آج اگر کملا ہیرس امریکہ کی صدر نہیں ہیں تو اس میں ایک اہم کردار پاکستان کی اس جماعت کا بھی ہے جس کے کارکنوں نے انھیں شکست سے دوچار کرنے کے لیے سر توڑ کوششیں کیں۔ اس جماعت کے حامیوں نے امریکہ کے اندر لاکھوں ڈالر خرچ کر کے کملا کے مخالف امیدوار اور موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں لابنگ کی۔ مقصد صرف ایک تھا کہ ٹرمپ آئے گا اور ہمارے قیدی کو چھڑا لے جائے گا۔ ا±ن دنوں ٹرمپ کا حامی پاکستانی طبقہ یہ کہتا نہیں تھکتا تھا کہ وہ ایک شاندار آدمی ہیں حالانکہ اس وقت ٹرمپ کو کئی طرح مقدمات کا سامنا تھا اور کچھ میں تو انہیں سزا بھی ہو چکی تھی لیکن حامی طبقے کا موقف تھا کہ جیسے پاکستانی عدالتیں سیاسی فیصلے دیتی ہیں اسی طرح امریکی عدالتیں بھی ٹرمپ کے خلاف سیاسی فیصلے دے رہی ہیں ورنہ ٹرمپ اتنے برے بھی نہیں ہیں۔ اب وہی طبقہ اپنی خواہش کی عدم تکمیل پر ٹرمپ کا سب سے بڑا ناقد ہے۔
خیر ٹرمپ اچھے آدمی ہیں یا برے یہ بات اتنی اہم نہیں جتنی اہم یہ بات ہے کہ وہ اپنے ملک کے کتنے اچھے صدر ہیں۔ انہوں نے اپنے پہلے دور میں بھی "امریکہ امریکیوں کے لیے" کا نعرہ لگایا تھا جو بہت مقبول ہوا اور ان کی جیت پر منتج ہوا اور اس کے بعد انہوں نے اپنے نعرے پر عمل درآمد کرنے کے لیے بہت سے اقدامات بھی کیے تاہم اس کے باوجود وہ اپنے پہلے دور کے اختتام تک ایک متنازع شخصیت بن چکے تھے جس کے نتیجے میں انھیں اگلے انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی شکست پر ان کا رد عمل بھی کچھ مناسب نہیں تھا۔ اسی ردعمل کے باعث ٹرمپ کو اگلے برسوں میں عدالتوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کیپیٹل ہل پر حملے کو ان کے اس وقت کے حامیوں نے انقلاب سے تشبیہ دی تھی۔
اپنے دوسرے دور میں بھی ٹرمپ غیر قانونی تارکین وطن کو نکالنے بیرونی ممالک سے تجارت بڑھانے اور دنیا بھر میں جنگیں رکوانے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ یہ تمام اقدامات یقینا امریکہ کو بہتر بنانے ہی کے لیے ہیں اور ممکن ہے کہ تاریخ اسی بنیاد پر ٹرمپ کا شمار کسی موڑ پر امریکہ کے بہترین صدور میں بھی کر دے لیکن یہ فیصلہ وقت کرے گا۔ مگر ٹرمپ کو شاید بہت جلدی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ تاریخ جلد از جلد ان کے حق میں فیصلہ سنا دے۔ اسی لیے تو وہ خود کو نوبل انعام کا حقدار قرار دیتے بھی نظر آتے ہیں اور امریکہ کا بہترین صدر کہتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے جارج واشنگٹن اور ابراہم لنکن کے بعد خود کو تیسرا بہترین امریکی صدر قرار دیئے جانے کا بھی برا مانا اور کہا کہ ان دونوں عظیم صدور نے تو آٹھ جنگیں نہیں رکوائی تھیں چنانچہ مجھے ان دونوں سے بھی بہتر سمجھا جائے۔
اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ ٹرمپ کی تمام تر تگ وتار خود کو ایک شاندار آدمی ثابت کرنے کے لیے ہے لیکن شومیءقسمت کہ کوئی بھی امریکی یا غیر امریکی اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ یہاں تک کہ ان کا حامی پاکستانی طبقہ جو پہلے کبھی ان کے قصیدے پڑھتا نہیں تھکتا تھا اب انہیں برا بھلا کہنے لگا ہے۔ خاص طور پر جب سے ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم اور سپہ سالار کی تعریفیں کرنا شروع کر رکھی ہیں اس وقت سے تو یہ طبقہ ٹرمپ کا باقاعدہ ناقد بلکہ مخالف بن چکا ہے۔
ایک طرف یہ حالت ہے کہ ٹرمپ شاندار آدمی بننے کے تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک خود کو شاندار کہلوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور دوسری طرف قدرت نے اسی ٹرمپ سے پاکستان کی دنیا میں عزت و توقیر بڑھانے کا کام لینا شروع کر دیا ہے۔ امریکی صدر دنیا میں جہاں بھی جاتے ہیں اور جس فورم پر بھی بات کرتے ہیں، پاکستان کا ذکر کرنا نہیں بھولتے۔ ایسے لگتا ہے کہ وہ امریکہ کے صدر نہیں بلکہ پاکستان کے وزیر خارجہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ٹرمپ اب تک پاکستان اور اس کی قومی قیادت کی تعریفوں کا "چلہ" مکمل کر چکے ہیں یعنی چالیس سے زیادہ بار یہ بات مختلف عالمی فورمز پر دہرا چکے ہیں۔ آسیان ملکوں کا حالیہ دورہ اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔
صدر ٹرمپ آٹھ جنگیں رکوانے کی بات تو کرتے ہیں لیکن تفصیلی ذکر صرف ایک ہی جنگ کا کرتے ہیں جو مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوئی۔ اس جنگ کا ذکر کرتے ہوئے وہ پوری دنیا کو بتاتے ہیں کہ پاکستان نے بھارت کے سات نئے نکور طیارے تباہ کر دیئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دعویٰ پاکستان نے ابھی تک خود بھی نہیں کیا۔ پاکستان کا دعویٰ تو شروع ہی سے چھے صفر کا رہا ہے۔ یعنی ہم نے مجموعی طور پر چھے جہاز گرائے جن میں سے تین نئے رافیل طیارے تھے جبکہ تین پرانے جہاز تھے۔ اس طرح ٹرمپ طیاروں کی تعداد بڑھا کر اور ان کی حالت کو بہتر بیان کر کے دراصل پاکستان سے بڑھ کر پاکستان کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ طیاروں کو مار گرانے کا ذکر کرنے کے بعد صدر ٹرمپ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کرنا بھی نہیں بھولتے۔ وہ بہت عقیدت بھرے لہجے میں پوری تفصیل کے ساتھ یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل شاندار آدمی ہیں۔ وزیر اعظم کو اس لیے اچھا کہتے ہیں کہ وہ ان کی سفارتی مہارت اور دوستانہ انداز سے متاثر ہیں جبکہ فیلڈ مارشل کو اس لیے پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ بہت اچھے جنگجو ہیں۔ پاکستان معرکہ حق میں فتح کو اگر دنیا میں خود مشتہر کرتا تو شاید وہ نتائج حاصل نہ کر پاتا جو اسے صدر ٹرمپ کی طرف سے ہونے والی مفت کی تشہیر سے حاصل ہو رہے ہیں۔ اس کی پوری دنیا میں دھاک بیٹھ رہی ہے جبکہ بھارت کی ذلت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ایسا کرنا بے وجہ نہیں ہے، اس کے پیچھے ضرور ان کے کچھ مخفی مقاصد بھی کارفرما ہوں گے۔ ممکن ہے کہ لوگوں کی یہ تشویش درست ہو لیکن انھیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پاکستان کے آگے بڑھنے کا سفر کبھی نہیں رکا۔ اس نے ہر قسم کے ناسازگار حالات میں بھی اپنے مقاصد اور اہداف حاصل کیے ہیں، اس لیے شکوک و شبہات کا شکار ہونے کی بجائے ہمیں فی الحال صورت حال سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔
بات ہو رہی تھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تو پاکستان کے لیے ان کی حالیہ خدمات اور ہمارے وزیر اعظم اور سپہ سالار کو تسلسل کے ساتھ شاندار آدمی قرار دینے سے وہ کسی مخصوص سیاسی جماعت کے لیے بھلے پسندیدہ نہ رہے ہوں مگر پاکستان کے لیے انھوں نے خود کو ضرور شاندار آدمی ثابت کیا ہے۔
تاہم ان کا یوں شاندار بننا امریکی مقتدرہ کو ایک آنکھ نہیں بھایا اور اس نے بھارت کے ساتھ دس سالہ دفاعی معاہدہ کر لیا ہے۔ اس معاہدے کی بنیاد پر مودی اور اس کی حکومت کے کرتا دھرتا ایک بار پھر بھارتی عوام میں خود کو شاندار آدمی ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔
شاندار آدمی
09:05 AM, 1 Nov, 2025