امریکا نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر دی ہے اور جنگ بندی کی توسیع ساٹھ روز تک بڑھانے کی یاداشت پر دستخط کر دئیے ہیں امید کی جا سکتی ہے کہ اس حوالے سے باضابطہ معاہدہ طے پا جائے گا۔
بہت اچھی بات ہے کہ فریقین کے مابین خوشگواریت پیدا ہونے لگی ہے۔ ہونی بھی چاہیے کیونکہ جنگ کرکے دیکھ لی ہے اگرچہ اس وقت بھی تھوڑی کشیدگی پائی جاتی ہے مگر جب ساٹھ روزہ جنگ بندی پر معاہدہ طے پا جائے گا تو معاملات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔ در اصل امریکا کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ ایران کو طاقت سے دبایاجا سکتا ہے نہ ہی جھکایا جا سکتا ہے آئندہ بھی وہ طویل مدت تک کوئی جنگ کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔ اس کے پاس اعلیٰ درجے کی جنگی ٹیکنالوجی موجود ہے جس نے حالیہ جنگ میں دنیا کو حیران کر دیا بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پریشان کر دیا کہ اب اس سے ٹکرانا ناممکن ہو گا کہ جو ملک بیک وقت اسرائیل اور امریکا سے مقابلہ کر سکتا ہے اس کے سامنے دوسرے ملکوں کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے۔ بات وہی کہ امریکا کو ایران کے بارے میں مکمل معلومات نہیں تھیں کہ وہ اسلحی اعتبار سے کس قدر آگے جا چکا ہے ان دونوں ملکوں نے تو اسے گاجر مولی سمجھا اور سوچا کہ اِدھر ہم اس پر بمباری کریں گے ا±دھر وہ ڈھیر ہو جائے گا اور ان کے قدموں میں آن گرے گا مگر ایسا نہیں ہوا اور جو ہوا اس نے انہیں ہلا کر رکھ دیا۔ اس کے تمام ذخائر اور کارخانے زیر زمین ہیں جنہیں تباہ کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ پورا زور لگا لیا امریکی بی 52 نے کہ پاتال میں جو ہے اسے تباہ کر دیا جائے مگر ناکام رہے وہاں تک پہنچنا ان کے بس میں نہیں تھا اور ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کے ساتھ روس چین اور شمالی کوریا نے بھر پور تعاون کیا‘ کر رہے ہیں یہ جتنی بھی نشانہ بازی کی گئی اس کا علم چین کو ہوتا تھا لہذا اس نے ٹھیک ٹھیک نشانے لگوائے‘ لگواتے رہیں گے کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اسرائیل اور امریکا ایران میں رجیم چینج کرکے اپنی کٹھ پتلی حکومت کے ذریعے اس خطے میں اپنی چودھراہٹ قائم کر لے اور بڑی طاقتیں یہ سب اپنے سامنے اس کا سازشی کھیل دیکھتی رہیں لہذا باقاعدہ ایک حکمت عملی اپنائی گئی اور امریکا و اسرائیل کو شش و پنج میں ڈال دیا گیا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسرائیل پر میزائلوں کی بارش ہو سکتی ہے اگرچہ اس نے اپنا ہوائی دفاع کر رکھا تھا مگر اس کو ایرانی ٹیکنالوجی نے تہس نہس کر دیا جس طرح اسرائیل نے غزہ کو کھنڈر بنایا اس طرح اس کے سینکڑوں مقامات کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا اس کے باوجود کہ ایران کی طاقت ان دونوں ملکوں پر واضح ہو گئی وہ جنگ کو طول دینا چاہ رہے تھے اسرائیل کی تو اب بھی یہی خواہش ہے مگر امریکا ایسانہیں چاہتا کیونکہ ہر مہذب ملک اس جنگ کو غیر قانونی قرار دے رہا ہے اسی لئے ہی یورپی ملکوں نے ٹرمپ کا ساتھ نہیں دیا ان کے عوام نے سڑکوں پر آکر باقاعدہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا خود امریکی عوام نے ڈونلڈ ٹرمپ کو غلط ثابت کیا۔