کسی بھی غیر مصدقہ خبر کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا معاشرے کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ کچھ عرصے سے ہم دیکھ چکے ہیں کہ فیک نیوز نے حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی عوام میں بے چینی پھیلائی مگر ایک اہم مسئلہ غیر ذمہ دارانہ صحافت بھی ہے۔ دنیا کے کئی صحافتی ادارے بعض اوقات غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں پاکستان کے بارے میں ایک حالیہ غیر ملکی رپورٹ نے ایک بار پھر بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ دراصل پرانا مسئلہ ہے۔ بعض بین الاقوامی اخبارات نجی سطح پر ہونے والی بات چیت کو ریاستی پالیسی کے طور پر پیش کر دیتے ہیں حالیہ مثال پسنی پورٹ کے ایک مبینہ منصوبے کی ہے جسے چند غیر مصدقہ ذرائع کی بنیاد پر ایسے پیش کیا گیا جیسے یہ ریاستِ پاکستان کی جانب سے کوئی باضابطہ تجویز ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کوئی منصوبہ کبھی پیش کیا گیا نہ اس پر کسی سطح پر غور ہوا، اور نہ ہی کسی حکومتی یا عسکری ادارے نے اس بارے میں کوئی بات چیت کی۔ پاکستان کی ریاستی پالیسی کے معاملات ہمیشہ باقاعدہ ادارہ جاتی عمل کے ذریعے طے پاتے ہیں۔ کوئی بھی معاشی یا سٹریٹیجک تجویز متعلقہ وزارتوں، ریگولیٹرز اور کابینہ کے فورمز سے گزرتی ہے۔ اس کے بعد قومی مفاد، سلامتی اور تجارتی پہلوؤں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اس عمل سے گزرے بغیر کسی نجی سطح پر ہونے والی گفتگو کو پالیسی کا رنگ دینا گمراہ کن ہے۔ اس خبر میں سب سے بنیادی تضاد یہی تھا کہ ایک طرف تو اسے غیر سرکاری اور نجی سطح کی بات کہا گیا، لیکن دوسری طرف یہ تاثر دیا گیا کہ شاید اس کا تعلق عسکری قیادت یا کسی حکومتی پالیسی سے ہے۔ مزید یہ کہ خبر میں خود یہ تسلیم کیا گیا کہ یہ سرکاری پالیسی نہیں مگر پھر بھی وائٹ ہاؤس سے اس کی تصدیق طلب کی گئی۔ جب کوئی منصوبہ سرکاری سطح پر موجود ہی نہیں تو کسی غیر اہم چیز پر سرکاری ردِعمل مانگنا صحافتی تضاد کے سوا کچھ نہیں۔ اس طرح کی رپورٹنگ گمراہی کا باعث بنتی ہے۔ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں کئی نجی تجارتی یا سرمایہ کاری سے متعلق تصورات زیرِ بحث آتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کا ذکر کر کے یہ تاثر دینا کہ ریاست ان سے وابستہ ہے، ایک غیر منصفانہ فریم ورک کے سوا کچھ نہیں۔ کسی بھی سنجیدہ اخبار یا ادارے سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مصدقہ فورمز مثلاً وزارتِ خارجہ یا آئی ایس پی آر، سے تصدیق کرے بجائے اس کے کہ وہ نامعلوم ذرائع پر مبنی قیاس آرائیوں کو سرکاری بیانیہ بنا دے۔ اسی رپورٹ میں چین کا پہلو بھی بلاوجہ اٹھایا گیا ہے۔ پاکستان ایک خود مختار ریاست ہے جو دنیا کے تمام بڑے ممالک کے ساتھ توازن کی پالیسی اپناتی ہے۔ بھارت بھی چین سے تجارت کرتا ہے، روس سے تعلقات رکھتا ہے، امریکا سے تعاون کرتا ہے، اور ایران و اسرائیل سے الگ نوعیت کے روابط رکھتا ہے۔ اگر بھارت کی یہ کثیر الجہتی سفارت کاری سٹریٹیجک آٹانومی کہلاتی ہے تو پاکستان کی متوازن پالیسی کو شک کی نظر سے دیکھنا دوہرا معیار ہے۔ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات مستحکم ہیں اور سی پیک کے تمام منصوبے اپنے دائرے میں تسلسل سے جاری ہیں۔ اگر کسی نجی تجویز کو کبھی غور کے لیے پیش کیا بھی جائے تو وہ انہی ادارہ جاتی راستوں سے گزرے گی جو شفاف، قانونی اور قومی مفاد پر مبنی ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ پسنی پورٹ کا کوئی سرکاری منصوبہ موجود نہیں۔ یہ محض چند نجی سطح کی بات چیت تھی جو سرکاری عمل تک پہنچی ہی نہیں۔ لہٰذا اسے ریاستی پالیسی سے جوڑنا ناانصافی ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی بحالی، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی اعتماد کے فروغ پر کام کر رہا ہے، بے بنیاد خبروں کا پھیلاؤ اس کوشش کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ قیاس آرائی کو خبر نہ بنایا جائے اور تصدیق شدہ حقائق کو ہی عوام کے سامنے لایا جائے۔