اپنی سوچ بدلیں…

09:17 AM, 30 Oct, 2025

ایک باپ کی دو بیٹیاں تھیں دونوں ہی اپنے والد سے بہت پیارکرتی تھیں بدلے میں بابل بھی واری واری جاتا تھا ایک دن والد نے اپنی ایک بیٹی سے سوال کیا کہ تم کس کا کھاتی ہو تو اس نے جواب دیا آپ کا جب دوسری سے یہی سوال کیا تو اس نے کہا کہ میں اپنا نصیب کھاتی ہوں یہ بات باپ کو ناگوار گزری اور اس نے جس بیٹی نے کہا تھا کہ آپ کا کھاتی ہوں کو گلے لگالیا اورجس نے کہا تھا اپنے نصیب کھاتی ہوں تو اسے ایک بہت ہی ماڑے گھر میں بیاہ دیا کہ جہاں ایک وقت کی روٹی بھی مشکل سے ملتی تھی جب اس لڑکی کی شادی ہوئی تو اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ آپ نے خالی ہاتھ گھر نہیں آنا کہا جاتا ہے کہ ایک روزلڑکی کے شوہرکو کوئی کام نہ ملا تو گھر جاتے ہوئے راستے میں ایک مرا ہوا سانپ تھا کو ہی اٹھا لیا جب گھر پہنچا تو بیوی نے کہا کہ یہ کیا لے آئے ہو تووہ بولا کہ آپ نے خود ہی کہا تھا کہ گھر خالی ہاتھ نہیں آنا تو اس لئے آج میں جو ملا لے آیا ہوں یہ بات سن کر بیوی نے کہا کہ چلو کوئی بات نہیں سانپ کو چھت پر رکھ دو خاوند نے ایسا ہی کیا کہا جاتا ہے کہ ایک روز چھت پر سے ایک باز گزر رہا تھاجس کے منہ میں ہیروں کا ہار تھا اس نے جب سانپ کو دیکھا تو اٹھانے کیلئے لپکا اور جب سانپ اٹھانے کیلئے لپکا تو اس کے منہ سے ہیرے کا ہار گر گیا ایک دن دونوں میاں بیوی چھت پر گئے ہیروں کا ہار پڑا تھا جسے فروخت کرکے وہ مالا مال ہو گئے پھر ایک روز انہوں نے چند لوگوں کی دعوت کی جس میں لڑکی کا باپ بھی شامل تھا دونوں میاں بیوی نے سونے کے برتنوں میں کھانا صرف کیا اورکہاکہ جاتے ہوئے برتن بھی ساتھ لے جائیں جب لڑکی کے باپ کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ بہت حیران ہوا کہ یہ کیسے ہو گیا میں نے کنگلے کے ساتھ اس کی شادی کی تھی پھر لڑکی نے اپنے باپ کو کہا کہ اب بتائو کہ میں آپ کا کھاتی ہوں یا اپنے نصیب کا؟ ناشکری انسان کو ہمیشہ پریشانی میں مبتلا رکھتی ہے ہر شخص کے پاس نعمتیں ہوتی ہیں، کوئی فیکٹری کا مالک ہوتا ہے تو کوئی ملازم،سب کو سب کچھ مل جائے یہ ضروری نہیں،شکر گزار بندہ ہمیشہ پرسکون رہتا ہے جبکہ ناشکرا انسان ہمیشہ پریشانی میں مبتلا رہتا ہے، انسان کو نہیں معلوم کہ اس کے مقدر میں کتنا رزق ہے مگر رزق کے حصول کی کوشش کرنا اچھی بات ہے ہربندہ اپنے اپنے نصیب کا کھاتا ہے حضرت علی ؓسے ایمان کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا ایمان چار ستونوں پر قائم ہے صبر ,یقین ,عدل اور جہاد .پھرصبر کی چار شاخیں ہیں .اشتیاق خوف دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار اس لیے کہ جو جنت کا مشتاق ہو گا ,وہ خواہشوں کو بھلا دے گا اور جو دوزخ سے خوف کھائے گا وہ محرمات سے کنارہ کشی کرے گا اور جو دنیا سے بے اعتنائی اختیار کر ے گا وہ مصیبتوں کو سہل سمجھے گا اور جسے موت کا انتظار ہو گا وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا، آج ہم جس دور میں گزر رہے ہیں کوئی دن اچھا نہیں گزر رہا کیونکہ ہم ناشکرے ہیں اس ملک کوبنے ہوئے تقریباً 78 سال ہونے کو ہیں ہمارا آنے والا ہر کل سیاسی، معاشی طور پر خراب ہوتا جارہا ہے حقیقت یہ ہے د نیا کا کوئی دوسرا ملک ایسا نہیں ہے جس میں ضروریات زندگی کی تمام چیزیں موجود ہوں جو ہمارے پاس ہیں ہمارے پاس چار موسم ہیں جو کہیں نہیں پھر بھی ہم مر گئے مر گئے کرتے رہتے ہیں کرتے کچھ نہیں اور الزام حالات کو دیتے رہتے ہیں،نظام کیوں نہیں بدلا جاتا؟ آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں ایک دوسرے کو طعنے دیتے رہتے ہیں اس کی جگہ دوسرا آجاتا ہے اس نظام کو دیکھ لیں جو کچھ ہو رہا ہے مہنگائی ہے لوگ مر رہے ہیںخودکشیاں کررہے ہیں اولادیں بیچ رہے ہیں چاہتے ہیںسارا ملک سدھر جائے لیکن ہم خود سدھرنا نہیں چاہتے دوسروں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں اپنی نہیں؟ہر وقت حالات کا رونا روتے رہتے ہیں خود کوئی کوشش نہیں کرتے کہ حالات بدل جائیں تب تمہار ے حالات بدلیں گے جب تم اپنے آپ کو بدلو گے جب اس میں تم بہتری لاؤ گے تمہارے حالات میں بہتری لے آئیں گے اور یہ بڑا عجیب طوفان آیا ہوا ہے ہمارے ملک میں کہ پوری قوم کی اصلاح کر دو یہی کامیابی کی کنجی ہے ہم گھر بیٹھے شارٹ کٹ کے چکر میں رہتے ہیں جو تباہی کی طرف لے جاتا ہے شروع میں دی گئی مثل کا مقصد لوگوں کو بتانا ہے کہ نیت درست ہو تو اللہ غیب سے مدد فرماتا ہے اور اگر نیت ٹھیک نہ ہو تو مالک کل بھی ناراض ہو جاتا ہے اوراللہ کی ناراضگی بندے کو دو کوڑی کا بنا دیتی ہے جو نصیب میں لکھا ہے وہ مل کر رہے گا لیکن ضروری ہے کہ کچھ کریں چاہے مرا ہوا سانپ ہی مل جائے گھر لے آئیں پھر دیکھیں اللہ کیسے مہربان ہوتا ہے اس لئے اپنی سوچ کو بدلیں؟آخر میں بس اتنا ہی کہ
نہ کر نصیب سے اتنا گلا اے انسان جب 
خدا راضی ہوتا ہے تو ہر چیز مل جاتی ہے

مزیدخبریں