اس وقت ٹرمپ کی مقبولیت بہت نیچے آچکی ہے کیونکہ امریکی عوام کو معاشی مسائل کا سامنا ہے ان کا معیار زندگی گِر رہا ہے۔ وہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے متفق نہیں کہ ان کی وجہ سے امریکی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔ دفاع کے لئے اتنا بھاری بجٹ رکھا جا رہا ہے کہ غربت میں اضافہ ہونے لگا ہے لہذا وہ جنگ نہیں امن اور خوشحالی چاہتے ہیں مگر حکمران طبقہ جمہوریت کی آڑ میں ان کا استحصال کر رہا ہے اور چند فیصد ملک کی مجموعی دولت پر قابض ہیں جس سے عوام کے حالات بگڑ رہے ہیں اور اگر کوئی عالمی جنگ چھڑ جاتی ہے تو پھر وہ یقیناً فٹ پاتھ پر آجائیں گے لہذا انہوں نے اپنی حکومت کو واضح طور سے کہہ دیا ہے کہ وہ جنگوں کی سیاست کو الوداع کہیں اور ہر ملک کی سالمیت و وجود کو تسلیم کریں ان کو اسلحہ و بارود کے ذریعے کنٹرول کرکے وہاں کے وسائل کو ہتھیانا جائز نہیں۔اس لئے ہی ٹرمپ نے امن کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے مگر پاکستان کا کردار بھی نمایاں ہے کہ اس نے ان ملکوں کو جنگ بندی پر آمادہ کیا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں سے فریقین مل بیٹھے ہیں۔ فیلڈ مارشل سمجھتے ہیں کہ جنگ میں کسی کی بھی جیت نہیں ہو گی مگر ان کا نقصان بے بہا ہو گا‘ ہو چکا ہے ان کا نقصان الگ جو نقصان خطے کے ممالک کا ہو رہا ہے اس کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔ تیل کی بندش نے زندگی کے ہر شعبے کو بری طرح سے متاثر کیا ہے کیونکہ ہمارے ہاں پٹرول کی قیمت کافی بڑھ چکی ہے اگرچہ حکومت بتدریج کم بھی کر رہی ہے مگر پھر بھی عام آدمی کے لئے زیادہ ہے جس سے کاروبار حیات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔
بہرحال جلد از جلد امریکا اور ایران کو صلح صفائی کے لئے اپنے اندر لچک پیدا کرنی چاہیے کیونکہ دنیا امن کی متلاشی ہے اسے جنگوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہے کہ ابراہام اکارڈ کو ٹرمپ بیچ میں کیوں لے آئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایران سے معاہدہ سے پہلے اس پر دستخط کرنا ہوں گے؟ جن ملکوں کو کہا گیا ہے ان میں پاکستان بھی شامل ہے مگر جب تک فلسطین کا مسلہ حل نہیں ہوتا اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا اگر چہ ابراہام اکارڈ کے مطابق فلسطین کو ایک ریاست کے طور سے مان لیا جائے گا اور اس کا محل وقوع اردن کے کچھ علاقہ پر محیط ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ اس پر عمل درآمد کروا سکیں گے کیونکہ وہ آج کچھ کہتے ہیں تو کل کچھ اور ان کے مزاج میں ٹھہراو¿ نہیں لہذا یہ باتیں بس باتیں ہی لگتی ہیں لہذا پہلے ایران کے ساتھ معاہدہ ہونا چاہیے بعد میں ابراہام کارڈ کے بارے میں غور کیا جائے اور اس میں فلسطینیوں کی خواہشات کو پیش نظر رکھا جائے تب ہی بیل منڈھے چڑھے گی۔ زبردستی کچھ نہیں ہو گا جو ہوگا وہ ناپائیدار ہو گا؟۔
ایران امریکا ایک دوسرے کے قریب آنے لگے ؟
09:06 AM, 31 May, 2026