ذی الحج کا پہلا عشرہ، اللہ کی وحدانیت، کبریائی کی بلند آہنگ پکاراور حاضری کی والہانہ لبیک سے گونجتا ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بے مثل حنیفیت، وفاشعاری، عشق الٰہی کی لازوال داستان کو سلامی دینے والے قافلوں کی یک جائی، دنیا کے وسط میں خوبصورت مناظر تخلیق کرتی ہے۔ پرے کیجیے گلوبل مفاداتی خونخوار، کبر جہل، انا، ضد کے کھلاڑیوں کی عالمی سیاست کو۔ عظیم حقائق کی طرف لوٹیے۔ ہم مسلمانوں کا جو عظیم ورثہ ہے۔ ہر روح میں ثبت توحید اور وعدئہ الست کی مہر!
یہ مہینہ ابو الانبیاءابراہیم علیہ السلام کی داستانِ حیات تازہ کرنے کا مہینہ ہے۔ دنیا کے ہر گوشے سے قافلے نکلتے اور دنیا کے مرکز، قلب مکہ معظمہ میں آن اکٹھے ہوتے ہیں۔ جیسے جسم کے ہر کونے کھدرے سے گندہ صفائی طلب خون قلب کی طرف رخ کرتا ہے جسے وہ پھیپھڑوں کی طرف روانہ کرتا ہے تاکہ آکسیجن کی کمی دور کرکے خون میں تازگی بھر دے۔ جسم میں پھرتا پھراتا کاربن ڈائی آکسائڈ سے آلودہ اب آکسیجن سے مالا مال جسم کی طرف دل روانہ کر دیتا ہے نئی توانائی کے ساتھ ۔کچھ ایسا ہی معاملہ دنیا بھر سے سمٹ آنے والے حاجیوں کا خانہ کعبہ میں ہے۔ منیٰ، عرفات سے ایمان تازہ کرکے لوٹیں۔ کفر و نفاق، فتنہ¿ دجال کی آلودگیوں سے میلے کچیلے ہو کر مرکز حیات سے ایمان کی تازگی، اجلا پن لینے آتے ہیںاللہ اپنے بندوں سے چاہتا ہے کہ وہ ہر قدم براہیم سا ایمان پیدا کر لیں۔
آج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستان پیدا!
(قطار اندر قطار سوئے جنت رواں ہم نے یہ ابراہیمی ایمان کے سچے وارثانِ فلسطین میں کیا دیکھا نہیں؟)
اللہ ہر سال اس عظیم خانوادہ¿ ابراہیمی ؑکی پوری داستان کے نقش قدم پر ہر حاجی کو چلاتا ہے۔ اپنے قدموں سے چلو، وہیل چیئر پر چلو، بیٹے کے کندھوں پر چڑھ کر چلو یا لاٹھی پکڑ پکڑ کر! آ¶ میرے پیارے بندوں کے ہاتھ سے تعمیر کردہ خانہ کعبہ پر، اس کا طواف کرو۔ پروانہ وار طواف! اپنی زندگی توحید کے اثبات پر، پورے ثبات کے ساتھ نچھاور کر دو۔ اللہ کی وحدانیت و کبریائی تمہاری عملی زندگی کا مرکز و محور ہے۔ ہر حکمِ خداوندی پر صورتِ ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑو ہاجرہ ؑسرِ تسلیم خم ہو۔ ہر’ اسلم‘ پر وارفتگی سے جواب ہو ’اسلمت لرب العالمین‘۔ اللہ کا حکم آیا: مسلم ہو جا!( اللہ کو الہ واحد، معبود، حاکم مان کر پوری زندگی اس کی اطاعت کو سونپ دے) جواب دیا: مکمل تسلیم و رضا سے (کیوں نہیں!) میں مالک ِکائنات، رب ِکائنات کا ’مسلم‘ (مکمل مطیعِ فرمان )ہو گیا۔ یہ کلمہ ایسا پڑھا کہ مشکل ترین احکام پر نہ صرف خود عمل کیا، وہی عکس اولاد اور زوجاتِ مطہرات میں آیا۔ اب تم مقامِ ابراہیم پر نوافل ادا کرو۔ یکسوئی کے رکوع و سجود! پھر،جا¶ز مزم پیو اسماعیل بن کر!۔
