Wed, September 16, 2026

نہ لٹتا دن کو

نہ لٹتا دن کو

بھلا اب کس کی سنیں ؟ارباب اختیار کہتے ہیں چین کی بانسری بجائیں ، گہر ی نیند سوئیں اور ٖغم، وہ تو بالکل بھی نہ کریں۔بقول انکے گلشن میںچار کھونٹ امن ہی امن ہے ۔ ایسے میں پھر خوف کیسا؟ محافظوں کی فوج ظفر موج ہر سو پھیلی جو ہوئی ہے ۔ ایسے میںبھلا راہزنوں کا کیا کام،گویا انکی کی لمبی چھٹی۔ پھر گھبرانا کیسا ، دل کا جلانا کیسا؟خوشیاں منائیں اور موج مستی کریں۔ہر کوچہ و گلی محفوظ ہے۔کسی کی کیا مجال کہ کوئی آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ لے۔خوف و دہشت کے سائے اس بار چوروں اور لٹیروں کے ذہن و قلب پر چھائے ہوئے ہیں ۔ اور ایسا ہو بھی کیوں نا، داروغہ شہر اور محافظوں نے انتظامات ہی ایسے مثالی کیے ہیں ،کسی کی کیا مجال کہ کوئی پر مارے۔ چنانچہ عوام کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرکے داروغہ شہر اور اسکے لیے جو فوج ظفر موج پالی ہے اس نے اپنا حق ادا کردیا ہے۔خیر اربابِ اختیار و اقتدار کے دل کو موہ لینے والے بلندو بانگ دعوے اپنی جگہ، حقائق کی بستی میںحالیہ واقعات و حادثات تو کچھ اور ہی داستاں بیان کر رہے ہیں، رہے عوام تو وہ ہر لحظہ ہمہ تن گوش ہیں۔ایسے حالات کی غالب نے بھی کیا خوب تصویر کشی کی ہے۔
نہ لٹتا دن کوتو کب رات کو یوں بے خبر سوتا 
رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں راہزن کو
یعنی عوام اس مخمصے کا خوب شکار ہیں کہ انہیں اصل خطرہ کس سے ہے ؟راہزن سے یا پھر محافظ سے رونما ہونے والے کچھ حالیہ واقعات پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کچھ ایسے تو منفرد ضرور ہے جس سے یہ نشاندہی ہوتی ہے کہ ابھی تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو۔ایک جانب طاقت کے ایوانوں میں موجود طاقت کے حاشیہ بردار اپنے دعوئوں پر مصر ہیں تو دوسری طرف چند واقعات نے ہی حالات کی سنگینی کے بارے میں اشارہ کردیا ہے۔ نگہبانوں کی صفوںاور قول وعمل میں پڑی گہری دراڑیں پوری طرح منکشف ہوچکی ہیں۔
ارباب اختیار کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب میں اس وقت چار کھونٹ امن ہی امن ہے ۔ ڈاکو اور چور حال ہی میں تشکیل پانے والے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی پے درپے کارروائیوں کی بدولت خوف کے مارے راہ ِ فرار اختیار کرچکے ہیں اور کونوں کھدروں میں چھپے تھر تھر کانپ رہے ہیں کہ مبادا سی سی ڈی کی نظر اُن پرنہ پڑ جائے۔ دعوے کے مطابق صوبے میں جرائم کی شرح نہ صرف کم ہوئی ہے بلکہ کئی اضلاع میں تو صفر ہوچکی ہے گویا اگر اس وقت خواتین زیور سے لدی پھندی گھر سے باہر نکلیں تو کسی کی جرأت نہیں کہ اُن کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ لے۔ سڑکیں ، چوراہے اور رہائش گاہیں اب مکمل طور پرمحفوظ ہیں ۔چنانچہ ارباب اختیار و اقتدار کا اب یہ حق ہے کہ عوام اس بہترین کارکردگی پر متعلقہ اداروں کی مدح سرائی کریں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عوام میں احساس تحفظ کی موجودگی کا ایک بڑا ثبوت سوشل میڈیا پر ان کی جانب سے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار ہے جس میں وہ سی سی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعریف و توصیف کرتے نہیں تھکتے۔خیر خواب دیکھنا کوئی بُری بات نہیں تاہم ہر لمحہ محو خواب رہنا یقینا درست نہیں ۔ کچھ یوں ہی ملک بالخصوص پنجاب کے باسیوں کے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہوا جب انہیں یہ پتا چلا کہ لوٹ مار کی اس گنگا میں راہزنوں کے ساتھ محافظ بھی خوب ہاتھ دھو رہے ہیں ۔یہ محافظ بھی کوئی ایسے ویسے نہیں بلکہ ایس ایچ او اور تھانیدار کی سطح کے۔شہری پہلے تو انگشت بدنداں ہوئے جب شہریو ں کے علم میں یہ بات آئی کہ ایک خاتون کو اسکی گاڑی سے محروم کرنے والا ملز م کوئی اور نہیں بلکہ لاہور کے تھانے میں تعینات ایک تگڑا تھانیدار ہے۔ ملزم کی نشاندھی سی سی ٹی وی کیمروں سے ہوئی ۔ ابھی اس واقعہ کی دھول بھی نہیںبیٹھی تھی کہ ہم کسی سے کم نہیں کے مصداق نیو انارکلی میں تعینات ایک اور نقاب پوش تھانیدار نے شاہدرہ کے علاقہ میں دن دیہاڑے ایک شہری کو چوتھی بار نشانہ بناتے ہوئے ڈکیتی کی ایک واردات میں لاکھوں روپے کی نقدی سے محروم کردیا۔’لو کرلو گل‘ کے مصداق شہری اس بار حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہوگئے جب انہیں معلوم ہوا کہ پولیس فورس میں ’باہم مقابلہ نا تمام‘ کی ایک اور واردات سی سی ڈی کے اپنے ہی انسپکٹر جاوید نے ایک شہری کو تاوان کے لیے اغوا کرلیا ۔ تاوان کی رقم کروڑوں میں تھی ۔ سی سی ڈی کایہ انسپکٹر اپنی ساتھیوں سمیت گرفتار تو ہوگیا تاہم اس واقعہ سے یہ تو ضرور طشت ازبام ہوا کہ اس وقت سی سی ڈی کے کئی اہلکار ماورائے عدالت قتل کی مبینہ وارداتوں کے علاوہ بھتہ خور ی، ناجائز قبضوں ، اغوا برائے تاوان اور ذاتی دشمنیوں کے Score settle  کرنے میں مصروف عمل ہیں۔یہ قصہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ معلوم ہوا کہ اسلام پورہ کا ایک تھانیدار اپنے پیٹی بندوں کے ہمراہ ایک شہری کے گھر سے قیمتی اشیاء اور زیورات لوٹتے پکڑا گیا ۔قابل غور امر یہ ہے کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات ملتے ہیں جس میں کانسٹیبل لیول کے اہلکار جرائم کی وارداتوں میں ملوث پائے گئے ہیں ۔ تاہم انسپکٹر اور سب انسپکٹر لیول کے پولیس افسران جو محکمہ پولیس کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں وہ براہ راست ڈکیتیاں، چوریاں اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث نظر آتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال غور طلب ہے کہ یہ افسران تو پہلے ہی تھانوں میں عوام کی جیبیں باآسانی صاف کرتے نظر آتے ہیں ، ایسے میں ان میں پر ایسی کیا افتاد پڑی کہ یہ دن دیہاڑے عوام پر ٹوٹ پڑے ہیں۔یہ نفسیاتی اور ذہنی دبائو تو بالکل بھی نہیں ہے بلکہ یہ طاقت و اختیار کے غلط استعمال کا مظہر نظر آتا ہے۔اعلیٰ پولیس افسران کی Chain of Cammand میں ایسی کیا کمزوری اور نقص پیدا ہوگیا ہے کہ وہ اپنی ناک کے نیچے پیدا ہونے والی اتنی بڑی تبدیلی سے بے بہرہ اور لاعلم ہیں۔

ٹیگز: