علمی بالادستی کی نئی سیاست

09:09 AM, 31 May, 2026


اکیسویں صدی کی عالمی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں طاقت کے روایتی پیمانے بتدریج اپنی سابقہ مرکزیت کھو رہے ہیں۔ ماضی میں کسی ریاست کی قوت کا اندازہ اس کے اسلحہ خزانوں، جنگی اتحادوں یا اقتصادی حجم سے لگایا جاتا تھا، مگر عصر حاضر میں علم، تحقیق، مصنوعی ذہانت، سائنسی اختراعات اور تکنیکی خود کفالت نئی عالمی برتری کی بنیادی علامتیں بنتی جارہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اب یونیورسٹیوں، تحقیقی مراکز اور سائنسی منصوبوں کو محض تعلیمی ادارے نہیں بلکہ قومی سلامتی کے اہم ستون تصور کرتی ہیں۔ اسی تناظر میں ایران کی تیزی سے ابھرتی ہوئی سائنسی قوت نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی فکری بحث کو جنم دیا ہے، جسے بعض حلقے ”علمی دوڑ“ قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض کے نزدیک یہ مستقبل کا ایک ممکنہ”تزویراتی خطرہ“ ہے۔
حالیہ برسوں میں عالمی تحقیقی جرائد اور ڈیٹا بیسز میں ایران کی موجودگی غیرمعمولی حد تک بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ طب، نینو ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، طبیعات، خلائی تحقیق اور سائبر سائنس جیسے شعبوں میں ایرانی جامعات اور محققین کی شائع شدہ تحقیقات نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ یہ پیش رفت محض اعداد و شمار کی زیادتی نہیں بلکہ اس امر کا اظہار ہے کہ ایران نے ریاستی سطح پر علم کو ایک طویل المدتی قومی سرمایہ سمجھتے ہوئے اس پر مسلسل سرمایہ کاری کی۔ خاص طور پر یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباو¿ اور مالی مشکلات کے باوجود تہران نے اپنی جامعات اور تحقیقی مراکز کی فعالیت کو برقرار رکھا، جو اس کے سائنسی وژن کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی فضا میں اس پیش رفت کے اثرات محض علمی نہیں رہے۔ اسرائیلی تجزیاتی حلقوں میں ایران کی تحقیقی ترقی کو اب ایک ایسے عنصر کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو خطے کے طاقت کے توازن کو متاثر کرسکتا ہے۔ جدید دور میں سائنس اور تزویرات کے درمیان حدِ فاصل تقریباً معدوم ہوچکی ہے۔ جو تحقیق آج کسی لیبارٹری میں نظریاتی تجربے کے طور پر سامنے آتی ہے، وہ کل دفاعی نظام، مصنوعی ذہانت، سائبر وارفیئر یا جدید صنعتی ٹیکنالوجی کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ایران کی سائنسی پیش رفت کو بعض مغربی اور اسرائیلی حلقے محض تعلیمی کامیابی کے بجائے ایک وسیع تر جغرافیائی و سیاسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جدید دنیا میں ”علم“ بذاتِ خود طاقت کی ایک نئی شکل بن چکا ہے۔ سرد جنگ کے دور میں جو حیثیت ایٹمی ہتھیاروں کو حاصل تھی، مستقبل میں ممکن ہے وہی مقام ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی تحقیق اور کوانٹم ٹیکنالوجی کو حاصل ہوجائے۔ اس تناظر میں اگر کوئی ریاست سائنسی میدان میں غیرمعمولی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہو تو عالمی طاقتیں فطری طور پر اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیتی ہیں۔ یہی صورتحال ایران کے معاملے میں بھی دیکھی جارہی ہے، جہاں تحقیقی سرگرمیوں کو دفاعی صلاحیتوں، میزائل پروگرام اور سائبر انفراسٹرکچر کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔
تاہم اس پورے مباحثے کا ایک اہم اخلاقی اور فکری پہلو بھی ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر سائنسی ترقی کو محض عسکری یا سیاسی عینک سے دیکھنا درست طرزِ فکر ہے؟ علم اپنی اصل میں غیرجانبدار اور آفاقی حقیقت رکھتا ہے۔ وہ انسانیت کی فلاح، بیماریوں کے علاج، ماحولیات کے تحفظ اور معیارِ زندگی میں بہتری کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ اگر ایک معاشرہ تحقیق اور جستجو کو فروغ دیتا ہے تو اس کے ثمرات پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے موجودہ عالمی نظام میں اعتماد کی کمی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہر نئی ایجاد اور ہر تحقیقی پیش رفت کو ممکنہ خطرے کے زاویے سے جانچا جاتا ہے۔
یہ رویہ صرف ایران یا اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاست کے مجموعی مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجیکل مسابقت، مصنوعی ذہانت پر عالمی کشمکش، سیمی کنڈکٹرز کی دوڑ اور خلائی تحقیق میں بڑھتی ہوئی رقابت اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دنیا ایک نئے “علمی سرد جنگ” کے دور میں داخل ہورہی ہے۔ اب جنگی محاذ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے بلکہ تحقیقی مراکز، ڈیجیٹل نیٹ ورکس اور سائنسی ادارے بھی طاقت کے عالمی کھیل کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔
ایران کی موجودہ سائنسی پیش رفت اسی وسیع تر عالمی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ پیش رفت اس امر کو بھی واضح کرتی ہے کہ “نرم طاقت” کی اہمیت مستقبل میں مزید بڑھنے والی ہے۔ جو قومیں تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کریں گی، وہی عالمی منظرنامے پر اثرانداز ہوسکیں گی۔ عسکری قوت وقتی دباو¿ پیدا کرسکتی ہے، مگر علمی برتری دیرپا اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں جامعات اور تحقیقی مراکز اب ریاستی وقار اور تزویراتی اہمیت کے حامل ادارے بن چکے ہیں۔آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ علم کو تصادم کے بجائے تعاون کا وسیلہ بنایا جائے۔ اگر سائنسی ترقی کو عالمی اشتراک، انسانی بہبود اور مشترکہ مستقبل سے جوڑا جائے تو یہی تحقیق دنیا میں امن، استحکام اور ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ لیکن اگر علم کو صرف سیاسی غلبے اور جغرافیائی بالادستی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا تو مستقبل کی کشیدگیاں مزید پیچیدہ ہوسکتی ہیں۔ بظاہر یہی وہ دور ہے جہاں قلم، لیبارٹری اور تحقیق گاہیں بھی عالمی سیاست کے نئے میدانِ کارزار میں تبدیل ہورہی ہیں، اور آنے والے برسوں میں شاید یہی علمی محاذ دنیا کی اصل طاقت کا تعین کریں گے۔ 

مزیدخبریں