ناجائز ریاست کو جائز بنانے کی کاوشیں ایک بار پھر شروع ہوگئی ہیں لیکن پاکستان کا جواب ہمیشہ کی طرح ایک ہی ہے کہ جب تک ناجائز اپنے آپ کو جائز ثابت نہیں کرلیتا اس وقت تک ہماری طرف سے نہ ہی ہوگی اور اس بار بھی انکار ہی کیا گیا لیکن ہمارے ہاں یاسیت کے ساتھ جنم لینے والے کچھ ”تُخم“ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ پاکستان بھی انکار کرسکتا ہے؟ ان کے نزدیک تو ایک ٹی وی اینکرکے شو میں ”ابسولوٹلی ناٹ“ کہنا براہ رست امریکی صدر کو ابسولوٹلی ناٹ کہنے سے بھی زیادہ بڑا اور معتبر ہے تو ایسے یاسیت جنموں کو کوئی کیا سمجھا سکتا ہے جن کی سوچ ایک شخص سے شروع ہوکر اسی جگہ ختم ہوجاتی ہوان کے نزدیک پاکستان کوئی چیز نہیں ۔ویسے ہے نہ مزے کی بات کہ میاں نوازشریف کو 1998میں امریکی صدر بل کلنٹن نے فون کرکے کہا کہ آپ پیسے لے لیں امداد لے لیں لیکن ایٹمی دھماکے نہ کریں تو نوازشریف نے ٹیلی فون پر سامنے سے ابسولوٹلی ناٹ کہا اور پاکستان کو ایٹمی قوت بناڈالا۔ یہ ہوتا ہے اصل انکار لیکن یاسیت جنمے کہتے ہیں کہ ٹیلی فون پر امریکی صدر کو انکار کرنا کون سی بڑی بات ہے اصل ابسولوٹلی ناٹ تو انٹرٹینمنٹ چینل ایچ بی او کے اینکر کو کہنا ہوتا ہے جو عمران خان صاحب نے کہا تھا ۔اب آپ اس پر کیا بحث کرسکتے ہیں ؟
اب یہ جائز اور ناجائزکی بحث اس وقت شروع ہوئی جب اچھے خاصے جنگ بندی کے معاہدے کے مذاکرات پر سب راضی ہوگئے اور امید کی جارہی تھی کہ ابتدائی معاہدہ ہوجائے گا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ”معاہدہ ابراہیمی“ کی تکرار سامنے آناشروع ہوگئی ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے عرب ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی اس معاہدے میں شامل ہونے کا ”نیوتا“ دینا شروع کیا تو پاکستان کی طرف سے جواب دے دیا گیا ۔جواب یہ تھا کہ اس وقت بات ایران امریکا کی جنگ بندی اور وسیع تر امن معاہدے کی ہورہی ہے وہ بات کرنی ہے تو پاکستان جی جان سے اپنا کام کررہا ہے لیکن اس معاہدے کی آڑ میں اسرائیل کو جائز بنوانے کی شرط رکھی جائے گی تو پھر یہ ثالثی والا کام بھی ختم ہی سمجھیں ۔یہ پیغام اور انکار اتنا سخت او دوٹوک تھا کہ امریکی صدر کو اس جنگ سے نکلنے کے لیے اسرائیل کو جائز بنوانے کا مشن بھی ترک کرنا پڑگیا۔لیکن یہ درمیان میں آیا کیسے؟
ایران امریکا معاہدے میں امریکا کو فتح کا تاثر مل رہا تھا اور جنگ سے نجات تو دوسری طرف ایران کو جارحیت سے بچت اور اپنی معیشت سدھارنے کے مواقع مل رہے تھے دونوں ممالک کو ہی کچھ نہ کچھ دے کر یہ معاہدہ کروایا جارہاتھا لیکن وہ قصائی جس نے یہ جنگ شروع کروائی اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں آرہا تھا بلکہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو بھی لگام ڈالنے کی راہ ہموار ہورہی تھی کہ ایران کے ساتھ لبنان کی جنگ بندی بھی مذاکرات میں شامل ہوسکتی تھی ایسے میں نیتن یاہو نے بھاگتے چور کی لنگوٹی لوٹنے کا منصوبہ ٹرمپ کے سامنے رکھ دیا۔ اسرائیل نے کہا کہ ایران سے معاہدے کے لیے مسلم ممالک کے سامنے معاہدہ ابراہیمی رکھ دیا جائے وہ جنگ سے نجا ت کے لیے مجبوری میں اس معاہدے کو مان لیں گے تو اسرائیل کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے ۔اس کو تجارت اور بزنس کے نام پر ان ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا موقع مل جائے گا جو ا س کوسرے سے ایک ریاست ہی نہیں مانتے ۔اور پھر پاکستان بھی اسرائیل کو تسلیم کرلے گا جو اس کی جنم جنم کی خواہش ہے اور وہ اس خواہش کے بدلے کچھ بھی کرسکتا ہے سوائے فلسطین کو تسلیم کیے۔
