میں اپنے ایک کالم میں عبدالرحمان پیشاوری کا ذکر کر چکا ہوں جس نے چھبیس سال کی عمر میں، علی گڑھ کالج کو الوداع کہا اور ترکوں کے شانہ بہ شانہ ’جنگِ بلقان‘ لڑنے ایک صدی پہلے کے قسطنطنیہ جا پہنچا۔ برادرِ عزیز محترم ’خلیل طوقار‘ کو میں پاکستان میں ترکی کا غیر رسمی سفیر کہا کرتا ہوں۔ وہ گذشتہ تین سال سے پاکستان میں ’’یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ‘‘ سے منسلک، خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ کمال کی اُردو بولتے ہیں۔ استنبول یونیورسٹی کے شعبہ اُردو کے سربراہ بھی ہیں۔ یہ مارچ کا ذکر ہے کہ وہ ترکی سفارتخانے کے ایک سینئر اہلکار کے ہمراہ مجھے ملنے آئے اور مجھے دو دعوت نامے پیش کیے۔ دونوں ایک ہی تقریب سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک دعوت نامہ استنبول یونیورسٹی کی طرف سے تھا اور دوسرا ترکیہ کے عزت مآب سفیر کی طرف سے۔ دو روزہ تقریبات کا تعلق پاکستان کے ایک فرزندِ جلیل و جمیل، عبدالرحمان پیشاوری سے تھا جس کی شہادت کو سو برس ہو چلے تھے۔ ترکیہ عبدالرحمان کی یاد تازہ کرنے کے لیے، برسی کی سو سالہ تقریبات کا اہتمام کر رہا تھا۔
میں بتا چکا ہوں کہ کیسے پشاور کے انتہائی متمول تاجر، بلکہ رئیس التجّار، حاجی غلام صمدانی کا بیٹا عبدالرحمان اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ کالج پہنچا۔ یہ ترکوں پہ اُفتاد کا دور تھا۔ حسرت موہانی جیسے بغاوت سرشت کی صحبت نے عبدالرحمان کی سوچ میں کچھ کر گذرنے کی چنگاری سلگائی۔ استنبول جانے کے لیے ڈاکٹر انصاری مشن کا دریچہ کھُلا تو وہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر قسطنطنیہ پہنچ گیا۔
دورانِ سفر 13 دسمبر 1912 کو بمبئی سے اپنی بہن کے نام خط میں لکھا … ’’یہ بیان کرنے سے عاجز ہوں کہ کن مشکلات سے اپنا سرمایہ سفر فراہم کر کے، کس دِل سے بلقان کی طرف جا رہا ہوں۔ میں اپنے مصارفِ سفر خود ادا کروں گا جن کا اندازہ ایک ہزار فی کس لگایا گیا ہے۔ اِس صورت میں کہ میں نے نہ تو جناب قبلہ والد صاحب کو اطلاع دی اور نہ جناب بھائی (حاجی محمد امین) کو خبر کی اور نہ کسی اور ہی سے امداد طلب کی۔ خیال کرو کہ میں نے یہ رقم کس طرح حاصل کی۔ میری بہن! میں نے اپنے تمام لباس، سوٹ وغیرہ فروخت کر دئیے۔ کتابیں اور جتنی فالتو چیزیں تھیں، سب طالب علموں نے گراں قیمت پر مجھ سے خرید لیں۔ مبلغ دو سو روپے میرے رفیق فضل امین نے دئیے۔ اب میرے پاس صرف چند خاکی سوٹ اور دو جوڑے کپڑے رہ گئے ہیں اور بس! لیکن دِل مطمئن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرا دستِ سوال کسی کے سامنے نہ پھیلانے دیا۔ میری بہن! گو کہ میرے پاس اِس وقت بہت کم رقم ہے لیکن غم نہ کرو۔ عبدالرحمان جہاں جائے گا، اپنی روزی پا لے گا اور ان شاء اللہ عزت کی روزی حاصل کرے گا۔ آغا لالہ جان نے اس لیے مجھے رقم نہیں بھیجی کہ میں بلقان نہ جا سکوں۔ بہن! نوشتہ تقدیر نے فرصت نہیں دی کہ چند روز اور توقف کرتا۔ اپنے محبوب کی محبت، یعنی بلقان پہنچنے کی بے قراری میں ازحد محو رہتا ہوں۔ حتیٰ کہ اپنی بیماری کو بھی بھول چکا ہوں
دَر دیست دردِ عشق کہ اندر علاج اُو
ہر چند سعی بیش نُمائی بتر شود
(عشق کا دَرد بھی کیا دَرد ہے کہ اُس کے علاج کے لیے جس قدر بھی کوشش کی جائے، اُسی قدر بڑھتا چلا جاتا ہے۔)
علامہ اقبال نے اِس دَردِ عشق کو ’’لذّتِ آشنائی‘‘ کا نام دیا ہے
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دِل کو
عجب چیز ہے لذّتِ آشنائی
