Wed, September 16, 2026

ثقافت کا فروغ یا سکیورٹی رسک

 ثقافت کا فروغ یا سکیورٹی رسک

 اپنے معاشرے میں بڑھتے ہوئے تضاد کو دیکھ کر افسوس تو ہوتا ہے لیکن اس سے زیادہ مجبوری کا احساس ہوتا ہے کہ اپنی تمام تر کوششوں اور خواہشوں کے باوجود بھی ہم اس میں سدھار لانے میں بری طرح ناکام ہیں۔ صبح اخبار کھولو تو مہنگائی کی خبریں، شام کو ٹی وی دیکھو تو بے روزگاری کے قصے، اور رات کو گلی محلوں میں نکلو تو فاقوں اور مجبوریوں کی کہانیاں۔ ایک عام آدمی کی زندگی تو صرف اسی سوال کے گرد گھومتی ہوئی محسوس ہوتی ہے کہ کل کا دن کیسے گزرے گا؟۔
 ایسے حالات میں جب انسان دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے غیر یقینی کا شکار ہو، عورتیں اپنی عزتیں بیچنے پر مجبور ہوں اور نوجوان روزگار نہ ملنے کی وجہ سے وارداتوں اور غلط راستوں پر گامزن ہوں، بسنت جیسے چونچلوں اور مہنگے تہوار پر سرکاری اور نجی سطح پر اربوں روپے لٹانا کہاں کی دانشمندی ہے؟ اس سلسلہ میں حکومت اگر یہ توضیع پیش کرے کہ اس قسم کے تماشوں سے کافی زیادہ ریونیو جمع کیا جا سکتا ہے تو اسے یہ باور کروانا بھی ضروری ہے کہ ان فیصلوں سے جہاں آبادی کا کچھ حصہ ’انجوائے‘ کرتا ہے وہیں عوام کی ایک بڑی تعداد میں احساس محرومی کس قدر بڑھ جاتا ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام تر دعوں کے باوجود اس تہوار کو ایک خونی کھیل کی شکل اختیار کرنے سے روکنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہ دلیل کافی طاقتور ہے کہ خوشیاں اور تفریح ہر انسان کا بنیادی حق ہے، مگر اس کا کوئی تو معیاربھی ہونا چاہیے۔ جب پیٹ خالی ہو، گھروں میں ادویات نہ ہوں، بچوں کی فیسیں رکی ہوں تو آسمان پر اڑتی پتنگیں کسی زخم پر مرہم نہیں رکھ سکتیں۔ الٹا یہ احساس اور گہرا کر دیتی ہیں کہ معاشرہ کس قدر بے حس اور خود غرض ہو چکا ہے۔
بسنت واقعی کبھی بہار کا پیارا سا تہوار تھا۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ پہلے زمانے میں لوگ سادہ ڈور اور کاغذ کی پتنگوں سے دل بہلا لیتے تھے۔ مقصد صرف مل بیٹھنا اور خوش ہونا تھا۔ مگر آہستہ آہستہ یہ سادگی ختم ہوتی گئی۔ اب بسنت خوشی کا نہیں، طاقت اور دولت کے اظہار کا دن بن چکا ہے۔ جس کے پاس روپیہ پیسہ اور دولت ہے وہ مہنگی ڈور اور بڑی پتنگیں خریدتا ہے جبکہ غریب آدمی دور کھڑا حسرت سے یہ تماشا دیکھتا رہتا ہے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ ڈور کا ایک پنا بائیس ہزار روپے تک میں فروخت ہو رہا ہے۔ ایک معمولی سی پتنگ تین سو سے پانچ سو روپے میں ملتی ہے۔ اندازہ لگائیں کہ ایک اوسط گھرانہ اگر صرف چند گھنٹے کی تفریح کے لیے پچیس تیس ہزار خرچ کر دے تو یہ رقم اس کے پورے مہینے کے راشن کے برابر ہوتی ہے۔ مگر لوگوں کو اس بات کا احساس ہی نہیں رہا۔ایک خاص طبقہ کی جانب سے تفریح کے نام پر لاکھوں روپئے ایسے اڑائے جا رہے ہیں کہ گویا کوئی قومی فریضہ ادا کیا جا رہا ہو۔
بسنت کے حامی کہتے ہیں کہ یہ ہماری ثقافت اور روایت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر روایت آنکھیں بند کر کے نبھانا ضروری ہے؟ اگر کوئی روایت انسانی جان لینے لگے تو کیا پھر بھی اسے سینے سے لگائے رکھنا چاہیے؟ اسی تماشے کی وجہ سے لوگ تیز دھاتی ڈور سے اپنی جان گنوا دیتے ہیں، موٹر سائیکل سواروں کی گردنیں کٹ جاتی ہیں، کتنے بچے معذور ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ سب دیکھ کر بھی ہمارا دل نہیں پسیجتا؟اس کے علاوہ جب پولیس اور ضلعی انتظامیہ کئی دن بسنت سے متعلق امور ہی انجام دیتے رہیں تو عوام کے تحفظ کے معاملات تو نظر انداز ہوں گے ہی۔ اس کی ایک مثال ہم نے گزشتہ روز اسلام آباد میں دیکھی جہاں 2008 کے بعد دہشتگردی کی ایک بڑی واردات میں 32افراد اپنی جان سے گئے اور 170سے زائد زخمی حالت میں پڑے ہیں۔ 