زمزم کے اجزائے ترکیبی: ایمانِ خالص، توکل علی اللہ، اطاعت اللہ کی اور محبوب شوہر کی! اب جا¶ اور سعی کرو۔ مامتا کو خراجِ تحسین کی عظیم علامت۔ دنیا بھر کے مردوں کو ما¶ں اور بیٹے،( بیٹیاں) جننے والی بیویوں کی قدر دانی سکھائی۔ عورت کا بلند ترین مقام حکومتوں، اداروں کے مناصب نہیں، دنیا کو بہترین اولاد سے مزین کرنے کا عمل ہوتا ہے۔ اسماعیل ؑ ہوں یا فاطمہؓ، عائشہؓ!یہ عظیم ترین اعزاز ہے۔ اور جا¶ اب حج کے لیے منیٰ روانہ ہو جا¶۔’ تم نیکی کے مرتبے کو نہیں پا سکتے جب تک محبوب ترین متاع اللہ کے لیے قربان نہ کر دو‘۔ (آل عمران:92) ابراہیم ؑنے بڑھاپے کی اکلوتی اولاد، دل کی ٹھنڈک، آنکھوں کی روشنی کے حلق پر چھری رکھ دی! اللہ کی قبولیت کی شان اور وفورِ محبت اپنے بندے کے لیے ایسا تھا کہ چھری تلے تو آگئے، شہید (مینڈھا ہوا) اسما عیل ؑ نہیں!
حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے من مانے طریقِ ِزندگی پر سوال اٹھایا تھا۔’ آخر اللہ رب العالمین بارے تمہارا گمان کیا ہے؟ یہی سوال 2ارب مسلمانوں کی دنیا پرستی، دین فراموشی پر بھی اٹھتا ہے۔ ڈھائی سال غزہ پر چپکے رہے؟ ظاہری اسلام عبادات، قربانی، حج کے باوجود؟ کون سی خواہشات، محبوبات میرے اور اطاعت ِ الٰہی کے درمیان آکھڑی ہوتی ہیں؟ قرآن و سنت، فرائض و واجبات، طرزِ زندگی میں کہاں کہاں ترجیحاتِ نفس، معاشرہ، اولاد، اقرباءطے کرتے ہیں اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے؟ نعوذباللہ ۔بس شیطان کو ماری جانے والی کنکریوں کا رخ بھی انہی ترجیحات، مادہ پرستی کی طرف ہو۔ ورنہ!سب کہانیاں ہیں۔ یہ کنکریاں جو شیطان کو سچائی سے مار کر اسے لہو لہان کرتی ہیں، شاید وہی فرشتے اٹھا کر اسرائیل کی راہوں پر پھینک آتے ہیں۔ فلسطینی شیر بچوں کی غلیلیں انہی سے بھر کر اسرائیلی قابض فوج کا بھو سا بناتی ہیں! اسرائیلی ہمہ وقت کنکریاں سڑکوں سے صاف کرتے ہیں مگر نہ صرف وہ کبھی کم نہیں ہوتیں۔ تاک کر نشانے پر لگتی ہیں۔ بلبلااٹھتے، زخمی ہوتے اورہمارے بچوں کو اٹھا کر جیلوں میں ڈال دیتے ہیں!
9 ذی الحج، یومِ عرفہ اس عظیم عبادت کی معراج ہے۔ وحدتِ خالق سے پوری انسانیت ایک وحدت قرار پاتی ہے۔ ایک باپ آدم ؑ کی اولاد، تمام انسان برابر، رنگ، نسل، زمین کے تفرقات، لسانی علاقائی امتیازات سے بالاتر۔ سب جھگڑے ختم۔ عالمگیر رشتہ¿ اخوت و مساوات۔ آپ کا خطبہ¿ حج پوری انسانیت سے من و تو کے جھگڑے مٹاکر ایک انسانیت کی لڑی میں ہمیں پرو دیتا ہے۔ ’کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضلیت / برتری حاصل نہیں ہے سوائے تقویٰ کے۔ ‘ اسلام کی آفاقیت! حج میں شانہ بشانہ ہر رنگ، نسل، علاقے کے مسلمان یک جاہیں کفن بر دوش، حالت ِاحرام میں! خود کو روزِ محشر میدانِ حشر میں رب کے حضور لرزاں و ترساں پاتے ہیں۔ سراپا استغفار، رو¿اں رو¿اں عفو طلب!