عبدالرحمان پیشاوری، اپنے رَگ وپے میں لذّتِ آشنائی کی آگ لیے، رشتہ و پیوند کے سارے بندھنوں سے آزاد ہو کر، اپنے رئیس التجّار باپ کی بے کراں دولت اور جاگیروں کو مُشتِ خس و خاشاک جان کر ’دیارِ عشق‘ کو نکل گیا اور وہیں کا ہو کے رہ گیا۔ 1921 میں جب مصطفی کمال پاشا نے عبدالرحمان پیشاوری کو ترکی کا پہلا سفیر نامزد کر کے کابل بھیجا تو خاندان والوں نے اُسے پشاور آنے اور ایک بڑا جشن بپا کرنے کی دعوت دی۔ عبدالرحمان نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ میں ایک غلام زمین پر قدم نہیں رکھ سکتا۔ 1922 میں والد حاجی غلام صمدانی بیٹے سے ملنے کابل گئے تو اُس نے ایک فرمانبردار بیٹے کے طور پر بے پناہ خدمت کی۔ باپ نے ایک دِن ایک تھیلی کھول کر پچاس ہزار روپے (جو آج کے پتہ نہیں کتنے کروڑ ہوں گے) عبدالرحمن کو دیتے ہوئے کہا … ’’بیٹا یہ میرے مال و جائیداد سے تمہارا حصہ ہے۔‘‘ عبدالرحمان نے معذرت کی۔ والد نے اصرار کیا تو یہ رقم ترکی اور ہند کے مدارس اور تعلیمی اداروں میں تقسیم کر دی۔
استنبول یونیورسٹی کے ایک ہال میں پیشاوری سے متعلق ایک سو کے لگ بھگ انتہائی نادر و نایاب تصاویر کی خوبصورت نمائش آراستہ تھی۔ مجھے، استنبول کے ڈپٹی گورنر کے ہمراہ اِس نمائش کے افتتاح کا اعزاز حاصل ہوا۔ ہر تصویر، تاریخ کا ایک ورق تھی جو ایک داستان کہہ رہی تھی۔ پتہ چلا کہ یہ تحقیقی کاوش بھی میرے دوست خلیل طوقار کی ہے۔ کاش پاکستان کا کوئی ادارہ اِن تصاویر کو، تاریخی حوالوں کے ساتھ، البم کی شکل میں شائع کر سکے۔ 1979 میں، عبدالرحمان پیشاوری کے چھوٹے بھائی محمد یوسف نے ’’غازی عبدالرحمان شہید پیشاوری‘‘ کے عنوان سے کوئی ڈیڑھ سو صفحات کی ایک چھوٹی سی کتاب بھی مرتب کی جس پر مصنف کے طور پر پروفیسر ابو سلمان شاہ جہانپوری کا نام درج ہے۔ دیباچے میں بتایا گیا ہے کہ اس کتاب کا ابتدائی مسودہ معروف شاعر حفیظ ہوشیار پوری نے اُس وقت تیار کیا تھا جب وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتے تھے۔ اِس کتاب کو بھی نئے اضافوں کے ساتھ بہ اندازِ نو چھپنا چاہیے۔
صحابی رسولؐ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزارِ اقدس پر حاضری کے اگلے دِن، تقریباتی مصروفیات سے فارغ ہو کر میں، دو جواں سال دوستوں کے ہمراہ یونیورسٹی سے نکلا اور اُس قدیم تاریخی قبرستان کا رُخ کیا جہاں عبدالرحمان پیشاوری آسودہ خاک ہے۔ ماشکا نامی قبرستان، ایک جنگل کی طرح ہے جس میں سایہ دار درختوں کی گھنی چھائوں میں قدیم پشتوں اور شکستہ کتبوں والی قبریں حد نگاہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ جب 1925 میں عبدالرحمان کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا، تو پہلو میں جمال الدین افغانی کی قبر تھی جو 1897 میں استنبول میں ہی انتقال کر گئے تھے۔ 1944 میں ظاہر شاہ کی درخواست پر اُن کی میّت افغانستان لا کر کابل یونیورسٹی کے احاطے میں دفنا دی گئی۔
پیشاوری کی لوحِ مزار پہ دو پرچم کندہ ہیں۔ ایک ترکی اور دوسرا پاکستان کا۔ نیچے ترکی زبان میں لکھا ہے … ’’فاتحہ عبدالرحمن غلام صمدانی کی روحِ پاک پر، جو جنگ بلقان کے زمانے میں، ہلالِ احمر ہند کے ساتھ استنبول آیا۔ جنگِ بلقان اور جنگِ آزادی میں، ترکی کے لیے اپنا خون بہایا۔ 1925 میں اُسے ایک نامعلوم شخص نے شہید کر دیا۔ پیشاوری نے افغانستان میں پہلے ترک سفیر کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں۔‘‘
میں فاتحہ پڑھ کے گاڑی کی طرف چلا تو ہمراہی نوجوان بولا… ’’کوئی دو ماہ پہلے پاکستان کے چیف جسٹس، عزت مآب یحییٰ آفریدی بھی اپنی اہلیہ کے ہمراہ عبدالرحمان پیشاوری کی قبر پر فاتحہ پڑھنے آئے تھے۔ غالباً اُن کی بیگم صاحبہ، پیشاوری کے خاندان سے ہیں۔‘‘ مجھے اِس کا علم نہیں۔ اگر ایسا ہے تو بڑے اعزاز کی بات ہے۔
ایک بوڑھی ترک خاتون، فصیلِ قبرستان سے لگی بیٹھی تھی۔ بولی ’’یہاں تو میرے خاندان کی قبریں ہیں۔ تم لوگ کس لیے آئے ہو؟ میرے ساتھ آئے نوجوان نے ترکی میں اُسے بتایا تو وہ بولی … ’’ہاں ہاں! وہ بھی تو ہمارا ہی ہے۔‘‘ واقعی ’’عجب چیز ہے لذّتِ آشنائی‘‘۔