Wed, September 16, 2026

سی پی آئی میں کمی، ایس ایم تنویر نے شرح سود 6 فیصد تک کم کرنے کا مطالبہ کر دیا

سی پی آئی میں کمی، ایس ایم تنویر نے شرح سود 6 فیصد تک کم کرنے کا مطالبہ کر دیا

لاہور : یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے پیٹرن اِن چیف، جناب ایس ایم تنویر نے  کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) میں نمایاں کمی کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان سے شرح سود فوری طور پر 6 فیصد تک کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افراطِ زر میں کمی ایک خوش آئند پیش رفت ہے، اور اب 11 فیصد شرح سود برقرار رکھنا کسی صورت معاشی طور پر درست اقدام نہیں  ہے۔   ان کامزید کہنا تھا کہ حقیقی شرح سود (Real Interest Rate) کا فرق بہت زیادہ ہو چکا ہے جو صنعتی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

ایس ایم تنویر کے مطابق شرح سود میں کمی سے نہ صرف صنعتی پیداوار میں بہتری آئے گی بلکہ روزگار کے مواقع بڑھیں گے، برآمدات میں مسابقت بڑھے گی، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور حکومت پر قرضوں کا بوجھ بھی کم ہو گا۔

انہوں نے کہا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سٹیٹ بینک فوری طور پر شرح سود کو کم از کم 6 فیصد تک لائے۔ یہ اقدام معیشت کی بحالی کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
ایس ایم تنویر نے ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس، تجارتی تنظیموں اور بزنس لیڈرز سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ایک معاشی پالیسی کے لیے آواز بلند کریں جو ترقی کو فروغ دے اور کاروباری ماحول کو بہتر بنائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم ایک اجتماعی، مضبوط آواز بن کر حکومت اور سٹیٹ بینک سے مطالبہ کریں کہ وہ ایسی پالیسیاں مرتب کریں جو عوام، صنعت اور ملک کی مجموعی معیشت کو فائدہ پہنچائیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت اور مرکزی بینک ملک کی معاشی حقیقتوں کا ادراک کرتے ہوئے شرح سود میں کمی کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کریں گے۔