فتحِ مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلالِ حبشیؓ کو خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دینے کا حکم دیا۔ اس پر کفارِ مکہ میں سے عتاب بن اسید اور حارث بن ہشام تپ اٹھے۔ پہلے نے کہا:’شکر ہے کہ میرا باپ مر گیا اور اس نے یہ دن نہ دیکھا‘۔ حارث بولا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذ باللہ) اس کالے کے سوا کوئی موذن نہ ملا؟ جبرئیل آئے اور آپ کویہ گفتگوئیں سنا دیں۔ آپ نے پرشش کی تو تصدیق دونوں نے کر دی۔ اس پر اللہ کی طرف سے دائماً اصولی طور پر تکریم و عزت کا مقام (الحجرات: 13) طے کر دیا گیا۔’لوگو! میں نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تم کو قبیلوں اور برادریوں میں تقسیم کر دیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت دار وہ ہے جو تقویٰ میں برتر ہے۔‘
آج یہودی (اسرائیلی، صیہونی) برتری کے خمار نے فلسطینی نسل کشی میں درندگی کی انتہا کردی۔ امریکہ، یورپ میں سفید فام برتری کے نشے میں دھت گورے! رنگ دارلوگوں کے خلاف مہمات جاری و ساری ہیں۔17ویں صدی میں افریقہ سے غلام بنا کر لائے جانے والے لاکھوں سیاہ فام 4 صدیوں تک امریکہ (یورپ بھی) میں انسان نہیں سمجھے جاتے تھے۔یہ غلام 400 سال تک پستے رہے۔ سکول، ٹرانسپورٹ، ریسٹورانٹ، چرچ کہیں بھی سیاہ فام، گورے کے ساتھ بیٹھنے کی جرا¿ت نہ کر سکتا تھا۔ اس اذیت ناک تحقیر اور تعصبات سے نکل کر میلکم ایکس ،ایک امریکی سیاہ فام جوبرائے نام اسلامی تنظیم ’نیشن آف اسلام‘ کے تحت مسلمان ہو کر حج پر آیا۔ دل میں ہر سفید فام کے لیے (برتا¶ کی بنا پر ) نفرت سے بھرا تھا۔ اس نے حج پر جو عزت، مساوات، محبت، انسانیت کی تکریم کے مظاہردیکھے تو کہا: ’میں ایک ہفتے سے مسحور اور گنگ ہوں۔ امریکہ کو اسلام سمجھنے کی ضرورت ہے جو معاشرے سے رنگ، نسل کے تمام تفرقے، جھگڑے مٹا دیتا ہے۔ میں نے مسلمانوں کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھایا، ایک گلاس میں پانی پیا، ایک ہی خدا کے آگے تمام سجدہ ریز ہوئے۔ جن کی آنکھیں گہری نیلی، بال بے انتہا سنہری اور چہرے امریکی سے زیادہ سفید فام تھے۔ شاہ فیصل نے مجھے شاہی مہمان بنایا۔ گاڑی، ڈرائیور، گائیڈ میرے ساتھ متعین رہا۔ جہاں بھی میں گیا بے پناہ عزت و احترام مجھ سیاہ فام پر نچھاور ہوا۔ تمام تعریف اللہ ہی کی ہے۔‘یہ ہے حج کی روح جو آج خود مسلم معاشروں میں بھی وی آئی پی کلچر کی بھینٹ چڑھ چکی!۔
ایران امن مذاکرات کی آڑ میں عین حج کے مقدس موقعہ پر ٹرمپ نے سعودی عرب،قطر اور پھر پاکستان،مصر، اردن اور ترکیہ سے معاہداتِ ابراہیمی پر دستخط اور اسرائیل کے ساتھ مکمل تعلقات استوار کرنے کاحکم نامہ جاری فرمایا ! عشرہ¿ حج میں دو ارب امت کی اس سے بڑی توہین ممکن نہیں!تفو بر تو اے صیہونی امریکی گٹھ جوڑ! ابراہیمی سرزمین پر نمرودی معاہدہ؟۔
....براہیم ؑ سا ایماں پیدا
09:07 AM, 31 May, 2026