چوپال سجی ہوئی تھی، سب ایک دوسرے سے محو گفتگو تھے ۔۔۔۔کیا حال ہے دوستو؟۔۔اچانک سب متوجہ ہوگئے !۔۔۔یہ شجی باﺅ کی آوازتھی، جو ایک آفس میں کام کرتے تھے اور آفس سے فارغ ہوکر کبھی کبھار چوپال کا چکر لگا لیتے تھے۔ چوپال میں ابھی تک چپ سائیں نہیں آئے تھے۔ شجی باﺅ نے نتھو اور پھتو سے اس بابت دریافت کیا، دونوں اس بارے میں لب کشائی کرنے والے تھے کہ چپ سائیں کی آواز پر سب متوجہ ہوگئے۔ چپ سائیں حسب عادت کھنگورا مارتے اور لاٹھی ٹیکتے ہوئے آئے۔ سب احتراما کھڑے ہوگئے۔ چپ سائیں نے شجی باﺅ کا پرتپاک استقبال کیا کیونکہ وہ خاصے پڑھے لکھے تھے۔ معمول کی باتیں شروع ہوگئیں۔ شجی باﺅ نے کہاکہ چپ سائیں جی آج میں ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ چپ سائیںنے کہا شجی باﺅ بتائیں کیا بات ہے؟۔۔۔۔توقف کے بعد شجی باﺅ بولے ۔۔ آپ جانتے ہیں میں متوسط طبقے اور گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔۔۔ میری تنخواہ بھی واجبی سی ہے۔۔۔ میں آفس میں اپنے کپڑے بھی مناسب ہی پہن کر جاتا ہوںاور کبھی کبھار تو دھلنے کے بعد دوبارہ بھی پہن لیتا ہوں لیکن رہتا انتہائی صاف ستھر ا اور سلیقے سے ہوں۔ تاہم اس وجہ سے کچھ لوگ خواہ مخواہ مجھے تنقید کانشانہ بناتے ہیں ، میں تو کبھی گندا یا گردوغبار میں اٹا ہوا آفس نہیں پہنچا۔ کچھ لوگ تو روزانہ نئے نئے ملبوسات پہن کرآتے ہیں اور دوبارہ یہ لباس کب زینت بنے اللہ ہی جانے!۔۔۔ لیکن اس وجہ سے مجھ پر اگر کوئی تنقید کرے یابات کرے تو ، ایسے رویے میرے لیے ناقابل برداشت ہوتے ہیںکیونکہ میںموجودہ حالات میں انتہائی حلال کمائی سے گزر بسر کرتا ہوں۔۔۔ بس لوگوں کی اس طرح کی باتیں مجھے اکثر پریشان کردیتی ہیں۔ چپ سائیں جی آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟
چپ سائیں نے ٹھنڈی آہ بھری اور توقف کے بعد بولے۔۔۔۔باﺅ جی ہمارے معاشرے میں فیصلے اکثر ظاہری چیزوں کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ ہم کسی شخص کے لباس، وضع قطع، یا سادگی سے اس کی معاشی حیثیت یا عزت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ ایک شخص اگر بار بار ایک ہی لباس میں نظر آ جائے تو وہ مذاق کا نشانہ بن سکتا ہے۔ حالانکہ لباس کی تکرار نہ تو اخلاقی جرم ہے، نہ ہی کوئی سماجی برائی۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اصل جرائم کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ہم نے دھوکہ دہی کو اتنی بار معاف کیا ہے کہ وہ ہمارے معاشرتی رویوں کا حصہ بن چکی ہے۔ ایسے لوگ جو ہمیں ایک بار دھوکہ دے چکے ہوتے ہیں، ہم ان پر دوبارہ اعتماد کر بیٹھتے ہیں اور اکثر وہی لوگ ہمیں پھر سے نقصان پہنچاتے ہیں۔باﺅ جی سچی بات یہ ہے کہ اگر کپڑے دوبارہ پہن لیے جائیں تو یہ کوئی جرم نہیں ہے لیکن سب سے بڑا جرم اور غلط بات یہ ہے کہ دھوکے بازوں کو دوبارہ موقع دیا جائے۔ہم لباس کی سادگی پر تو انگلی اٹھا دیتے ہیں، لیکن کردار کی خرابی پر خاموش رہتے ہیں۔ ہم ایک سادہ مزاج انسان کو کم تر سمجھ لیتے ہیں، اور ایک بار خود کو فریب دینے والے کو پھر سے اپنے قریب کر لیتے ہیں۔کیا یہ رویہ ہماری کمزوری نہیں؟ کیا ہم نے ظاہری چمک کو کردار پر فوقیت نہیں دے دی؟۔صاحبو!یاد رکھو کپڑے صرف جسم کوڈھانپتے ہیں، مگر نیت اور عمل انسان کی اصل شناخت ہوتے ہیں۔ کسی کا بار بار ایک لباس پہننا غربت یا لاپروائی نہیں، بلکہ ہو سکتا ہے وہ سادگی اور ذمہ داری کا مظہر ہو لیکن کسی کا بار بار دھوکہ دینا، جھوٹ بولنا یا اعتماد کو توڑنا یہ وہ عادات ہیں جنہیں نظر انداز کرنا دراصل خود فریبی ہے۔
