لوگ اپنے محسنوں کوسروں پراٹھاتے اوربٹھاتے ہیں مگر ہم وہ ظالم لوگ ہیں جواپنے محسنوں کو سروں پر اٹھانا وبٹھانا تو دوران کی تعریف کرنابھی مناسب نہیں سمجھتے۔جولوگ اس ملک اورہمارے لئے اپنی جان تک داﺅپرلگاکرکوئی کارنامہ سرانجام دیتے ہیں ان کانام لیتے ہوئے بھی پھرہمیں موت پڑتی ہے۔ایک نہیں ہزاربارہم نے یہ بات دیکھی اورمحسوس کی ہے کہ احسان کے معاملے میں ہم ہمیشہ احسان فراموش نکلے ہیں۔ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم احسان کابدلہ احسان سے نہیں دیتے۔ ذوالفقارعلی بھٹوسے لیکر ڈاکٹر عبدالقدیرخان تک اور جنرل ضیاءالحق سے لیکر میاں نوازشریف تک جتنے بھی قومی محسنوں نے ہم پراحسانات کئے خودسوچیں ہم نے اپنے ان محسنوں کے ساتھ کیاکیا۔؟ مودی کالٹکتاچہرہ ہو یا مشرق سے مغرب اورشمال سے جنوب تک سبزہلالی پرچم کی گونج اوراڑان ہو۔جہاں بھی پاکستان کاسرفخرسے بلند دکھائی دیتا ہے توواللہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اورمیاں نوازشریف جیسے قوم کے عظیم محسن یادآنے لگتے ہیں۔عیدسے اگلادن اٹھائیس مئی تھاجسے وطن عزیزمیں یوم تکبیرکے طورپرمنایاگیا۔ہماری نئی نسل کوشائداس دن کے بارے میں علم نہ ہولیکن پاکستانی تاریخ کایہ وہ عظیم اورتاریخی دن ہے جس دن سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی قیادت میں پاکستان کاسرفخرہمیشہ کے لئے بلندہوا۔ 1998ءمیں چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے کامیاب ایٹمی دھماکوں نے پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنا یا۔ یہ دن صرف ایک سائنسی کامیابی کا نام نہیں بلکہ قومی عزم، قربانی، محنت اور غیرت ملی کی عظیم داستان ہے۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں بے شمار محب وطن سائنس دانوں، انجینئروں، فوجی قیادت اور سیاسی رہنما¶ں نے اہم اورکلیدی کردار ادا کیا۔خصوصاً ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے انتہائی مشکل حالات، عالمی دبا¶ اور محدود وسائل کے باوجود دن رات محنت کرکے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔ ان عظیم شخصیات نے اپنی ذاتی آسائشوں کو قربان کرکے قوم کو ایسا تحفہ دیا جس کی بدولت آج پاکستان دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے قابل ہے۔ آج تولوگ سیاسی اختلاف اورذاتی بغض وعنادمیں میاں نوازشریف کوبہت کچھ کہہ دیتے ہیں لیکن ان سب کوایک بات یادرکھنی چاہئیے کہ میاں نوازشریف کا28 مئی والاایک فیصلہ،ایک کام اورایک اقدام مخالفین کے تمام کاموں اور کارناموں پربھاری بہت بھاری ہے۔میاں نواز شریف جواس وقت وزیراعظم تھے نے شدید عالمی دبا¶، معاشی پابندیوں کی دھمکیوں اور بین الاقوامی مخالفت کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ایٹمی دھماکوں کی منظوری دی۔عالمی دبا¶، معاشی پابندیوں کی مسلسل دھمکیوں کے سائے میں ایٹمی دھماکوں کی منظوری دینایہ کوئی معمولی بات نہیں، ایسے فیصلوں کے لئے بڑے دل اورگردے کی ضرورت ہوتی ہے،ایسے فیصلے وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کے دل میں ملک وقوم کی محبت ہوتی ہے۔ میاں نوازشریف کایہ وہ فیصلہ تھا جس نے پاکستان کے دفاع کو ہمیشہ کے لئے مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ میاں نوازشریف کی سیاسی غلطیوں اور گناہوں کو یاد رکھنے والے ذرہ اس ایک فیصلے اوراہم قومی احسان کو بھی تو یاد رکھیں۔عمران خان کا جیتا ہوا 1992 کا کرکٹ ورلڈکپ اگرہمیں یاد ہے تو 1998کایہ عظیم احسان ہمیں کیوں یاد نہیں۔؟ زندہ قومیں اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرتی ہیں اور نئی نسل کو ان کے کارناموں سے روشناس کراتی ہیں۔ہم کہتے ہیں کرکٹ کے میدان میںملک کوعالمی کپ کاتحفہ دینے پردل سے عمران خان کوبھی خراج تحسین پیش کرنی چاہئے اورملک کوایٹمی قوت کااعزازدینے پرمیاں نوازشریف کایہ عظیم احسان بھی ماننااور نہ بھولنا چاہئے۔ قومی ہیروز کی قدر کرنا زندہ قوموں کی پہچان ہوتی ہے مگرہمارے ہاں ایسانہیں جن شخصیات نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔اس ملک میں ان کے احسانات اور خدمات کو وہ مقام نہ مل سکا جس کے وہ حق دار تھے۔ہم نے ایک روش اختیارکی ہوئی ہے کہ جوبھی عظیم کارنامے ہوتے ہیں یاعظیم شخصیات ہوتی ہیں انہیں اکثر سیاسی اختلافات اور وقتی مفادات کی نذرکرکے ہم ان عظیم خدمات اورکارناموں کوپس پشت ڈال دیتے ہیں۔یومِ تکبیر جیسے قومی اور تاریخی ایام ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قومیں اپنے محسنوں اور ہیروز کو عزت دے کر ہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان تمام افراد کی قربانیوں اور خدمات کو خراج تحسین پیش کریں جنہوں نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنایا اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھی۔ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم نہ صرف اپنے قومی ہیروز کو یاد رکھیں گے بلکہ ان کی محنت، دیانت اور حب الوطنی کو اپنی زندگیوں کا حصہ بھی بنائیں گے۔ یہی یومِ تکبیر کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ان عظیم محسنوں کے لئے بہترین خراجِ عقیدت ہے۔ ہمیں ہردم اورہروقت ان تمام سائنس دانوں، عسکری شخصیات اور سیاسی رہنما¶ں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے جن کی کاوشوں سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا۔ اپنے محسنوں کی قدر کرنا ہی ایک باوقار اور باشعور قوم کی پہچان ہے۔ احسان فراموشی کی چادراب ہمیں دورپھینکنی چاہئے کیونکہ یہ قدرت کاقانون ہے کہ ناشکرے لوگوں کے لئے اللہ کی پکڑ اور عذاب بہت سخت ہے۔ رب ہی توفرماتاہے کہ تم میراشکراداکروگے تومیں تمہیں اورزیادہ دوں گا۔اس لئے شکراورشکریہ اداکرنے والے بنیں احسان فراموش نا۔
اپنے محسنوں کویادرکھیں
09:07 AM, 31 May, 2026