اب یہاں پھر سوال اٹھنے شروع ہوگئے کہ پاکستان کی قیادت تو غلا م ہے اور غلام کب انکار کرتے ہیں کیونکہ ان یاسیت جنموں کو یہ بھی خبط ہوچلا ہے کہ آزاد صرف وہی لوگ ہیں باقی سب غلام ہیں ۔میں نے اس موضوع پر ایک وی لاگ کیا اور پاکستا ن کا موقف سامنے رکھا کہ پاکستان انکار کرچکا ہے تو کچھ ہمار ے صحافی دوستوں کے ہی اس طرح کے کمنٹس آئے کہ پاکستا ن امریکا کو انکارکرہی نہیں سکتا ۔ میں نے جواب میں سوال کیا کہ کیا پاکستان نے اس پیشکش کو قبول کرکے معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کردیے ہیں؟ کیا اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے یا ا سکو تسلیم کرنے کی حامی بھرلی ہے؟ اس سوال کے جواب میں مکمل خاموشی ۔اصل بات ہی یہ ہے کہ صرف اپنے آپ کو ہی درست ،قابل اور محب وطن سمجھنے کی بیماری درآئی ہے ۔
اب آتے ہیں کہ پاکستان کیا اس معاہدے کو مان سکتا ہے؟ کیا پاکستان اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرسکتا ہے جیسے ہمارے ایک عرب اسلامی ملک نے قائم کررکھے ہیں ؟ اس کا جواب فوری طورپر ناں ہی ہے ۔پاکستان کا آج بھی موقف وہی ہے جو قائداعظم محمد علی جناح صاحب کا تھا ۔سن 2020میں ابراہم اکارڈ کی داغ بیل ڈالی گئی لیکن یہ بیل منڈھے نہ چڑھائی جاسکی کیونکہ ہر کوئی اسرائیل کے کالے ترین کرتوتوں سے آشنا ہے۔ہماری آنکھوں کے سامنے نہتے فلسطینی شہید ہوتے آرہے ہیں ۔اسرائیل کی سرحدیں وسیع تر ہوتی جارہی ہیں ایسے میں پاکستا ن سے کوئی یہ امید رکھے کہ پاکستان اپنا اصولی مو¿قف ترک کرکے ایک غلیظ ترین ریاست کو قبول کرسکتا ہے؟ایں خیال است ومحال است و جنوں ہی ہوسکتا ہے ۔
جب یہ معاہدہ پہلی مرتبہ پاکستان کے سامنے رکھا گیا اور جب جب رکھا گیا تو مثال اسی اسلامی ملک کی دی گئی کہ دیکھیں اس نے بھی تو مان لیا ہے اس کے تعلقات دیکھیں کس طرح ترقی ہورہی ہے ۔آپ بھی مان لیں ۔ سعودی عرب کو بھی قائل کرلیں لیکن ہماری طرف سے ہربار دو بنیادی شرائط رکھی گئیں ۔ نمبر ایک: اگر اسرائیل کو تسلیم کروانا ہے تو ا س کو 1967کی سرحدوں پر واپس جانا پڑے گا ۔یعنی اسرائیل نے فلسطین کے جس جس علاقے پر قبضہ کیا ہے وہ یہ قبضہ چھوڑ کر واپس اپنی اوقات میں جائے۔ہم ایسی صورت میں معاہدہ ابراہمی کو قبول کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔ نمبردو: مقبوضہ بیت المقدس کو دارلحکومت کے ساتھ فلسطین کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست اوریجنل سرحدوں کے ساتھ تسلیم کیا جائے ۔ یہ وہ بنیادی شرائط ہیں جو پاکستان کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کی سوچ بچار کی طرف بڑھنے کی بنیاد ہوسکتی ہیں ۔ یہ دونوں شرائط بھی اسرائیل کو من وعن تسلیم کرنے کی گارنٹی نہیں ہے بلکہ پاکستان کی طرف سے پیشگی شرائط ہیں ۔ان پیشگی شرائط کے پورا ہونے تک پاکستان کبھی بھی اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کا تعلق بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔اور نہ ہی یہاں کسی بھی حکمران چاہے وہ کوئی بھی ہو ۔کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو یہ کام کرنے کی ہمت وہ نہیں کرسکتا ۔اگر کسی شخص کی خواہش یا کسی سپر پاور کے کہنے پر یہ کام ہوسکتا تو پاکستان میں مطلق العنان حکمرانی بھی رہی ۔طاقتور آمر وں کا بھی دور رہا لیکن کشمیر اور فلسطین پر کسی نے پاکستان کے اصولی مو¿قف سے ہٹنے کی ہمت نہیں کی ۔یہی اسرائیل کو ماننے کی حقیقت ہے کہ یہ حقیقت ہوہی نہیں سکتی ۔ناجائز جائز ہی رہے گا جب تک شرائط پوری نہیں کرتا۔
ناجائز جائز ہوسکتاہے؟
09:08 AM, 31 May, 2026