چپ سائیں نے کہادوستو! باﺅ شجی نے آج معاشرے کی بہت بڑی خرابی کی طرف اشارہ کیا ہے۔یہ خرابی لگ بھگ ہر جگہ ہے اور دفاتر ہی اس کاہدف نہیں ہیں بلکہ اگر کوئی سادہ سا انسان کسی تقریب میں ایسا لباس پہن کر چلا جائے تو لوگ باتیں کرنے لگتے ہیںکہ یہ تو فلاں تقریب میں بھی یہی لباس پہن کر آیا تھا، یہ رویہ اور باتیں بالکل غلط ہیں ۔ ہمیں اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ ہمیں سادگی کو جرم سمجھنے کے بجائے، دھوکہ دہی اور بداعتمادی کو جرم گرداننا ہو گا۔چپ سائیں نے کہاکہ لباس کا دہرایا جانا انسان کی سوچ کو ظاہر نہیں کرتا، لیکن دھوکہ دہی کی تکرار اس کے کردار کو ضرور بے نقاب کرتی ہے۔تاہم یہ فیصلہ اب ہمارا ہے کہ ہم کس کو اہمیت دیں گے ۔ظاہر کو یا سچائی کو؟
صاحبو !ہمیں لوگوں کے ظاہر کے بجائے ان کی باطن اور عمل پر نظر رکھنی چاہیے۔ ہمیں ماضی کے تجربات سے سیکھ کر مستقبل کے فیصلے کرنے چاہئیں۔ اگر کسی نے ہمیں نقصان پہنچایا ہے، تو اسے دوبارہ وہ موقع دینا نہ صرف اپنی عزت نفس کے خلاف ہے بلکہ یہ خود کو دوبارہ اسی اذیت سے گزارنے کے مترادف ہے۔ دوستو! انسان طبعاً اور مزاجاً خوبصورتی کو پسندکرتا اورسراہتا ہے۔دنیا میں خوبصورتی کی تعریف ہر دور میں بدلی ہے، لیکن ایک چیز ہمیشہ سے مشترک رہی ہے اور وہ ہے ظاہر اور باطن کے درمیان کشمکش۔ ہم روز مرہ زندگی میں بے شمار لوگوں سے ملتے ہیں، کچھ اپنی شاندار پوشاک سے متاثر کرتے ہیں، اور کچھ اپنے کردار، اخلاق اور باطن کی خوبصورتی سے دل جیت لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا خوبصورت لباس ہی انسان کو خوبصورت بناتا ہے، یا اصل حسن انسان کے اندر پوشیدہ ہوتا ہے؟
توعرض یہ ہے کہ جناب !کپڑے انسان کی تہذیب، سلیقہ شعاری اور ذوق کا عکس ہوتے ہیں۔ صاف ستھرا، قرینے سے پہناگیا لباس ایک اچھا تاثر چھوڑتاہے۔ کسی تقریب میں مناسب لباس پہننا، پیشہ ور ماحول میں موزوں لباس اور خود کو سلیقے سے پیش کرنا معاشرتی آداب کا حصہ ہے۔تاہم لباس انسان کی شخصیت کا ایک ظاہری پہلو ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اچھا لباس خود اعتمادی کو بھی بڑھاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لباس کی خوبصورتی عارضی اور سطحی ہوتی ہے، جبکہ باطن کی خوبصورتی پائیدار اور دیرپا اثر رکھتی ہے۔
اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ہم لباس کو اہمیت نہ دیں۔دنیا خوبصورتی کے پیچھے بھاگ رہی ہے، لیکن اصل خوبصورتی نہ چہرے میں ہے، نہ لباس میں ، وہ تو انسان کے کردار میں ہے۔لہٰذا، ہمیں اپنی ظاہری خوبصورتی کا خیال رکھتے ہوئے، باطنی خوبصورتی پر بھی اتنی ہی توجہ دینی چاہیے۔لباس انسان کو زینت تودیتا ہے، لیکن کردار انسان کی اصل شان ہے۔۔۔۔باقی رہے نام اللہ کا!