حکومت کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ دہشت گردی صرف خود کش حملے نہیں بلکہ دہشت گردی یہ بھی ہے کہ پابندی کے باوجود بازاروں میں ہر قسم کی خطرناک ڈور کھلے عام بکتی رہے اور یہ تاثر ملے کہ جیسے قانون صرف کمزور کے لیے بنایا گیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس ملک میں لوگ علاج کے لیے چند ہزار مانگتے پھرتے ہوں، وہاں ایک ہی دن میں اربوں روپے پتنگوں پر اڑا دیے جائیں ۔ یہ خوشی نہیں، اجتماعی اندھا پن ہے۔ اگر یہی پیسہ ہسپتالوں، سکولوں اور غریبوں پر خرچ ہو تو معاشرہ کتنا بدل سکتا ہے۔
بسنت کے دن اگر کسی کا جانی نقصان ہو جائے تو چند گھنٹوں بعد سب بھول جاتے ہیں۔ شہر میں موسیقی بجتی رہتی ہے، چھتوں پر ناچ گانا چلتا رہتا ہے اور کسی غریب کے گھر سے اٹھنے والا جنازہ خاموشی سے دفن ہو جاتا ہے۔ کیا ہم اتنے پتھر دل ہو گئے ہیں کہ موت بھی ہماری تفریح نہیں روک سکتی؟ ہم نے دیکھا کہ سانحہ اسلام آباد کے باوجود حکومت کو بسنت کے نام پر ہونے والی ہلڑبازی منسوخ کرنے کا خیال نہیں آیا ۔ ہاں البتہ سرکاری سطح پر ہونے والی کچھ تقریبات منسوخ کر کے کاروائی ڈالنے کی کوشش ضرور کی گئی ہے۔ 
ہمارا مذہب واضح طور پر اسراف سے منع کرتا ہے۔ سادگی کو پسند کرتا ہے اور انسانی جان کو سب سے قیمتی قرار دیتا ہے۔ مگر ہم نے مذہب کو صرف تقریروں کی حد تک محدود کر دیا ہے۔ عملی زندگی میں ہمیں صرف اپنا شوق نظر آتا ہے۔ نہ ہم قانون کی سنتے ہیں نہ اخلاق کی۔
حکومت نے بسنت کے سلسلہ میں بظاہر عوام کے تحفظ کے لیے تین دن کی چھٹی کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن کیا کسی نے سوچا کہ دفاتر اور سکوں وغیرہ کی تو خیر ہے لیکن اس دہاڑی دار کا کیا بنے گا جو روزانہ جو کماتا ہے اس کے بچے وہی کھاتے ہیں۔ حکومت نے ٹرانسپورٹ تو فری کی ہے کیا ہے اچھا ہوتا کہ اس قسم کا اعلان بھی سننے میں آتا کہ ان تین دنوں میں تمام دہاڑی داروں کو ادائیگی حکومت کرے گی۔
 اگر ہم ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے زخموں پر نمک تو نہ چھڑکیں۔ بسنت پر لٹائے جانے والے پیسے سے کتنے گھروں میں چولہا جل سکتا ہے، کتنے بچوں کی فیس ادا ہو سکتی ہے، کتنے مریضوں کی جان بچ سکتی ہے۔
یہ کالم کسی تہوار کے خلاف نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کے خلاف ہے۔ خوشی ضرور منائیں مگر انسان بن کر منائیں۔ پہلے اپنے معاشرے کے زخموں پر مرہم رکھیں، پھر آسمان کو رنگوں سے سجائیں۔ ورنہ یہ رنگ ایک دن ہمارے ضمیر پر داغ بن جائیں گے۔
بسنت پر اربوں روپے ضائع کرنا ایسے ہی ہے جیسے بھوکے گھر میں چراغاں کرنا۔ گھر کو روٹی چاہیے اور ہم روشنیوں پر پیسہ لٹا رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ اس پاگل پن کو روکا جائے۔ حقیقی بہار تب آئے گی جب کسی ماں کی آنکھ میں آنسو نہ ہوں،کوئی عورت حالات کے ہاتھوں تنگ آ کر اپنی عزت کا سودا کرنے پر مجبور نہ ہو، کسی نوجوان کے دل میں مایوسی نہ ہو اور کسی بچے کو بھوکا نہ سونا پڑے۔ ورنہ ہم پتنگیں اڑاتے رہیں گے اور ہمارا معاشرہ خاموشی سے زمین بوس ہوتا چلا جائے گا۔

ٹیگز: