Wed, September 16, 2026

ہم جنگ جیت چکے ہیں؟

ہم جنگ جیت چکے ہیں؟

جنگ چھڑ چکی ہے، جنگ ہو رہی ہے، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ ہو کر رہے گی۔ ایک کھلی جنگ بھرپور جنگ ہونا طے ہے۔ اس کے بغیر معاملات طے نہیں پا رہے۔ تقسیم ہند کے بعد 1947ءسے لے کو ہنوز، آج بروز ہفتہ، بتاریخ 10مئی 2025ءتک، کانگریسی ہندو قیادت ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت، سب مسلمانوں کے خلاف اور پاکستان کے دشمن۔ وہ یہ دشمنی بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ نبھا رہے ہیں، تین بھرپور جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ پاکستان پر 25سال سے دہشت گردی مسلط کی جا چکی ہے جس کے پیچھے، آگے اور سامنے ہندوستان کی انٹیلی جنس ایجنسی RAWکا پورا ہاتھ ہی نہیں بلکہ پورا جسم شامل ہے۔ بلوچستان ہو یا کے پی، دہشت گردوں کا راج ہے۔ انہیں ”را“ تربیت دیتی ہے، مالی معاونت فراہم کر رہی ہے، ان کی عملی سرپرستی کر رہی ہے، پاکستان لہولہان ہے، مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ 
اب پہلگام ڈرامے کے ذریعے پاکستان پر ایک نئی جنگ مسلط کر دی گئی ہے۔ 22اپریل کو وقوعہ ہوا۔ 23تاریخ کو ہندوستان نے پاکستان کو سزا دینے کا بھی اعلان کر دیا۔ پاکستان نے 24تاریخ کو ترکی بہ ترکی جوابی اقدامات کا اعلان کر دیا۔ اس دن سے دونوں ملکوں میں حالت جنگ قائم ہے۔ بھارت نے پاکستان پر میزائلوں، جہازوں اور ڈرونز کے ذریعے حملہ کر دیا ہے۔ پاکستان نے ابھی تک صرف اپنا حق دفاع استعمال کیا ہے۔ تینوں محاذوں پر مودی سرکار ہزیمت اٹھا چکی ہے۔ ہندوستانی منصوبہ سازی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ حال ہی میں ہندوستان نے پاکستان پر اپنے ڈرونز بھیجے۔ یہ ڈرونز اسرائیلی ساختہ، اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی سے لیس تھے۔ عالمی سطح پر کارکردگی کے اعتبار سے بہترین اور شہرت یافتہ تھے۔ پاکستان نے 77 مار گرائے۔ کچھ سگنل جام کرکے گرائے گئے اور کچھ کو نشانہ لگا کر تباہ کیا گیا۔ یہ ڈرون عام نہیں خاص ہی نہیں بلکہ عالمی طور پر مانے گئے اسرائیلی ڈرون تھے۔ امریکہ بھی ان ڈرون کو استعمال کرتا ہے۔ بھارت یہ ڈرونز ایک حتمی اور فیصلہ کن ہتھیار کے طور پر میدان میں لایا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت اسرائیلی ماہرین بھی ہندوستان میں ملٹری آپریشن میں عملاً شریک ہیں۔ پاکستان میں ان ڈرونز کے ساتھ جو کچھ ہو گیا ہے اس نے اسرائیلی ٹیکنالوجی برتری کا بھانڈہ بیچ چوراہے پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہندوستان اسرائیلی معاونت کے باعث اپنے آپ کو جو شیر سمجھنے لگا تھا وہ بلی بلکہ بھیگی بلی بن کر سراسیما بیٹھا ہے۔ پاکستان نے ڈرونز کے حوالے سے ہندوستان کی برتری کا زعم تار تار کر دیا ہے۔ 
ہندوستان نے پاکستان پر چار میزائل داغے، ایک ہم نے مار گرایا۔ پاکستان نے بہاولنگر میں بھی ایک اسرائیلی ساختہ ڈرون گرا لیا۔ ہندوستان نے اپنی ہوائی برتری قائم رکھنے کے لئے دنیا کے جدید ترین اور مہنگے ترین رافیل طیارے خریدے، اربوں ڈالر خرچ کئے، پھر بڑے طمطراق سے پاکستان پر فضائی حملہ کیا۔ پاکستان نے تین رافیل سمیت ہندوستان کے پانچ جہاز تباہ کر دیئے۔ دنیا حیران ہی نہیں بلکہ پریشان ہو گئی ہے کہ رافیل کو گرایا بھی جا سکتا ہے۔ رافیل کی عالمی ریٹنگ فنا کی گھاٹ اتر گئی ہے۔ طیارہ ساز فرانسیسی کمپنی کی سٹاک مارکیٹ میں قدر گر گئی ہے۔ 
پاک بھارت فضائی جنگ میں مغرب کی اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی، رافیل کی صورت میں، چائنیز ٹیکنالوجی کے مقابل آئی۔ چائنیز ساختہ جے 10 سی بمقابلہ رافیل نے مغرب کی عسکری ٹیکنالوجی کے میدان میں کسی بھی برتری کا پول کھول دیا ہے۔ چین نے ابھی تک کہیں بھی جنگ نہیں لڑی ہے۔ اس لئے چین کی اس میدان میں حقیقی تیاری یا صلاحیت بارے دنیا کو کچھ معلومات نہیں ہیں لیکن جے 10 سی نے رافیل کے مقابلے میں جو کارکردگی دکھائی ہے اس نے دنیا کو ناصرف حیران کر دیا ہے بلکہ مغرب پر کپکپی طاری ہو گئی ہے۔ چین ایک ابھرتی ہوئی نہیں بلکہ ابھر چکی معیشت بن چکی ہے۔ دنیا کے تجارتی و معاشی منظر پر دوسری بڑی مملکت ثابت ہو چکی ہے۔ امریکہ اسے عالمی تجارتی و معاشی منظر پر چھا جانے سے روکنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا چکا ہے۔ ٹرمپ نے جو ٹیرف وار شروع کی ہے۔ اس کا مقصد چین کو عالمی منظر پر نمبرون ہونے سے روکنا ہے لیکن چین نے جس طرح جوابی کارروائی شروع کی ہے تو معاملات پلٹنے لگے ہیں۔ امریکہ کیخلاف اور چین کے حق میں۔ پھر پاک بھارت جاری جنگ میں رافیل اور جے 10 سی کی لڑائی میں 10 سی کی برتری اور رافیل کی مکمل شکست نے صورتحال، عسکری معاملات میں بھی مغرب بمقابلہ چین میں اضطرابی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ چین ہمارے ساتھ کھڑا ہے، اعلانیہ کھڑا ہے، پاک چین دوستی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے لیکن پاکستان کے ساتھ وابستہ چینی مفادات، تجارتی و تزویراتی مفادات ایک ایسی حقیقت ہیں جس کے باعث پاک چین دوستی یک جان۔ دو قالب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے ممالک کی تجارت پر غالب آ چکا ہے۔ اس منصوبے میں سی پیک کلیدی حیثیت اور اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گوادر کی بندرگاہ ہے جس کی صرف تجارتی اہمیت نہیں ہے بلکہ بحرہند کی تزویراتی سیاست میں بڑی اہمیت ہے۔ امریکہ چین کو گھیرنا چاہتا ہے تاکہ اس کی تجارت خطرات کا شکار ہو۔ اس کے تجارتی راستوں پر دباﺅ ڈالا جا سکے۔ اس حوالے سے ہندوستان کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکہ، انڈیا کو ہر لحاظ سے پال پوس کر تگڑا بنا رہا ہے۔ معاشی اعتبار سے بھی اور ایک عسکری طاقت کے طور پر بھی اسے 
بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ امریکہ نے اپنی سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی بھی ہندوستان کے حوالے کر دی ہے۔ سفارتی سطح پر بھی اس کی معاونت کی جا رہی ہے۔ امریکی بغل بچہ اسرائیل بھی ہندوستان کا معاون بنا ہوا ہے۔ حالیہ جنگ میں ڈرونز سمیت اسرائیلی ماہرین کی انڈیا میں موجودگی اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ امریکہ اور اس کے حواری کھلے عام انڈیا کے مددگار بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان اور چین کے خلاف ان کے عزائم اب کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں رہے ہیں۔ چین پاکستان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے۔ خطے میں بھارتی چودھراہٹ کا خواب بھی پریشان ہو گیا ہے۔ اب چین اور پاکستان مل کر خطے کی سیاست ترتیب دینے لگے ہیں۔ روس کے ساتھ بھی ہمارے معاملات بہتر ہونے جا رہے ہیں۔ چین کے ساتھ ہماری دوستی اس حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہے جو ہمیں روس کے قریب لانے میں ممد و معاون ثابت ہوگی۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ 240ملین آبادی ہے جو 67فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ 330ارب ڈالر کی معیشت ہے۔ یہ سب عوامل مثبت اور پاکستان کی طاقت ہیں پھر پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ان سب پر حاوی ہے۔ ہماری مسلح افواج اور اس کا ایٹمی صلاحیت سے لیس ہونا ایسے عوامل ہیں جو پاکستان کو حقیقتاً ایک اہم ملک بناتے ہیں۔ ہم ایک اہم ملک ہیں، ہمیں جھکایا نہیں جا سکتا ہے۔

ٹیگز: