Wed, September 16, 2026

’’وہ‘‘ بھائی سے کیا چاہتے ہیں؟

’’وہ‘‘ بھائی سے کیا چاہتے ہیں؟

اسلام آبا دکی عدالت نے جمعہ کے روز نومئی کے کیس میں پی ٹی آئی کے ایک رکن اسمبلی سمیت مزید گیارہ کارکنوں کو سزائیں سنادی ہیں۔نومئی کیخلاف سزائیں سنانے کا آغاز ملٹری کورٹس نے کیا تھا اس کے بعد گوجرانوالہ کی ایک عدالت نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ملزم سے مجرم قراردیاتھا۔لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں درجنوں مقدمات زیر سماعت ہیں لیکن ابھی تک لاہور کی کسی عدالت نے مقدمات کا فیصلہ نہیں کیا یہی حال پشاور اور کراچی سمیت ملک کی دوسری عدالتوں کا ہے۔نومئی کو جی ایچ کیو پر حملے کا ایک کیس عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین پر بھی چلایا جارہا ہے ۔اس کیس میں بھی فرد جرم عائد ہوچکی ہے ۔قانون اور آئین کا تقاضا ہے کہ ایسے تمام مقدمات کا فیصلہ اب ہماری معزز عدالتوں کو کردینا چاہے تاکہ سزا پانے والے اعلیٰ عدالتو ں میں اپیلیں دائر کرسکیں جس کی ضمانت بنتی ہے اس کو وہ ملے اور جس کی سزا برقراررکھی جانی ہے وہ سزا مکمل کرکے آزادی پاسکے۔
نومئی پر عدالتوں کی طرف سے سزائیں اشارہ کرتی ہیں پی ٹی آئی کے اس مطالبے کو کسی سطح پر بھی کوئی پذیرائی ملنے کا دوردور تک امکان نہیں کہ نومئی پر جوڈیشل کمیشن بنادیا جائے یا یہ کوئی فالس فلیگ آپریشن وغیرہ تھاکیونکہ ہر گزرتا دن پی ٹی آئی کے لیے مشکلات لے کرآرہا ہے۔پی ٹی آئی اور خاص طورپر عمران خان صاحب کا یہ گمان کہ یہ سسٹم ان جیسے عوامی مقبولیت کے حامل شخص کوجیل میں رکھ ہی نہیں سکتا مکمل ہی دور ہوگیا ہے۔عمران خان صاحب کو یہ گمان تھا کہ ان کی عوامی مقبولیت بہت زیادہ ہے ۔لوگ ان کے ساتھ ہیں ۔وہ جب چاہیں گے جیسے چاہیں عوامی احتجاج کی کال دیں گے اور ایک ہی کال سے لاکھوں لوگ اسلام آباد میں جمع ہوکر اس سسٹم کی سانس روک دیں گے پھر یہ حکومت ہو یا اسٹیبلشمنٹ وہ ان کو رہا کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔عمران خان صاحب نے یہ آپشن استعمال کیا اور کئی بار کیا لیکن حکومت نے اس آپشن کو اپنی پوری قوت سے نہ صرف روکا بلکہ مکمل ناکام بھی بنادیا۔چھبیس نومبر کے بعد پی ٹی آئی اس قابل ہی نہیں بچی کہ وہ عوامی سطح پر کوئی احتجاج کرسکے یہاں تک کہ اس کے بعد خیبرپختونخوا یہاں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت ہے وہاں بھی پارٹی کو ئی ڈھنگ کا احتجاج نہیں کرپائی ۔عمران خان صاحب نے خود وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورپر عدم اعتماد کرتے ہوئے ان کو پارٹی صدارت سے ہٹا کر جنید اکبر کو صدر بنایا تاکہ وہ نئے سرے سے لوگوں کو متحرک کرسکیں لیکن پھر ان پر عدم اعتماد کرتے ہوئے ان کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے استعفی دینے کا حکم کردیا۔
جیل میں بیٹھے عمران خان صاحب اپنے طورپر شاید درست سوچتے ہوں لیکن یہ سوچ انسانی نفسیات کے خلاف ہے۔جب آپ کسی شخص کو عہدہ یا ذمہ داری دیتے ہیں تو اس میں اعتماد آتا ہے۔وفاداری آجاتی ہے لیکن جب اچانک اس کے پاؤں کے نیچے سے قالین کھینچ لیا جاتا ہے تو کارکنوں میں اس کو اپنی توہین محسوس ہوتی ہے۔یہی کچھ اس وقت پی ٹی آئی میں اندھا دھند چل رہا ہے۔کسی کو کسی پر بھی اعتبار نہیں۔ عمران خان صاحب نے پارٹی کا سٹرکچر ہی ایسا بنایا ہے کہ وہ خود اختیارات کا ’’گھنٹہ گھر‘‘ بنے رہیں۔ہر کوئی پارٹی میں ان کا محتاج رہے۔اختیارات کی یہ مرکزیت کسی کو بھی کام نہیں کرنے دیتی۔نہیں یقین تو گزشتہ دوسال میں پی ٹی آئی میں عہدوں کی تقسیم اور لوگوں کو نکالا جانادیکھ لیں۔نتیجہ یہ ہے کہ عمران خان صاحب کو خود وہی بات کرنی پڑرہی ہے جو ہم ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ اس پارٹی کے پاس کوئی لائحہ عمل ہی نہیں ہے ۔جو باہر ہیں وہ چاہتے ہیں کہ جو اندر ہیں وہ اندر ہی رہیں تاکہ اسی طرح گلشن کا کاروبار چلتا رہے لیکن جو اندر ہے وہ بے چین ہے کہ پارٹی ا س کو باہر نکالے گی ۔
عمران خان صاحب جیل سے باہر نکلنا چاہتے ہیں کہ لیکن ان کا ایک مسئلہ ہے وہ چاہتے ہیں کہ ان پر ڈیل کرکے جیل سے باہر آنے کا الزام نہ لگے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ بھلے وہ کریں ڈیل لیکن لگے انقلاب۔یعنی وہ کسی سمجھوتے ،ایم او یو یا ڈیل کے نتیجے میں باہر آئیں لیکن ایسا لگے کہ وہ سب کو شکست دے کر باہر نکلے ہیں ۔اب دوسرا گھر کہتا ہے کہ ایسی کوئی ڈیل ابھی ایجاد نہیں ہوئی اس لیے ڈیل ہے تو پھر ڈیل ہی ہوگی اور ڈیل ہی کہلائے گی ۔اب یہ ڈیل کا لفظ خان صاحب کو پسند نہیں ہے کیونکہ وہ خود اپنے مخالف میاں نوازشریف پر ڈیل کا الزام لگاکر ان کی تضحیک کرتے آئے ہیں اب خود کوئی ایسا کام کرنے سے ڈررہے ہیں لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہ وہ ساری عمرکوئی جیل میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔
ایک خامی یہ بھی ہے کہ عمران خان صرف فوج سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ دروازہ مکمل بند ہے۔اس دروازے پر دستک دینے والے دستک دے دے کر تھک گئے ہیں لیکن اندر سے ایک ہی آواز آتی ہے کہ سیاسی بات کرنی ہے تو سیاستدانوں سے کریں ۔مذاکرات کرنے ہیں تو حکومت سے کریں۔اور حقیقت میں بھی یہی وہ راستہ ہے جس کے نتیجے میں اگر عمران خان کی رہائی ہوتی ہے تو ان پر ڈیل کا الزام نہیں لگے گا۔سیاستدان حکومت سے مل کر کوئی راستہ بنالیں گے تو سیاسی فیصلہ ہوگا لیکن اگر عمران خان صاحب صرف اسٹیبلشمنٹ سے بات کرکے باہر آئے تو بات چیت جیسی بھی ہو،بھلے وہ غیر مشروط رہا ہوجائیں لیکن کہلائے گی وہ ڈیل ہی۔
خان صاحب کی تازہ خواہش پھر وہی ہے کہ پارٹی احتجاجی تحریک چلائے ۔ان کی خواہش بجا لیکن پاکستان کے زمینی حقائق اس خواہش کے سامنے دیوار بنے کھڑے ہیں۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔پہلی وجہ تو سیدھی ہے اس وقت حکومت اور مسلح افواج ہندوستان کو شکست دینے کے بعد شکرانے کے فیز میں ہے اور پوری قوم اس معرکے میں ان کے ساتھ کھڑی ہے ایسے میں دوبارہ تقسیم اور احتجاج کی سیاست فوری طورپر ممکن نہیں ہے۔دوسری وجہ حکومت پُراعتماد ہے کہ پی ٹی آئی کے کسی بھی احتجاج کو وہ روکنے کی صلاحیت حاصل کرچکی ہے اس لیے اس طرح کی احتجاجی تحریک اس کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔تیسری وجہ شدید موسم ہے ۔خان صاحب شاید نہیں جانتے کہ پاکستان میں اس وقت شدید گرمی کا موسم ہے اس موسم بھی احتجاجی تحریک تو دور کارنر میٹنگ بھی کوئی نہیں رکھتا کہ اتنی گرمی میں لوگ باہر نہیں نکلتے۔گرمی ختم ہونے کی طرف جائے گی تو برسات اور حبس کا موسم شروع ہوجائے گا ۔یہ موسم بھی باہرنکلنے کے لیے سازگار نہیں ہوتا۔احتجاجی تحریکوں کے لیے اکتوبر نومبر کا انتظار کیا جاتا ہے اس سے پہلے عوامی احتجاج ممکن نہیں ہوگاہاں اگر پہلے کی طرح سوشل میڈیا پر ہی نعرے بازی کرنی ہے تو سو بسم اللہ۔لیکن اصل سوال علیمہ بی بی نے پوچھا ہے کہ ’’وہ‘‘ میرے بھائی سے کیا چاہتے ہیں؟ علیمہ صاحبہ اس سوال کا جواب ڈی جی آئی ایس پی آر پریس کانفرنس میں کھلے الفاظ میں دے چکے ہیں کہ ’’ان کو صدق دل سے نومئی کی معافی مانگنی ہوگی،انتشار کی سیاست سے توبہ کرنی ہوگی‘‘ یہی ان کی رہائی کا نسخہ اور فارمولہ ہے۔عمران خان صاحب کو اپنی ضد اور اناپیچھے کرتے ہوئے نومئی پر معافی مانگ کر آگے بڑھنے کا راستہ بنانا چاہئے تاکہ کارکنوں کی مشکلات بھی ختم ہوں۔

ٹیگز: