حضرت علیؓ کا قول ہے کہ خون کو خون سے دھویا نہیں جا سکتا۔پنجاب میں قائم کیے گئے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کا مقصد یہ تھا کہ بڑھتے ہوئے جرائم کو روکا جائے، گینگ وار، قتل و اغوا اور دہشت گردی جیسے سنگین جرائم کا خاتمہ کیا جائے۔ حکومت نے اسے ایک جدید اور پیشہ ورانہ ادارے کے طور پر پیش کیا جو برق رفتاری سے مجرموں کو گرفتار کرے اور امن بحال کرے۔ لیکن چند ماہ کے اندر ہی یہ سوال شدت اختیار کر گیا کہ کیا واقعی امن قائم ہوا یا صرف خوف کی فضا پیدا کی گئی؟ سی سی ڈی کے قیام کے بعد حکومتی دعووں کے مطابق پنجاب میں سنگین جرائم میں 40 سے 70 فیصد تک کمی آئی ہے۔ اعداد و شمار میں بظاہر قتل، ڈکیتی اور اغوا کے واقعات کم دکھائی دیتے ہیں، لیکن اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔ قتل گو کم ضرور ہوئے مگر پولیس مقابلوں اور سی سی ڈی کی کارروائیوں میں ہونے والی ہلاکتیں بڑھ گئیں۔ پہلے جب کوئی شخص قتل ہوتا تھا تو وہ کسی ذاتی دشمنی، زمین کے جھگڑے، خاندانی تنازع یا واردات میں مارا جاتا تھا۔ مگر اب وہی لاشیں ریاستی کارروائی کے نام پر گری ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ قاتل اب کوئی ذاتی دشمن نہیں بلکہ وردی پہنے اہلکار ہے۔ مجموعی اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب میں انسانی جانوں کا زیاں کم ہونے کے بجائے بڑھا ہے۔
سی سی ڈی کے حامی کہتے ہیں کہ جرائم پیشہ لوگ خوف میں آ گئے ہیں، مگر یہ خوف اگر قانون کے دائرے سے باہر پیدا ہو تو وہ انصاف نہیں کہلا سکتا۔ پولیس کا کام جرم روکنا ہے، سزا دینا نہیں، سزا صرف عدالت کا اختیار ہے۔ لیکن سی سی ڈی کے تحت پولیس کو ایسی آزادی دے دی گئی کہ جرائم کے خاتمے کے نام پر سیکڑوں شہری ماورائے عدالت ہلاک ہوئے۔ ان میں سے کئی کیس ایسے بھی سامنے آئے جن میں مبینہ مقابلے کے بعد مارے گئے افراد کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے پیارے گرفتار تھے اور بعد میں جعلی مقابلے میں قتل کر دئیے گئے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب قانون، انصاف اور ریاستی طاقت کے درمیان لکیر مٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اگر پولیس ہی فیصلہ کرے کہ کون زندہ رہے اور کون مرے، تو پھر عدالتوں کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ یہ سوال آج سب سے اہم ہے کہ سی سی ڈیکی کارروائیوں سے دشمنیاں کم ہوئیں یا بڑھ گئیں؟ بظاہر کچھ پرانی دشمنیاں ختم ضرور ہوئیں کیونکہ کئی جرائم پیشہ افراد مارے گئے اور انتقام کی زنجیر وقتی طور پر ٹوٹ گئی۔ لیکن حقیقت میں اس سے نئی دشمنیاں پیدا ہوئیں۔ جن خاندانوں کے افراد پولیس مقابلوں میں مارے گئے، ان کے نزدیک یہ انصاف نہیں بلکہ ظلم تھا۔ یہی وہ خطرناک کیفیت ہے جہاں ذاتی دشمنی ریاستی دشمنی میں بدلنے لگتی ہے۔ اگر ایک ماں کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کا بیٹا عدالت میں صفائی کا موقع پائے بغیر مارا گیا، تو اس کے دل میں امن نہیں، بدلے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یوں سی سی ڈیکے سخت اقدامات نے وقتی طور پر خوف ضرور پھیلایا، مگر معاشرتی نفرت اور دوریاں بڑھا دیں۔ جہاں انصاف کے دروازے بند ہوں، وہاں دشمنیاں ختم نہیں ہوتیں، صرف شکل بدل لیتی ہیں۔
خواجہ آصف نے بہت سنجیدہ الزام لگایا تھا کہ بیوروکریسی کی جائیدادیں پُرتگال میں ہیں۔ وزیر دفاع سینئر ترین سیاستدان اور ذمہ دار آدمی ہیں، کیا کسی نے نوٹس لیا؟ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے طنزیہ بیان دیا کہ دشمن دار صلح کر لیں یا دبئی چلے جائیں تو پھر کرپٹ بیوروکریسی بھی قوم کے ساتھ صلح کر لے اور بیرون ملک منتقل کی ہوئی دولت قوم کو واپس کر دے یا پرتگال چلی جائے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت دئیے گئے بیان کی کوئی وقعت نہیں اگر اس کی عدالتی طریقہ کار کے مطابق تصدیق نہ ہو جائے یا ثابت نہ ہو جائے مگر یہاں بیان پر جرح یا تفتیش کجا سیدھا فیصلہ اور عمل درآمد ہو جاتا ہے، وہ بھی زندگی کے خاتمہ جیسا سخت فیصلہ۔ پوری دنیا کے کسی غیر مہذب ملک میں بھی شاید ہی ایسا کوئی ادارہ ہو جو صرف بندے مارنے کے لیے قائم کیا گیا ہو۔ وحشت، دہشت اور خوف کا ماحول کبھی تحفظ فراہم نہیں کرتا۔ اگر ویسے ایک سال میں چار یا پانچ سو قتل ہوتے تو کمی آتی مگر جو قتل سی سی ڈی نے کیے، جن کی تعداد سیکڑوں میں ہے، ملا لیا جائے تو معاملہ پہلے سے کہیں بڑھ جاتا ہے۔ ایک دوست کہنے لگے کہ سی سی ڈی نے ابھی تک کوئی امام مسجد یا متقی آدمی کو تو نہیں مارا۔ میں نے کہا، دشمن دار کون سے ہر وقت آیت کریمہ پڑھتے ہیں؟ سوال تو یہ ہے کہ جرائم پیشہ آدمی کا قتل اور کاروباری معتبر دشمن دار کا قتل دشمنیاں ختم نہیں کرے گا، یہ قتل و غارتگری کو 10 گنا زیادہ کرے گا۔ سرکاری ادارے فریق بن جائیں تو فرد اور ریاست کا معاہدہ کمزور پڑ جاتا ہے جو ابتری اور لاقانونیت کو بڑھاوا دیتا ہے۔ ایک طرف دشمن دار دوسری طرف اجرتی قاتل یہ معاملہ برابر نہیں ہوتا، ”جنگل کا قانون“ محاورہ ہے ورنہ تو جنگل بہت بہتر ہے۔ 70 سالہ شخص کو آج تک سزائے موت نہیں ہوئی اور اب پولیس مقابلے میں مار دیا گیا ہے۔ دشمنیاں ختم کرنے کا دعویٰ دشمنی کی آگ حکمران خاندان تک لے جائے گا مگر سوچ دانش سے تعلق رکھتی ہے فوٹو سیشن سے نہیں۔
ریاست کا سب سے بڑا دعویٰ یہی ہوتا ہے کہ وہ قانون کی عملداری قائم کرے گی، مگر جب ریاست خود قانون کے اوپر کھڑی ہو جائے تو قانون کی روح مر جاتی ہے۔ سی سی ڈی کے ماورائے عدالت اقدامات نے یہی تاثر پیدا کیا ہے کہ قانون اب کمزور ہے اور طاقت انصاف کی جگہ لے چکی ہے۔ پولیس مقابلے وقتی طور پر جرائم گھٹا سکتے ہیں، مگر وہ نظام انصاف کو کمزور کر دیتے ہیں۔ امن کی سب سے خطرناک شکل وہ ہوتی ہے جو خوف کے سائے میں قائم ہو۔ آج پنجاب میں لوگ شاید ڈکیتوں سے کم اور پولیس مقابلوں سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔ جرائم پیشہ عناصر تو ایک طرف عام شہری بھی اپنی حفاظت کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔ یہ وہ امن نہیں جو قانون سے پیدا ہوتا ہے، یہ وہ خاموشی ہے جو خوف سے جنم لیتی ہے۔ امن صرف تب قائم ہوتا ہے جب قانون سب کے لیے برابر ہو۔ اگر سی سی ڈی یا کوئی بھی ادارہ قانون سے اوپر سمجھا جائے تو وہ امن نہیں بلکہ ریاستی خوف پیدا کرتا ہے۔ پنجاب میں آج بظاہر ”سکون“ ہے، مگر اس سکون کی بنیاد خوف پر ہے، انصاف پر نہیں اور تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جو امن خوف سے قائم ہوتا ہے، وہ دیر پا نہیں ہوتا۔ اگر ریاست تحفظ نہ دے گی تو کچے کے ڈاکو تحفظ دیں گے؟۔
امن نہیں، خوف کا راج
09:06 AM, 1 Nov, 2025