میدان سیاست کا ہو یا ثقافت کا، بڑھک جب بھی، جہاں بھی لگائی جائے گی بڑھک کے بادشاہ سلطان راہی ضرور یاد آئیں گے۔ ایشیا اور امریکہ میں بڑھک بازی اپنے عروج پر ہے۔ کہیں دوسروں کی حکومتیں ختم کرنے، انہیں نشان عبرت بنانے، حملے اور جوابی حملوں کی باتیں ہیں وہاں عالمی سیاسی شطرنج پر جاری کھیل اپنے آخری مراحل میں داخل ہوتا نظر آتا ہے۔ امریکی اور چینی صدر کی ملاقات کے بعد مختلف عالمی لیڈروں کی مزید ملاقاتوں کا امکان بڑھ گیا ہے۔ سیاسی ملاقاتوں اور مذاکرات سے ہی الجھے ہوئے بلکہ دیدہ دانستہ الجھائے گئے معاملات سلجھنے کی امید پیدا ہوتی ہے لیکن اس میں بنیادی شرط یہی ہوتی ہے کہ بڑھک بازی اور الزام تراشی کا دروازہ بند کر کے نرم لہجے میں گرم معاملات پر بات کی جائے، بصورت دیگر سمجھا جائے گا امن کی بات کرنے والے جنگ ہی چاہتے ہیں۔ امریکی صدر نے چودھویں مرتبہ کسی غیر ملک یا بین الاقوامی فورم پر جا کر پاکستان کی طرف سے بھارت کے سات طیارے گرانے کا ذکر کیا ہے۔ اس مرتبہ تو اس کامیابی میں مزید رنگ بھرنے کے لئے انہوں نے کچھ جملوں کا اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا پاکستان نے دیکھتے ہی دیکھتے بھارت کے بالکل نئے سات جہاز مار گرائے، ان کا دوسرا پسندیدہ موضوع دنیا میں جاری سات یا آٹھ جنگیں بند کرانا ہے جس کا وہ ہر موقع پر ذکر کرتے ہیں۔ اب تو یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے بھارت اور بھارتی وزیراعظم کو مسلسل چھیڑنے کے لئے یہ گُر پلے باندھ لیا ہے۔ دوسری طرف نریندرا مودی جوابی حملہ کرتے ہوئے امریکی قیادت کو زیادہ اور پاکستان کو قدرے کم سنانے کے لئے پاکستان پر حملے کی گردان کرتے رہتے ہیں۔ شیر آیا شیر آیا کا شور بے معنی نہیں ہے۔ شیر آسکتا ہے، شیر جب بھی آئے گا شکاری کو تیار پائے گا۔
سیاسی شطرنج پر پہلی چال چلتے ہوئے امریکی صدر نے اپنے حریف ممالک پر بھاری ٹیرف کا اعلان کیا۔ جوابی چال چلتے ہوئے چین نے اپنا مال متبادل مارکیٹوں میں فروخت کرنے کے انتظامات شروع کر دیئے۔ امریکہ نے سرمایہ داروں کو دیگر ممالک کی بجائے امریکہ کے اندر امریکی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے لئے مجبور کیا، کچھ ملک اس پر تیار ہو گئے لیکن ساتھ ہی شرط عائد کر دی گئی کہ سرمایہ کاری کہاں ہو گی، اس کا فیصلہ امریکہ کرے گا۔ امریکہ نے چین پر ٹیرف میں مزید اضافے کا اعلان کیا تو چین نے امریکہ سے دو بڑے شعبوں میں اپنی خریداری کے آرڈر منسوخ کر دیئے۔ چین ہر سال امریکہ سے دس ارب ڈالر کا سویابین خریدتا جس میں ہر برس اضافہ ہو رہا تھا۔ بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے امریکی زمینداروں نے سویابین کی کاشت بڑھا دی۔ امریکی حکومت نے بھی انہیں خوب سہولتیں دیں جس کے نتیجے میں جاری برس میں سویابین کی بمپر فصل حاصل ہوئی۔ سویابین تجارت سے منسلک امریکی خوشی کے گیت گاتے نہ تھکتے تھے کہ وہ ڈالروں میں کھیلیں گے، ڈالروں میں نہائیں گے، ڈالر سینکیں گے اور ڈالر لٹائیں گے، ان کے خوابوں خیالوں اور امیدوں پر اس وقت اوس پڑ گئی جب چین نے سویابین خریدنے سے انکار کر دیا۔ امریکہ میں سویابین کی فصل اسی انجام کو پہنچی جو انجام پاکستان میں گندم کا ہوا۔ امریکہ میں سویابین کے زخموں سے خون رس رہا ہے۔ امریکی تاجروں کو اربوں ڈالر منافع ہونے کی بجائے اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ ٹیرف میں اضافے سے روزمرہ استعمال کی اشیاءبالخصوص گارمنٹس الیکٹرانک، آئی ٹی مصنوعات پر ضرب لگی۔ امریکی تاجر بلبلا اٹھے، صارفین کی تکلیف بھی کچھ کم نہ تھی پس تاجروں اور صارفین کے مشترکہ درد نے امریکیوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا۔ امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس کی پچاس ریاستوں میں ستر لاکھ افراد احتجاج کرتے نظر آئے، ان کے نعروں میں ان کی تکلیف اور درد جھلکتا تھا۔ وہ چیخنے چلاتے تھے۔ ہمیں بادشاہ نہیں چاہئے، ہمارا گلا نہ گھونٹا جائے، ٹیرف جنگ ختم کی جائے۔ مخالفانہ احتجاج کو اہمیت نہ دی گئی، سوچ یہ تھی کہ چند روز میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لہٰذا ٹیرف پر نظرثانی کی بجائے دنیا کے دیگر ممالک سے کہا گیا کہ وہ چین سے دوری اختیار کریں اور امریکی سوچ کے مطابق پیغام دیا گیا جو چین کے ساتھ ہو گا۔ اسے امریکہ مخالف سمجھا جائے گا، بعض ممالک سے ریئر ارتھ منرلز معاہدوں میں طاقت کا استعمال نظر آیا اور بلیک میلنگ کا شائبہ ہوا تو چین نے اعلان کر دیا وہ کسی دوسرے ملک کے لئے ریئر ارتھ منرلز کی پراسسنگ نہیں کرے گا۔ اس صنعت میں چین کی اسی طرح انفرادیت ہے جیسے تیل کی تلاش کے شعبے میں امریکہ دنیا سے کچھ آگے ہے۔ امریکہ نے نیا وار کیا اور چین و بھارت کے لئے روسی تیل فروخت کرنے والی کمپنیوں پر پابندی لگا دی۔ دونوں ملکوں نے اس وار کو ناکام بنانے کے لئے ان روسی کمپنیوں سے تیل کی خریداری بڑھا دی جن پر پابندیاں نہیں تھیں۔ چین اور بھارت پر ناک سیدھے ہاتھ سے پکڑنے پر پابندی لگی تو انہوں نے ناک الٹے ہاتھ سے پکڑ لی، دوسری طرف وینزویلا نے دنیا کو تمام ممالک کو ارزاں قیمت پر تیل فروخت کرنے کی پیشکش کر دی۔ تیل کا تازیانہ یوں بھی کام نہ کر سکا کہ روس نے زیر سمندر بچھی پائپ لائن کے ذریعے تیل کی فروخت بڑھانے کا فیصلہ کر لیا جسے روکنا امریکہ کے بس کی بات نہیں۔ آخری وار ناکام ہوا تو پھر وہ کچھ کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے لئے امریکہ کے لئے ناپسندیدگی کے جذبات دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وینزویلا کے صدر کی جان لینے کی کوششیں کی گئی ہیں، اس حوالے سے تمام انتظامات مکمل تھے لیکن صرف ایک شخص کی حب الوطنی اور دیانت داری سے یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ یہ دیانت دار شخص وینزویلا کے صدر نکولس مادورو موروس کا ذاتی چیف پائلٹ تھا جسے لاکھوں ڈالر رشوت، امریکی شہریت و دیگر اعزازات کا لالچ دے کر خریدنے کی کوششیں کی گئیں، انہیں کہا گیا کہ وہ کسی بھی سفر کے دوران نہایت خاموشی سے صدر نکولس مادورو موروس کے جہاز کو کسی بھی امریکی ہوائی اڈے پر اتار دیں جہاں پروگرام کے مطابق انہیں گرفتار کر کے دہشت گرد ثابت کر کے صدام حسین سٹائل میں منظر سے ہٹانے کے انتظامات مکمل تھے، اسی اثنا وینزویلا میں رجیم چینج آپریشن کر کے امریکی پسند کے افراد کو حکومت میں لانے کے بعد وینزویلا کے تیل پر قبضے کے بعد دنیا کو اپنی پسند کے ریٹ پر تیل فروخت کرنا اور امریکہ کی تابعداری پر مجبور کرنا تھا۔ امریکہ کی طرف سے وینزویلا کے صدر پر منشیات سمگلنگ بزنس کا الزام دھرا جاتا ہے۔ امریکہ ایک منصوبے پر کام کرتا نظر آتا ہے جس کے مطابق ایشیا کے تین ملکوں میں رجیم چینج آپریشن پر کام جاری ہے، ہر جگہ طریقہ واردات مختلف ہو گا۔
ایک اور رجیم چینج آپریشن ناکام
09:10 AM, 31 Oct, 2025