راولپنڈی:سکیورٹی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کی جانب سے "سندور 2.0" سے متعلق حالیہ جارحانہ بیان بازی کا مقصد مودی سرکار کو درپیش سنگین اندرونی بحرانوں اور عالمی سطح پر گرتے ہوئے سفارتی گراف سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے۔ معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک عسکری ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد بھارتی اسٹیبلشمنٹ شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
دفاعی ذرائع کے مطابق، ایک طرف بین الاقوامی محاذ پر پاکستان کا تشخص تیزی سے ابھر رہا ہے، تو دوسری طرف بھارت کو پے در پے سفارتی ہزیمتیں اٹھانی پڑ رہی ہیں۔ اس خفت کو چھپانے کے لیے نئی دہلی کی جانب سے خطے میں ایک نیا سنسنی خیز ڈرامہ رچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جالندھر دھماکے کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا، پاکستان سے روابط کے جھوٹے الزامات کے تحت من گھڑت گرفتاریوں کے دعوے، اور اقوامِ متحدہ کے فورم پر پاکستان کے خلاف زہر اگلنا—یہ سب مودی سرکار کی سوچی سمجھی اسٹریٹجی کا حصہ ہے۔ بھارت اپنے داخلی خلفشار، گرتی ہوئی ساکھ اور سیکیورٹی فورسز کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ہمیشہ کی طرح روایتی پاکستان دشمنی کا سہارا لے رہا ہے۔