کے تنازعات کی بنیادوں کو ہی کمزور کر دے۔ اگر آنے والے دنوں میں فریقین کسی ایسے راستے پر متفق ہو جاتے ہیں جو صرف طاقت کے توازن نہیں بلکہ باہمی تحفظات کے ازالے پر مبنی ہو، تو یہ نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر تاریخ ایک بار پھر یہ ثابت کرے گی کہ ڈیلیں وقتی سکون تو فراہم کر سکتی ہیں، لیکن پائیدار امن صرف اسی وقت جنم لیتا ہے جب تنازع کی جڑوں کو سمجھ کر ان کا علاج کیا جائے۔ 

ٹیگز: